سلمان رشدی ایک آنکھ اور ایک ہاتھ سے محروم ہو گیا


متنازعہ لکھاری سلمان رشدی کے ایجنٹ نے انکشاف کیا ہے کہ اگست میں نیویارک میں لیکچر کے دوران ایک چاقو بردار نوجوان کے حملے میں ان کی ایک آنکھ کی بینائی ضائع ہونے کے علاوہ انکا ایک ہاتھ بھی ختم ہوگیا ہے۔ یاد رہے کہ انڈیا نژاد برطانوی ناول نگار کی 1988 میں شائع ہوئی اسلام مخالف کتاب نے ایک بڑے تنازعے کو جنم دیا تھا اور ایران کی حکومت نے اس کے قتل کا فتویٰ جاری کر دیا تھا۔ دو ماہ قبل نیویارک میں ایک لیکچر کے دوران ایک نوجوان نے سٹیج پر چڑھ کر سلمان رشدی پر چاقو سے تقریباً 12 بار وار کیے تھے۔

ایران کے سابق روحانی پیشوا آیت اللہ روح اللہ خمینی نے کتاب کی اشاعت کے ایک سال بعد مصنف کے خلاف قتل کا فتویٰ جاری کر دیا تھا جس کی وجہ سے سلمان برسوں روپوش رہنے پر مجبور ہوا۔ بتایا جاتا ہے کہ سلمان کے زخموں کی حالت اب تک واضح نہیں لیکن ان کے ایجنٹ اینڈریو وائلی نے بتایا ہے کہ چاقو کے حملے میں 75 سالہ سلمان رشدی ’ایک آنکھ کی بینائی اور ایک ہاتھ سے محروم ہوگئے تھے۔ ان کی گردن میں تین سنگین زخم آئے تھے۔ انکا ایک ہاتھ ناکارہ ہو گیا ہے کیونکہ اس کے اعصاب کٹ گئے تھے۔ رشدی کے سینے اور دھڑ پر تقریباً 15 مزید زخم بھی لگے جو کہ ابھی مندمل ہو رہے ہیں۔ لیکن وائلی نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ آیا سلمان ہسپتال میں ہی ہیں، اس نے کہا کہ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ سلمان رشدی اب بھی زندہ ہیں۔

سلمان رشدی کے ایجنٹ نے کہا کہ وہ ایسے شدت پسند حملے کا برسوں سے خطرہ محسوس کر رہے تھے لیکن اگر اس روز سکیورٹی سٹاف سستی نہ دکھاتا اور حملہ آور کو واردات سے پہلے گرفتار کر لیتا تو اتنا زیادہ نقصان نہ ہوتا۔ سلمان رشدی کے ایجنٹ کا کہنا تھا کہ فتویٰ لگائے جانے کے بعد اتنے برسوں تک محفوظ رہنے والے سلمان رشدی دوستی کی خوش قسمتی نیویارک کے سٹیج پر ختم ہوگئی۔ یاد رہے کہ 24 سالہ مسلمان حملہ آور ہادی مطر نے عدالت میں سلمان کے قتل کی کوشش کے الزام کو مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ متنازعہ مصنف کی جان لینے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ تاہم جرم ثابت ہونے پر ہادی کو زیادہ سے زیادہ 25 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

Back to top button