پاکستانی ہیکرز نے سابق افغان حکومت کو نشانہ بنایا

سماجی رابطے کی سب سے بڑی ویب سائٹ فیس بک کی جانب سے کہا گیا ہے کہ افغانستان پر طالبان کے قبضے کے دوران پاکستان سے ہیکرز نے گزشتہ حکومت سے تعلق رکھنے والے افغان شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے فیس بک کا استعمال کیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی انڈسٹری میں سائیڈ کاپی کے نام سے معروف گروپ نے ویب سائٹس کے لنک شیئر کیے جس سے لوگوں کی جاسوسی کی جا سکتی تھی ۔ ہدف بننے والوں میں کابل میں حکومت، فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے منسلک افراد حصہ تھے۔
سوشل میڈیا کمپنی کا کہنا تھا کہ گروپ نے اہداف کو جھانسہ دیے کر فشنگ لنکس پر کلک کرنے یا بدنیتی پر مبنی چیٹ ایپس کو ڈاؤن لوڈ کروانے کے لیے ’رومانوی جھانسے کے طور پر‘ نوجوان خواتین کی فرضی شخصیتیں تخلیق کیں۔کمپنی کا کہنا تھا کہ انہوں نے قانونی طور پر جائز ویب سائٹس میں مداخلت کی تا کہ لوگوں کی فیس بک اسناد میں رد وبدل کرسکیں۔
فیس بک کے سائبر جاسوسی کی تحقیقات کے سربراہ مائیک ولیانسکی نے کہا کہ ’خطرے کے محرک کے ہدف کے بارے میں قیاس آرائی کرنا ہمارے لیے ہمیشہ مشکل ہوتا ہے، ہم نہیں جانتے کہ کس پر حملہ ہوا یا اس کا حتمی نتیجہ کیا نکلا۔فیس بک، ٹوئٹر انک، الفابیٹ انک کے گوگل اور مائیکرو سافٹ کارپوریشن کی لنکڈ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ملک پر طالبان کے قبضے کے دوران افغان صارفین کے اکاؤنٹ لاکڈ کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے۔
فیس بک کا کہنا تھا کہ ہیکنگ مہم میں اپریل سے اگست کے عرصے میں تیزی آئی لیکن کمپنی نے افغانستان میں اپنے ملازمین کے حفاظتی خطرات اور نیٹ ورک کی مزید تحقیقات کرنے کی ضرورت کی وجہ سے پہلے اسے بے نقاب نہیں کیا۔
کمپنی کا کہنا تھا کہ اس نے آپریشن کو ختم کرنے کے وقت امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ساتھ معلومات شیئر کی تھیں جو بظاہر وسائل سے مالامال اور مستقل دکھائی دیا۔تفتیش کاروں نے یہ بھی کہا کہ فیس بک نے گزشتہ ماہ دو ہیکنگ گروپس کے اکاؤنٹس کو غیر فعال کر دیا تھا جنہیں اس نے شام کی فضائیہ کی انٹیلی جنس سے منسلک قرار دیا۔
فیس بک کا کہنا تھا کہ سریئن الیکٹرانک آرمی کے نام سے ایک گروپ نے حکومت کے مخالف انسانی حقوق کے رضاکاروں، صحافیوں اور دیگر افراد کو نشانہ بنایا جبکہ اے پی ٹی-سی-37 نامی گروپ نے فری سیریئن آرمی اور اپوزیشن قوتوں می شامل ہونے والے سابق فوجیوں کو نشانہ بنایا۔
کمپنی کے عالمی خطرات کو روکنے والے شعبے کے سربراہ ڈیوڈ اگرانووِچ نے کہا کہ شام اور افغانستان کے کیسز ظاہر کرتے ہیں کہ سائبر جاسوسی گروپوں نے تنازعات کے دوران غیر یقینی صورتحال کا فائدہ اٹھایا جب لوگ ہیرا پھیری کا زیادہ شکار ہو سکتے ہیں۔
