پاکستان میں جمہوری نظام چلانے کیلئے ایک جرنیل درکار


معروف لکھاری اور تجزیہ کار عمار مسعود نے کہا ہے کہ ہم نے سیاست دانوں کے ذریعے ملک میں جمہوریت کی بازی جمانے کی بہت کوشش کی لیکن انہوں نے ہر بار منہ کی کھائی۔ لہٰذا یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ہمیں پاکستان میں جمہوریت چلانے کے لیے ایک ایسے جرنیل کی ضرورت ہے جو جمہوریت پر یقین رکھے، پارلیمنٹ کی سپرمیسی کو تسلیم کرے اور ووٹ کی عزت کو پہچانے۔ پاکستان کو ایک ایسے جرنیل کی ضرورت ہے جو اپنے کام سے کام رکھے جو جنگ جیتے، الیکشن نہیں، جو ہائبرڈ نظام جیسے ناکام تجربوں سے توبہ کر کے اپنے آئینی حلف کی لاج رکھے۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عمار مسعود کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے عمران خان کی نااہلی پہلا فیصلہ ہے۔ اب جب کہ ادارے نیوٹرل ہو چکے ہیں تو خان کو بچانے والا کوئی نہیں ہو گا۔ اب فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ بھی عمران کے گلے کا طوق بنے گا۔ اب توہین عدالت کیس میں بھی رسوائی انکا مقدر ہو گی اور ان کے میڈیا ٹرائل کا بھی آغاز ہو گا۔ ابھی تو خان صاحب کو مزید آڈیو لیکس کا سامنا کرنا ہو گا اور ایک وڈیو بھی منظر عام پر آ سکتی ہے۔

عمار مسعود کہتے ہیں کہ زمانہ کیسے پلٹا کھاتا ہے۔ وہی عمران جسے سپریم کورٹ نے بہت تزک و احتشام سے صادق اور امین کا تمغہ تھمایا تھا، آج الیکشن کمیشن کے ہاتھوں چور اور ڈاکو قرار پانے کے بعد نا اہل ہو چکا ہے۔ وہ اسٹیبلشمنٹ جو عمران کے لیے راہوں میں پھول بچھائے بیٹھی رہتی تھی آج ان کا نام بھی نہیں سننا چاہتی لہٰذا موصوف خفیہ مذاکرات کی جھوٹی خبریں تخلیق کر کے اپنے ہم عصروں کی تشفی کر رہے ہیں۔ یہ وہی عمران خان ہے جس نے ہر شخص، ادارے اور قانون کو پاؤں کی ٹھوکر جانا آج وہی متکبر شخص نا اہل ہو کر در بدر ہو رہا ہے۔

عمار مسعود کہتے ہیں کہ یہ سب اس شخص کے ساتھ ہو گا جس نے کرپشن کے نام پر وہ ادھم مچایا کہ لوگوں نے اس کی بات کو سچ سمجھنا شروع کر دیا۔ بہت سے لوگ اس متکبر شخص کو مسیحا سمجھنے لگے۔ کرپشن کرپشن کے اس ڈرامے میں کسی کا دھیان اس جانب نہیں گیا کہ یہ شخص دونوں ہاتھوں سے ملک کو لوٹ رہا ہے۔ جو شخص توشہ خانے سے عام استعمال کی اشیا بھی اٹھا کر گھر لے جائے اسے صادق اور امین کہنے والوں کے لیے کیا انعام مقرر کیا جائے؟ اس کا فیصلہ تاریخ جلد کرے گی۔
عمار کے بقول عمران خان کی نا اہلی سے اچانک یوں لگا کی وہ ہائبرڈ نظام جس کی بنیاد دس سال پہلے رکھی گئی تھی، بالآخر زمیں بوس ہو گیا ہے۔ وہ نظام جس نے دس سال تک چلنا تھا وہ پونے چار سال میں ہی ملک کی تباہی پر منتج ہوا۔ اس دور تاریک سے سب نے سبق سیکھا ہے۔ ادارے نیوٹرل ہو گئے، عدلیہ نظریہ ضرورت کو بھول کر نظریہ جمہوریت پر چلنے لگی۔ سیاسی جماعتوں کو اپنے بیانیے کی اہمیت کا اندازہ ہو گیا۔ صحافیوں کو سچ کی قدر و قیمت معلوم ہو گئی۔ اینکرز کے لہجے اور دلائل ہی بدل گئے۔ عوام میں شعور آ گیا کہ جو شخص بھی کہتا ہے کہ نوے دن میں ملک کی قسمت بدل دے گا وہ رانگ نمبر ہے۔ وہ دھوکے باز ہے۔ وہ جھوٹ بول رہا ہے۔

عمار مسعود کہتے ہیں اگر آپ کو موقع ملے تو آپ توشہ خانہ سے غائب کیے جانے والے مال کی تفصیل ضرور پڑھیے گا۔ یہ فہرست ایسی ہے کہ پڑھنے والا شرم سے ڈوب جاتا ہے۔ جنہوں نے پین، ایش ٹرے، پیپر ویٹ، ٹی سیٹ اور لیمپ تک نہیں چھوڑے وہ اس ملک میں صادق اور امین کہلائے۔ موصوف مریضوں کے نام پر اربوں کے چندے کا ہیر پھیر کرتے رہے۔ افسوس کہ ایسے لوگوں کو اس ملک کی باگ ڈور تھما دی گئی۔ نتیجے میں جو اس ملک کے ساتھ ہوا وہ سب نے دیکھا۔ وزارت خزانہ سنبھالنے کے بعد اسحاق ڈار دن رات ایک کیے ہوئے ہیں مگر معیشت قابو میں نہیں آ رہی۔ لوگوں کا شکوہ درست ہے۔ اب ان میں برداشت کی مزید تاب نہیں ہے۔ اب وہ مزید مہنگائی کے عفریت کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ لیکن اسحاق ڈار بھی بے قصور ہیں کیونکہ چار سال کی تباہ حالی اور لوٹ مار کو وہ دنوں میں نہیں سدھار سکتے۔ معیشتیں درست سمت پر گامزن ہونے کے لیے وقت کی متقاضی ہوتی ہیں۔ دوسری جانب وقت ہے نہیں اور بگاڑ برسوں کا ہے۔

عمار مسعود کہتے ہیں کہ اگر غور سے دیکھا جائے تو توشہ خانہ کیس عمران کے جرائم میں سب سے کم درجے کا جرم تھا۔ لوگوں کو شاید ادراک نہیں کہ پونے چار سال کے عرصے میں ملکی تاریخ کے سب سے زیادہ قرضے لیے گئے۔ عمران کے محبوب وزیر خزانہ شوکت ترین خود اقرار کر چکے ہیں کہ ملکی تاریخ میں ہم نے جتنے قرضے لیے اس سے 74 فیصد زیادہ قرضے اس مختصر عرصے میں لیے گئے۔ کبھی آپ نے سوچا ہے کہ وہ اربوں کھربوں ڈالرز کہاں گئے؟ کیا ملک میں کوئی سڑکوں کا جال بچھا، کوئی یونیورسٹی کوئی ہسپتال بنا، کوئی ترقیاتی منصوبہ شروع ہوا۔ عوامی فلاح کا کوئی منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچا۔ جانے یہ رقمیں کہاں گئیں؟ ان کا جواب بھی عمران کو جلد ہی دینا ہو گا۔

اس تمام عرصے میں عوام کو صرف لنگر خانے کی دو روٹیاں دینے پر ٹرخایا۔ اس دور میں عوام کو بھوک مہنگائی اور بے روزگاری نظر آئی۔ معاشرے میں پھیلتی نفرت، عناد اور بد امنی نصیب میں آئی۔ باقی کے ڈالرز کہاں لگے کسی کو پتہ نہیں۔ لیکن اب وقت آ چکا ہے جب احتساب کا پہیہ الٹا چلنے کو ہے۔ اب ان تمام رقموں کا حساب بھی خان کو دینا ہو گا۔ اب عمران خان کو پتہ چلے گا کہ ملک پر صرف سوشل میڈیا کے ٹرینڈ بنا کر حکومت نہیں کی جا سکتی۔ صرف دوسروں پر کرپشن کے الزامات لگا کر عوام کو مطمئن نہیں کیا جا سکتا۔ اب اپنی کرپشن کا حساب بھی دینا ہو گا۔ اپنے اعمال کا بھی جواب دینا ہو گا۔ اس سماج میں پھیلائی نفرت کا خود بھی سامنا کرنا پڑے گا۔

عمار مسعود کہتے ہیں کہ اب المیہ یہ ہے کہ عمران خان کے ہاتھ سے ترپ کا پتہ بھی نکل چکا ہے۔ آرمی چیف کی وہ ایک تعیناتی جس کے پیچھے کبھی صدارتی نظام چھپا تھا اور کبھی ون پارٹی سسٹم، اس کا فیصلہ بھی اب خان کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ جس کے برتے پر بساط بچھائی گئی تھی وہی گھوڑا ریس سے باہر ہو چکا ہے۔ اب اس ملک میں کیا ہو گا یہ آنے والا شخص ہی فیصلہ کرے گا لیکن اس شخص کی سلیٹ صاف ہو گی کیونکہ اس پر ہائی برڈ نظام کی بزم سجانے کی تہمت نہیں ہو گی۔

Back to top button