پاکستان میں پیدا ہوئے افغانوں کی بے دخلی غیر قانونی کیوں؟

جس کو پاکستان کے قانون سے تھوڑی سی بھی واقفیت ہے وہ جانتا ہے کہ پاکستان میں پیدا ہونے والا ہر بچہ پاکستان کی شہریت کا حقدار ہے ۔ لہذا پاکستان میں پیدا ھونے والے افغانوں کو واپس بھجوا کر نہ صرف پاکستانی حکمران اپنے ہی قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں بلکہ قوم کو بھی یہ یقین دلانے میں مصروف ہیں کہ پاکستان کا اصل مسئلہ یہ افغان ہیں، ان کو نکالو اگر ان کے پاس کوئی منقولہ یا غیرمنقولہ جائیداد ہے تو وہ بھی رکھوا لو۔ گھر یا دکان نہ بیچنے دو، اگر کسی کے پاس کوئی بکری بھینس ہے تو وہ بھی ادھر ہی رہے گی۔ ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی اور کالم نگار محمد حنیف نے اپنے ایک کالم میں کیا ھے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ بچپن میں افغانستان کے بارے میں پہلا سبق یہ پڑھایا گیا تھا کہ وہاں خدا کے منکر کمیونسٹوں نے قبضہ کر لیا ہے۔ اب سوویت یونین کا اگلا نشانہ پاکستان بنے گا کیونکہ اسے گرم پانیوں تک رسائی چاہیے۔ توافغان جہاد محض افغانستان کی آزادی کی جنگ نہیں ہے بلکہ پاکستان کی بقا کی جنگ ہے۔ آزادی کی اس جنگ میں ہمیں ایسی تاریخی اور عظیم الشان فتح ہوئی کہ نہ صرف سویت یونین کو افغانستان سے پسپا ہونا پڑا بلکہ سویت یونین کا وجود ہی دنیا سے ختم ہو گیا۔ ہمارے ایک سپاہ سالار اسلم بیگ ہوتے تھے۔ انھوں نے فرمایا کہ افغانستان کی وجہ سے پاکستان کو تزویراتی گہرائی ملی ہے۔ معلوم نہیں کہ جنرل بیگ نے یہ اصطلاح خود تراشی یا سٹاف کالج میں پڑھے کسی انگریزی مضمون سے سرقہ کیا۔

نئے نئے میدان میں آئے دفاعی تجزیہ نگاروں نے بتایا کہ اس کا تزویراتی گہرائی کا مطلب یہ ہے کہ اگر دشمن پاکستان پر حملہ کرے گا تو افغانستان ہمارے پچھواڑے میں ہے، اور بھائی ہے تو ہم پاکستان کا دفاع صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ افغانستان میں بھی کر سکیں گے۔محمد حنیف کا کہناہے کہ 80 کی دھائی میں پاکستان پوری مغربی اور مسلمان دنیا سے ملنے والے جہاد کے چندے پر کافی خوشحال لگتا تھا۔ افغانستان میں کبھی جہاد ختم نہیں ہوا، وہاں سے اجڑ کر لوگ پاکستان پہنچے، مزدوریاں کیں، مہاجر کیمپوں میں رہے، جھونپڑی بنائی، گھر بنا لیے، چھوٹے موٹے دھندے، خواب بھی وہی دیکھنے شروع کر دیے جو ہر پاکستانی غریب دیکھتا ہے، کہ کسی طرح بچے پڑھ لکھ جائیں۔ جو افغان ہمارے بچپن میں آئے تھے اب ان کے بچے بھی جوان ہیں۔ ان میں سے جس کسی کی بھی آواز میڈیا تک پہنچی ہے انھوں نے یہی کہا ہے کہ افغانستان کون سا افغانستان؟ ہم تو پیدا ہی پاکستان میں ہوئے تھے۔

محمد حنیف کا کہناہے کہ زندگی میں کم ہی ایسی ہولناک تبدیلی آئی ہے کہ جو افغان اور افغانستان کبھی پاکستان کی حفاظت کی ضمانت تھے اب ان کا ملک میں وجود بھی سب سے بڑا خطرہ ہے جس کے لیے پوری ریاستی مشینری پاکستان کو افغانوں سے پاک کرنے میں مصروف ہے۔ پاکستانی دانشور کبھی کبھی افغانستان پر نمک حرامی کا الزام لگاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ وہ ہمارے شکر گزار کیوں نہیں ہیں۔ جن بچوں نے افغانستان کبھی نہیں دیکھا، اور اب انھیں زبردستی وہاں بھیجا جا رہا ہے جب وہ بڑے ہوں گے تو سوچیں گے کہ تزویراتی غلطیوں سے خون کس کا بہا، نمک حرام پاکستانی ہیں یا وہ؟

Back to top button