پاکستان اپنا شہری امریکہ کے حوالے کیوں کر رہا ہے؟

امریکہ میں 40 برس مقیم رہنے والے میڈیکل سٹور کے مالک ایک پاکستانی نژاد امریکی شہری مجاہد پرویز کو وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد امریکہ کے حوالے کیا جا رہا ہے کیونکہ امریکہ کی عدالت میں اس کے خلاف سرکاری طبی پروگرام میں تین کروڑ ڈالرز کے فراڈ کا کیس چل رہا ہے جبکہ امریکہ اسکے ریڈ وارنٹ بھی جاری کر چکا ہے۔
مجاہد پرویز کو چار برس پاکستان میں قید رکھنے کے بعد بالآخر وفاقی کابینہ نے امریکہ کے حوالے کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ اعلان وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے 3 اگست کو کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں کیا۔ پاکستانی نژاد امریکی شہری مجاہد پرویز امریکہ کو تین کروڑ ڈالر کے فراڈ میں مطلوب ہے۔ وہ 2012 میں امریکہ میں اپنے خلاف قانونی کارروائی شروع ہونے کے بعد پاکستان پہنچا مگر امریکہ کی جانب سے ریڈ وارنٹ جاری ہونے کے بعد اسلام آباد میں گرفتار کر لیا گیا۔ گزشتہ سال مئی میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے مجاہد پرویز کی درخواست ضمانت منظور کی تھی۔ 72 سالہ مجاہد پرویز جسے پیٹر پرویز کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، امریکہ میں اپنا میڈیکل سٹور چلاتا تھا۔ اس پر امریکہ کے سرکاری پروگرام میڈی کیڈ کے ساتھ اپنی فارمیسز کے جعلی میڈیکل بلوں کے ذریعے کروڑں ڈالر کے فراڈ کا الزام تھا۔ امریکی عدالتی دستاویزات کے مطابق وہ 1991 میں میڈی کیڈ کے ساتھ مبینہ فراڈ میں ملوث پایا گیا تھا جس کے بعد اسکا فارمیسی لائسنس معطل ہو گیا تھا اور اسکے میڈیکل سٹورز کو میڈی کیڈ پروگرام سے باہر کر دیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ میڈی کیڈ امریکہ کا سرکاری پروگرام ہے جس کے تحت مستحق شہریوں کی ادویات کے پیسے براہ راست سٹورز کو مریضوں کے بلز کی بنیاد پر دیے جاتے ہیں۔ دستاویزات کے مطابق میڈی کیڈ کی جانب سے ان پر فارمیسز کے کاروبار پر پابندی کے بعد اس نے بیٹے کے نام پر نیویارک اور لانگ آئی لینڈ میں گیارہ فارمیسز کھول کر مبینہ طور پر دوبارہ فراڈ کیا۔ ان فارمیسز پر الزام تھا کہ ان کے ذریعے سرکاری خزانے سے ایسے بلوں کے پیسے وصول کیے گئے جن پر مریضوں کو کوئی ادویات نہیں دی گئی تھیں بلکہ کئی مریضوں کو کچھ کیش دے کر ان سے ڈاکٹرز کے مہنگے نسخے لیے گئے تاکہ ان کی بنیاد پر سرکار سے وصولی کی جا سکے۔ مئی 2012 میں ملزم سے اس کے وکیل کی موجودگی میں سپیشل اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کرسٹوفر شاہ نے تحقیقات کیں اور اسے بتایا کہ اسکے خلاف کریمینل چارجز پر انکوائری ہو رہی ہے۔ تاہم ستمبر 2012 میں وہ امریکہ سے پاکستان پہنچ گیا۔ جون 2013 میں اس کی گرفتاری کے لیے امریکی عدالت نے وارنٹ جاری کیے، چونکہ وہ امریکہ سے روانہ ہو چکا تھا اس لیے امریکی محکمہ انصاف اور انٹر پول کی مدد سے اسکے لیے ریڈ وارنٹ جاری کیا گیا اور پاکستانی حکومت سے رابطہ کیا گیا۔ پاکستان اور امریکہ میں مجرمان کی حوالگی کا معاہدہ تھا اس لیے اسکی گرفتاری کے لیے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے دفتر سے وارنٹ جاری ہوئے اور ملزم کو اکتوبر 2015 میں گرفتار کر لیا گیا۔
بعد ازاں امریکہ نے وزارت خارجہ کے ذریعے مجاہد پرویز کی حوالگی کا مطالبہ کیا تھا اور درخواست کی تھی کہ ملزم کی حوالگی تک اسے حراست میں رکھا جائے۔ تاہم حوالگی کے قانون سنہ 1972 کی سیکشن 12 کے تحت ایک ملزم کو دو ماہ کے اندر حوالے کرنا ہوتا ہے۔ اس لیے ساڑھے چار سال حراست میں رہنے کے بعد گزشتہ سال مئی میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس کی ضمانت منظور کر لی تھی اور کرونا کی وبا کے باعث ادے امریکہ کے حوالے نہیں کیا جا سکا تھا۔ اسکی امریکہ حوالگی کے لیے وفاقی کابینہ کی منظوری بھی درکار تھی جو اب دے دی گئی ہے اور ملزم کو جلد امریکی حکام کے حوالے کر دیا جائے گا۔
