پاکستان میں انار کہاں سے آتا ہے؟

بلوچستان میں اس موسم میں انار کی بھرمار نظر آتی ہے جبکہ صوبائی دارلحکومت کوئٹہ میں تو کچھ زیادہ ہی نظر آتے ہیں۔ جن کو فروخت کیلئے ملک بھر میں بھیجا جاتا ہے۔ تاہم ملک کے اکثر علاقوں میں یہ تاثر عام ہے کہ یہ کھٹا میٹھا پھل بلوچستان سے آتا ہے۔ ’چمن کا انار‘ ملک بھر میں اپنا مقام رکھتا ہے۔ لیکن کیا یہ تاثر درست ہے؟یہ تاثر کافی حد تک درست نہیں کہ انار بلوچستان میں کاشت کیے جاتے ہیں۔ جو انار کوئٹہ سے پاکستان کے دیگر شہروں میں جاتے ہیں وہ زیادہ تر افغانستان سے آتے ہیں۔
یہ انار افغانستان کے صوبہ قندہار سے آتے ہیں جہاں انار کے بڑے باغات ہیں۔ حتیٰ کہ یہ باغات قندہار شہر کے گرد و نواح میں بھی کئی کلو میٹر پر پھیلے ہوئے ہیں۔اچھی قیمت کے لیے افغان کاشتکار انار کی پیداوار کا ایک بڑا حصہ سرحدی شہر چمن کے راستے پاکستان بھیجتے ہیں۔

بلوچستان میں زمیندار ایکشن کمیٹی کے سیکریٹری جنرل حاجی عبد الرحمان بازئی نے بتایا ہے کہ اس وقت یہاں جو انار دستیاب ہیں ان کا دو تہائی حصہ قندہار سے آیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اب پانی کی قلت کے باعث بلوچستان میں بھی لوگ سیب کے باغات کی جگہ انار کے باغات لگا رہے ہیں جس کے باعث اب بلوچستان میں بھی انار کی پیداوار میں اضافہ ہو رہا ہے۔
زمیندار ایکشن کمیٹی کے رہنما کے مطابق قندہار میں انار کی کاشت نہری پانی سے کی جاتی ہے جبکہ قندہار کا ماحول انار کے باغات کے لیے زیادہ مناسب ہے۔ اس لیے قندہاری انار کی کوالٹی زیادہ بہتر ہوتی ہے۔یہ انار نہ صرف دیکھنے میں جاذبِ نظر ہیں بلکہ مٹھاس میں بھی اپنی مثال آپ ہیں۔
انار کی کئی اقسام ہیں لیکن انار فروخت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ان میں کاغذی، سرخ اور بے دانہ زیادہ مشہور ہیں۔بے دانہ انار وہ ہے جس کے دانے میں گُٹلی نہیں ہوتی۔

