حکومت نے عمرانڈو جسٹس بندیال کیلئے اپنا منہ کیسے کالا کیا؟

ووٹ کی عزت کا رونا رونے والی مسلم لیگی حکومت نے بے اصولی اور بے غیرتی کی نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے عمرانڈو چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے تجویز کردہ ان دو جونئیر ججوں کو سپریم کورٹ بھجوانے کے لیے ووٹ دے دیا جن کے نام حکومتی نمائندوں نے پچھلے اجلاس میں مسترد کر دیے تھے۔ یوں شہباز شریف حکومت نے اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے بندیال کو رام کرنے کی خاطر نہ صرف اپنا تھوکا ہوا چاٹ لیا بلکہ اسٹیبلشمینٹ کی دلالی میں اپنا منہ اور بھی کالا کر لیا۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ بے غیرتی کی یہ تاریخ رقم کرتے ہوئے سب سے مکروہ ترین کردار وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ادا کیا جو خود بھی ایک وکیل ہیں اور بار کا نمائندہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ وزیر قانون نے اٹارنی جنرل کے ساتھ مل کر پچھلے اجلاس میں جسٹس فائز عیسیٰ کی طرح جسٹس بندیال کے تجویز کردہ پانچ جونیئر ججوں کو سپریم کورٹ بھجوانے کی مخالفت کی تھی۔ لیکن 24 اکتوبر کو اپنے اصولی موقف سے یو ٹرن لیتے ہوئے وزیر قانون اور اٹارنی جنرل عمرانڈو چیف جسٹس بندیال کے ساتھ مل گئے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس سید منصور علی شاہ اور پاکستان بار کونسل کے نمائندے اختر حسین نے سپریم کورٹ میں ترقی کے لیے بندیال کے تجویز کردہ تینوں ججز کی اصولی مخالفت کی۔ لیکن دوسری چیف جسٹس بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن، ریٹائرڈ جسٹس سرمد جلال عثمانی، اٹارنی جنرل اشتر اوصاف اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ان نامزدگیوں کی حمایت کر دی اور یوں 5 اور 4 کی اکثریت سے وہ جج سپریم کورٹ کے لئے نامزد ہوگئے جنہیں پچھلے اجلاس میں اٹارنی جنرل اور وزیر قانون نے خود جونئیر اور نا اہل قرار دیا تھا۔
24 اکتوبر کو جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے ساڑھے 3 گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کو سپریم کورٹ میں ترقی دینے کی تجویز متفقہ طور پر منظور کرلی جبکہ ہائی کورٹ کے 3 ججوں میں سے 2 کی ترقی منظور اور ایک امیدوار کا نام مسترد کر دیا۔ جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کی صدارت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کی، اجلاس میں 5 ارکان میں سے وفاق کے 2 نمائندوں سمیت 4 ارکان کی اکثریت نے لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد وحید اور سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس سید حسن اظہر رضوی کے ناموں کی منظوری دے دی جوکہ دونوں اپنی متعلقہ عدالتوں کی سنیارٹی لسٹ میں چوتھے نمبر پر ہیں، جبکہ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محمد شفیع صدیقی کا نام خارج کردیا گیا۔

با خبر ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بندیال اور حکومت کے مابین ڈیل کروانے میں اسٹیبلشمنٹ نے ضامن کا کردار ادا کیا ہے۔ حکومت کی چیف جسٹس سے ڈیل کا بنیادی مقصد نواز شریف کے لیے عدالتی کیسز میں ریلیف حاصل کرنا ہے۔ اس کے علاوہ اسٹیبلشمنٹ اور نواز لیگ دونوں اگلے چیف جسٹس قاضی فائز کے ہاتھ بھی باندھنا چاہتے ہیں جو کہ اگست 2023 میں جسٹس بندیال کی جگہ چیف جسٹس بن جائیں گے۔ لہٰذا ضروری تھا کہ سپریم کورٹ میں پرو اسٹیبلشمنٹ ججز گھسا کر جسٹس بندیال کو اقلیت میں لایا جا سکے۔ یاد رہے کہ قانون کے مطابق جن ججوں کے نام جوڈیشنل کونسل سے ایک مرتبہ مسترد ہوجائیں انھیں دوبارہ پیش نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم چیف جسٹس بندیال نے 28 جولائی کے اجلاس میں مسترد ہونے والے پانچ میں سے تین جونئیر ججوں کے نام 24 اکتوبر کے اجلاس میں دوبارہ تجویز کر دیے۔ سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس اجلاس سے ایک روز پہلے ایک خط میں چیف جسٹس کو بتایا تھا کہ مسترد شدہ ججوں کے نام دوبارہ پیش کر کے وہ قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ اس دوران یہ سوال بھی کیا جانے لگا کہ جوڈیشل کونسل میں اقلیت میں ہونے کے باوجود چیف جسٹس رد کیے جانے والے نام دوبارہ کیوں پیش کر رہے ہیں؟

پھر یہ خبر سامنے آئی کہ وفاقی حکومت نے چیف جسٹس بندیال کے ساتھ ایک خفیہ ڈیل کر لی ہے جس کے تحت اعظم تارڑ نے انہیں ان کی مرضی کے جج لگانے کی یقین دہانی کروا دی ہے۔ یاد رہے کہ جوڈیشل کمیشن کے پچھلے اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کی مخالفت کی وجہ سے چیف جسٹس بندیال کے تجویز کردہ جونئیر ججوں کے نام مسترد ہو گئے تھے۔ تاہم اس مرتبہ ان دونوں حکومتی نمائندوں نے بے غیرتی دکھاتے ہوئے ان ہی جونیئر ججز کو سپریم کورٹ میں ترقی دینے کے حق میں ووٹ دے دیا جن کی انہوں نے پچھلے اجلاس میں مخالفت کی تھی۔
24 اکتوبر کے اجلاس کا بیشتر وقت اس گرما گرم بحث میں گزر گیا کہ جب جوڈیشل کمیشن کے 28 جولائی کو ہونے والے اجلاس میں ان ناموں کو مسترد کیا جا چکا تھا تو وہی نام دوبارہ کیوں تجویز کیے گئے تاہم اس بحث کا تب خاتمہ ہوگیا جب وزیر قانون اور اٹارنی جنرل نے نہایت بے شرمی کے ساتھ چیف جسٹس بندیال کے اس موقف کی حمایت کر دی کہ 28 جولائی کے اجلاس میں انہوں نے امیدواروں کے نام واضح طور پر مسترد کرنے کے بجائے اجلاس ملتوی کرنے کی تجویز دی تھی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ میں جسٹس بندیال کے تجویز کردہ ناموں کی حمایت کرنے کے بعد رات گئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ ان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ تارڑ نے حکومتی دباؤ پر سنیارٹی پرنسپل کے اصول کے خلاف ووٹ دینے کی وجہ سے استعفیٰ دیا ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا۔ لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ اعظم نذیر تارڑ نے گونگلووں سے مٹی جھاڑنے کے لیے استعفی دیا ہے جو ابھی تک قبول نہیں کیا گیا۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اگر اعظم تارڑ سنیارٹی کے اصول پر ہی چلنا چاہتے تھے تو بے غیرتی دکھاتے ہوئے جونیئر ججز کی سپریم کورٹ میں ترقی کی حمایت کرنے سے پہلے استعفیٰ دیتے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ اعظم نذیر تارڑ نے بار کا نمائندہ ہونے کے ناطے پوری وکلاء برادری کو دھوکا دیا ہے اور اگر وہ اتنے ہی اصول پرست اور غیرت مند ہیں تو سینٹ کی سیٹ سے بھی استعفیٰ دے دیں۔

دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اعظم نزیر تارڑ کے استعفے کی وجہ لاہور میں ہونے والی عاصمہ جہانگیر کانفرنس بنی ہے جہاں وزیر قانون کی موجودگی میں فوج کے خلاف پشتون تحفظ موومنٹ کے ورکرز نے نعرے بازی کی۔ اس واقعے کے بعد اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے اعظم نذیر تارڑ کو کابینہ سے فارغ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ لیکن وزیر اعظم نے 24 گھنٹے مانگے تھا تا کہ موصوف سے سپریم جوڈیشل کونسل والا گند کروا لیا جائے۔ بعد ازاں رات کو تارڑ سے استعفیٰ دلوا دیا گیا۔ اعظم نذیر تارڑ نے استعفیٰ دینے سے پہلے ایک ٹویٹ میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے دوران فوج کے خلاف نعرے بازی پر اظہارِ افسوس بھی کیا لیکن پھر بھی انہیں استعفیٰ دینا پڑ گیا۔

Back to top button