پاکستان میں امریکی ڈالر کی اونچی پرواز کیوں؟


پاکستان میں دو مہینوں کے دوران مقامی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت 163.70 روپے تک پہنچ گئی ہے اور اس کی قدر میں اضافے کا رجحان مسلسل جاری ہے۔امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں گراوٹ سے ملکی شرح مبادلہ عدم توازن کا شکار ہے، اور ملکی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے بیرون ملک سے منگوائی جانی والے گندم اور چینی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگا۔
ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کے بارے میں کرنسی بازار میں کام کرنے والے افراد مختلف وجوہات بتاتے ہیں جن میں دیگر عوامل کے ساتھ پاکستان کے پڑوس میں افغانستان میں حکومت اور طالبان میں جاری جنگ بھی ہے۔ کرنسی بازار میں کام کرنے والے افراد کے مطابق افغانستان کی بگڑتی صورت حال نے پاکستان کے بارے میں بھی خدشات کو جنم دے رکھا ہے جس کی وجہ سے ملک میں ڈالر بھی کم آ رہے ہیں۔ اس کی ایک مثال پاکستان انوسٹمنٹ بانڈ میں جولائی کے مہینے میں آنے والی زیرو سرمایہ کاری ہے جو ان کے مطابق عالمی سرمایہ کاروں کی جانب سے محتاط پالیسی کی علامت ہے۔ اس وقت ملکی کرنسی بازار میں امریکی ڈالر کی قیمت 163.70 پاکستانی روپے کی حد عبور کر چکی ہے اور اگر اس کا مقابلہ مئی کے مہینے سے کیا جائے تو مقامی کرنسی کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں سات فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے۔ رواں برس مئی کے مہینے میں ایک امریکی ڈالر کی قیمت 152 پاکستانی روپے تھی جو 2020 میں 168 روپے تک اوپر جا کر واپس اس سطح پر گری تھی۔ تاہم مئی کے بعد ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا اور دو مہینوں میں اس کی قدر میں اضافہ ہو کر قیمت 163.70 روپے ہو گئی۔
کرنسی شعبے کے ماہرین کے مطابق 30 جون 2021 پر مالی سال کا اختتام جاری کھاتوں کے خسارے کے ساتھ ہوا جس نے مقامی کرنسی کو ڈالر کے مقابلے میں کافی کم کیا۔
رواں سال جون اور جولائی کے مہینوں میں ڈالر کی قیمت میں ہونے والے اضافے کو کرنسی کے ماہرین مختلف وجوہات سے جوڑتے ہیں جن میں ڈالر کی بڑھتی ہوئی طلب جو درآمدات کے لیے ضروری ہے کیونکہ پاکستان کی درآمدات میں حالیہ مہینوں میں کافی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔تحریک انصاف کی حکومت جو درآمدی بل میں کمی لا کر تجارتی خسارے اور جاری کھاتوں کے خسارے کو کم کرنا چاہتی ہے، اسے گندم، چینی اور کپاس کی بڑے پیمانے پر درآمد کرنا پڑی جس نے درآمدی بل میں بہت زیادہ اضافہ کیا۔ایکسچیج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکرٹری ظفر پراچہ نے بتایا کہ صرف پچھلے ماہ کی درآمدات کو لیا جائے تو یہ چار بلین ڈالر سے بڑھ کر چھ بلین ڈالر ہو گئیں جس کی وجہ سے ڈالر زیادہ بڑی تعداد میں بیرون ملک گیا اور اس سے مقامی کرنسی پر اثر پڑا۔
فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر ملک بوستان کا کہنا ہے کہ یہ صحیح ہے کہ تجارتی خسارے نے ڈالر کے مقابلے میں مقامی روپے پر بہت زیادہ دباؤ ڈالا کیونکہ ڈالروں کی طلب بہت زیادہ رہی تاہم اس کے ساتھ یہ اطلاعات بھی ڈالر کی قیمت میں اضافے کا سبب بنی کہ پاکستان کو اس سال بیرونی قرضے کی ادائیگی کے لیے 20 ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔‘
ماہر معیشت خرم شہزاد نے بیرونی ادائیگیوں کے لیے ڈالر کی ضرروت کو امریکی ڈالر کی قدر میں موجودہ اضافے کی وجہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پڑوسی ملک افغانستان میں گزشتہ کئی ہفتوں سے حکومت اور طالبان کے درمیان جاری لڑائی نے پاکستان کی کرنسی مارکیٹ پر بھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی اور بگڑتی صورت حال کے باعث پاکستان سے افغانستان جانے والی برآمدات مکمل طور پر رک گئی ہیں تو دوسری جانب خطے کی صورت حال کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کاری بھی نہیں ہو رہی۔ جو جولائی کے مہینے میں پاکستان انوسٹمنٹ بانڈز یعنی پی آئی بی میں ہونے والی سرمایہ کاری کے اعداد و شمار سے واضح ہے۔ یہ بانڈ حکومتی سیکورٹی ہوتے ہیں جن میں آنے والے سرمائے کو پاکستان حکومت بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔
جولائی کے مہینے کے اعداد و شمار کے مطابق ان بانڈز میں کوئی سرمایہ کاری نہیں ہوئی حالانکہ ان کا شرح منافع بہت پرکشش ہے اور دوسری مارکیٹوں کے مقابلے میں ان میں سرمایہ کاری کا بہت اچھا ریٹرن حاصل ہوتا ہے۔ اسی طرح ان بانڈز میں ہونے والی سرمایہ کاری میں سے جولائی کے مہینے میں 8.3 ملین ڈالر نکل گئے جس کی وجہ سے ڈالر کی ڈیمانڈ میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

Back to top button