پاکستان میں انتہا پسندی اور جنونیت کی آندھی چلنے کا خطرہ


سینئر صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے افغانستان میں طالبان کی جیت کے بعد پاکستان میں انتہا پسندی اور جنونیت کی آندھی چلنے کے خدشات کا اظہار کر دیا ہے۔
ہفت روزہ فرائیڈے ٹائمز میں اپنے تازہ ایڈیٹوریل میں نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ افغان طالبان نے امرخکہ سے گفتگو جاری رکھی اور جنگ بھی۔ اور وہ جیت گئے۔ امریکی باتیں کرتے اور بھاگتے رہے۔ اور وہ جنگ ہار گئے۔ اس انجام کی پیش گوئی 2020ء میں کی جا چکی تھی جب صدر ٹرمپ نے افغانستان سے انخلا کا اعلان تو کردیا لیکن کابل میں تمام دھڑوں کی شمولیت رکھنے والی نگران حکومت قائم نہ ہوسکی۔ لیکن سیٹھی کہتے ہیں کہ جو کچھ کابل میں دیکھنے میں آیا ہے، اس کی توقع تو کسی کو بھی نہیں تھی۔ صدر بائیڈن کو تو ہرگز نہیں تھی جنہوں نے غیر مشروط طور پر ستمبر میں طے شدہ انخلا کی تاریخ پیچھے کر دی۔ اُن کا خیال تھا کہ افغان نیشل آرمی کم از کم مزید ایک سال تک لڑ سکتی ہے۔ اُن کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ محض دس دنوں کے اندر افغان نیشنل آرمی اپنا بوریا بستر سمیٹ لے گی اور صدر غنی ملک سے فرار ہو جائیں گے۔
نجم سیٹھی کے مطابق طالبان کی شان دار حکمت عملی گوریلا جنگ کے اصولوں کی بنیاد پر تھی۔ یعنی وقت کا انتظار کرتے ہوئے پاؤں رکھنے کی جگہ بنائیں اور دشمن کی لڑنے کی سکت کو پست کردیں۔ یہ عسکری تھیوری 1930ء کی دہائی میں چین میں ماؤ زی تنگ، اور پھر 1960ء کی دہائی میں ویت نام میں ہوشی من نے اپنائی تھی۔اپنی حکومت کے 2001ء میں خاتمے کے بعد طالبان نے پاکستانی سرحد کے دونوں طرف اپنی گروہ بندی کی، خود کو منظم کیا اور 2010ء کے بعد سے ان کی دلیری اور جارحیت میں واضح اضافہ دیکھنے میں آنے لگا۔ 2020ء میں امریکا کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد اُنہوں نے ملنے والے وقت کااستعمال کرتے ہوئے امریکا کی کابل کے لیے کسی ممکنہ مخلوط حکومت کا راستہ بھی روکا اور شمالی افغانستان پر توجہ دیتے ہوئے وہاں اپنے قدم بھی جمائے۔ اس سے پہلے یہ خطہ طالبان مخالف جنگجوؤں کی آماجگاہ تھا جو 1997-2001 میں اُن کی حکومت کے لیے چیلنج بنے رہے تھے، اور اُن کے ہاتھوں طالبان کو زک بھی پہنچی تھی۔
سیٹھی کہتے ہیں کہ یلغار کے وقت طالبان کی اپنائی گئی جنگی حکمت عملی بہت کامیاب رہی۔ یعنی ان کی حکمت عملی یہ پروپیگنڈہ کرنا تھا کہ ”امریکی تو یہاں سے جا رہے ہیں، تم بھی ہتھیار ڈالو اور گھر جاؤ۔ ہم تم سے انتقام نہیں لیں، تمہیں نقصان نہیں پہنچائیں گے۔“ اس حکمت عملی کا اُنہیں بہت فائدہ ہوا۔ آخری مرحلے میں جب امریکی فضائی کمک سے ہاتھ کھینچنے لگے، اپنے کمانڈروں، تربیت دینے والوں، کنٹریکٹروں کو واپس امریکہ لیجانے کا عمل شروع کردیا، فضائی حملے ختم کر دیے تو اگلے محاذوں پر موجود دستے فرار ہونے لگے۔ افغان نیشنل آرمی امریکا کی تیارکردہ جنگی مشین کے اہم عناصر سے محروم ہونے پر تنکوں کی طرح بکھر گئی۔ غنی حکومت کے علاوہ افغان نیشنل آرمی کے افسران کی ہوشربا بدعنوانی اور ایوان صدر سے فوجی کمانڈروں کے متواتر تبادلے بھی فوج کی حوصلہ شکنی کا باعث بنے۔ یکے بعد دیگرے صوبے طالبان کے سامنے ہتھیار ڈالنے لگے اور جب امریکی فوجی بھی وطن واپسی کے لیے طیاروں بیٹھے تو کابل کا گھیراؤ مکمل ہو چکا تھا۔
نجم کے مطابق اشرف غنی کی سب سے بڑی غلطی پاکستان کے ساتھ محاذ گرم رکھنا اور انڈیا کے ساتھ دوستی بڑھانا تھا۔ پاکستان اس کھیل کا ایک اسٹیک ہولڈر تھا۔ اب یہ بات درست ہے یا غلط، حقیقت یہی ہے کہ افغانستان میں پاکستان کا اسٹیک چالیس سال پر محیط ہے۔ اگر کابل کھل کر اسلام آباد سے دوستی نہیں کر سکتا تو اسے کھل کر دشمنی بھی نہیں کرنی چاہیے۔ اس طرح پاکستان اور افغان طالبان درپردہ قدرتی اتحادی ہیں۔ امریکی بھی غلطی کرگئے جب اُنہوں نے 2020 کے معاہدے پر دستخط کیے لیکن طالبان کے مطالبے کے مطابق اشرف غنی کی جگہ کوئی اور قابل قبول متبادل آپشن نہ لائے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اب کیا ہو گا؟

سیٹھی کے مطابق امریکا میں صدر بائیڈن کو توقع تو تھی کہ وہ امریکی تاریخ کی طویل ترین جنگ ختم کرکے ”لڑکوں کو گھر واپس لانے“ پر عوامی پذیرائی حاصل کریں گے، لیکن ہوا یہ کہ کابل سے انخلا نے سائیگون، ویت نام میں اٹھائی گئی ہزیمت کی یاد تازہ کردی۔ اب صدر بائیڈن کو عوامی تنقید کا سامنا ہے۔ اُن کی انخلا کی پالیسی کی ڈیموکریٹس اور رپبلکنز میں حمایت 70 فیصد سے گرکر 50 فیصد سے بھی کم رہ گئی ہے۔ دکھائی یہ دیتا ہے کہ امریکا اپنی شکست پر پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانے کی کوشش کر سکتا ہے۔ پاکستان مخالف بیانیہ ”حقانی نیٹ ورک کو آئی ایس آئی کا فعال بازو“، انتہا پسندوں کو ”محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے“ اور ”دہرا کھیل کھیلنے“ کے گرد گھومتاہے۔ اگر اس پر دباؤ ڈالا جاتا تو اسلام آباد کی ناراضی افغانستان میں مفاہمت سے حکومت قائم کرنے کی عالمی کوششوں کو پٹری سے اتار سکتی تھی۔ وہ حکومت جو انسانی حقوق کی پاسداری کرتی۔
دوسری جانب افغانستان میں طالبان سے توقع ہی کی جا سکتی ہے کہ ماضی کی نسبت تبدیل شدہ رویے کا مظاہرہ کرتے ہوئے کم از کم دیگر فریقوں کو بھی اقتدار میں شامل کریں گے۔ تاہم اصل طاقت اور پالیسی سازی کا اختیار اُن کے ہاتھوں میں ہی ہوگا۔ شروع میں تو وہ امیر المومنین یا ایران کی طرز پر سپریم لیڈر، جو چنے گئے وزرا کی کونسل کے اوپر ہو گا، کی قیادت میں ملک کو چلائیں گے۔ اس دوران اُنہیں عالمی شناخت اور تسلیم کیے جانے کی بھی ضرورت محسوس ہوگی۔ اس کے لیے وہ علاقائی طاقتوں، جیسا کہ روس، چین، ایران، وسطی ایشیائی ریاستوں اور پاکستان کے خدشات کم کرنے کی کوشش کریں گے۔ معاشی تعاون کے بدلے انتہا پسندوں، دھشت گردوں اور علیحدگی پسندوں کو اپنے ہاں پناہ نہ دینے کا وعدہ کریں گے۔ عالمی برداری کے لیے وہ اسلامی حکومت کے اندر انسانی حقوق کو مغربی آزادی اور جمہوریت کے تصورات کے مقابل پیش کریں گے۔
اپ گریڈ، یا تبدیل شدہ طالبان (جسے 2.0 سافٹ وئیر کہا جارہا ہے) کی حکومت کو یہ عامل بنا بھی سکتے ہیں اور بگاڑ بھی سکتے ہیں۔ القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان، مشرقی ترکمانستان کی تحریک،داعش اوربلوچ علیحدگی پسند افغان سرزمین سے آسانی سے بے دخل نہیں ہوں گے اور نہ ہی کسی آسان طریقے سے اُنہیں ختم کیا جا سکتا ہے۔ آزاد کردہ ہزاروں قیدی اب تک اُن کی صفوں میں شامل ہو چکے ہوں گے۔ اگر وہ عناصر سرحد پار اپنی کارروائیاں کرتے ہیں تو طالبان کا ہمسایوں کے ساتھ تناؤ بڑھے گا۔ اگر القاعدہ امریکی سرزمین پر حملہ کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے اور اس حملے کے قدموں کے نشانات افغانستان میں ملتے ہیں تو امریکا پر انتقام لینے کا دباؤ ہوگا۔
اس دوران افغانستان بھی اپ گریڈ ہوچکا ہے۔ گزشتہ دو عشروں کے دوران افغانوں کی نئی نسل نے سیکولرازم، میڈیا کی آزادی، خواتین کے حقوق اورمعلومات کا انقلاب بپا ہوتے دیکھا ہے۔ اگر طالبان نے جبر اور فوجی کارروائی کے ذریعے ان اقدار کو ختم کرنے کی کوشش کی تو اس کا مقامی طور پر بھی ردعمل آئے گا اور عالمی سطح سے بھی۔ اور اس ردعمل کے نتائج ہوں گے۔ اس نئے افغانستان کی معیشت، اس کا مالیاتی نظام، تعلیم، انتظامی ڈھانچہ، زرمبادلہ کے ذخائر مکمل طور پر امریکی امداد کے مرہون منت ہیں۔
نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ آخر میں طالبان کے تینوں چوٹی کے راہ نماؤں کی دانائی اور تجربے پر بہت سے معاملات کا دارومدار ہے۔ ان کی ساکھ اور صلاحیتیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ طالبان کے امیر، ہیبت اللہ اخوندزادہ ”خود کش حملوں کے پرجوش حامی“ مانے جاتے ہیں۔ اُنہوں نے ہلمند صوبے میں ایک حملے کے دوران اپنے بیٹے کو بھی دھماکے سے خود کو اُڑا لینے کا حکم دیا تھا۔ یہ ہیبت اللہ اخونزادہ کی ”گفتگو اور جنگ“ کی تزویراتی حکمت عملی تھی جو بہت کامیاب ثابت ہوئی۔ دوسرے نمبر پر سراج الدین حقانی ”امریکا کو سب سے زیادہ چکما دینے والے جنگجو“، ”پیچیدہ خود کش حملے اور ہدفی قتل کے ماہر“ مانے جاتے ہیں۔ تیسرے عبدالغنی برادر جو ممکنہ صدارتی امیدوار بھی ہیں، اور جنہیں، جیسا کہ کہا جاتا ہے، امریکیوں کے کہنے پر پاکستان نے ایک عشرہ تک جیل میں قید رکھا تھا۔
پاکستان کے سامنے ایک بڑا موقع ہے جس سے یہ فائدہ بھی اٹھا سکتا ہے اور کھو بھی سکتا ہے۔ اگر نئے اور تبدیل شدہ ذہنیت رکھنے والے طالبان افغانستان میں ٹھکانے رکھنے والے پاکستان مخالف عناصر کا قلع قمع کردیتے ہیں اور پاک چین سی پیک کے لیے وسطی ایشیا کے تیل، گیس، سڑک اور ریل کے راستے کھول دیتے ہیں تو اس کا پاکستان کو بہت فائدہ ہوگا۔ لیکن اگر طالبان کی فتح اور امریکا کی شکست سے پاکستان میں انتہا پسندی اور جنونیت کی آندھی چلنے لگتی ہے، چاہے اس کی وجہ تحریک لیبک یا تحریک طالبان پاکستان کے عناصر کو ملنے والی شہ ہو یا ملک میں امریکا مخالف جذبات کا طوفان ہو جس کی وجہ سے پاکستان کو عالمی تنہائی کا سامنا کرنا پڑے تو پھر پاکستان کے لیے اس میں صریحاً نقصان ہے کیونکہ پاکستانی معیشت کا دارومدار مغرب کے ساتھ تعاون پر ہے۔
دوسری جانب سیٹھی کے مطابق اگرافغانستان میں طالبان کی فتح کا راستہ طویل اور خون آلود ہوتا گیا تو ہمارے سامنے منظر نامہ بھی محفوظ اور یقینی نہیں ہوگا۔ افغانستان میں پشتون طالبان میں صرف پنتالیس سے پچاس فیصد پشتون ہیں۔ دیگر پشتون اور نسلی گروہوں نے فی الحال طالبان کی یلغار کے سامنے مزاحمت نہیں کی۔ لیکن اگر اُنہیں قائم ہونے والی حکومت اور انتظامیہ میں شراکت دار نہ بنایا گیا تو قبائلی بغاوتیں اور غیر ملکی مداخلتیں ایک مرتبہ پھر افغانستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گی۔

Back to top button