پاکستان میں چکن 500 روپے کلو کیوں ہو گیا؟

پاکستان میں برائلر مرغی کا گوشت آج کل مہنگی ترین سطح پر فروخت ہو رہا ہے اور مارکیٹ میں اس کا ریٹ 450 سے 500 روپے کلو تک پہنچ چکا ہے۔ ایسے میں حکومتی وزرا اس ہوشربا مہنگائی کی وجہ مافیا کو قرار دے رہے ہیں۔ پنجاب کی مشیر برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے ’جس طرح چینی اور آٹا مافیا کے خلاف حکومت نے کارروائی کی ہے بالکل اسی طرح اب پولٹری مافیا کے خلاف بھی کارروائی کا وقت آگیا ہے اور اس صنعت کو بھی اب ریگولیٹ کیا جائے گا۔‘ ناقدین فردوس عاشق کے اس بیان کی تشریح کر رہے ہیں کہ جس طرح حکومت چینی اور آٹے کی قیمتیں کنٹرول کرنے میں ناکام رہی ہے اسی طرح انشاللہ چکن کا ریٹ کنٹرول کرنے میں بھی مکمل طور پر ناکام ہو گی اور یہ مذید مہنگا ہو گا۔
تو کیا چکن مہنگا ہونے کی وجہ واقعی کوئی مافیا ہے یا یہ صنعت اور وجوہات کی بنا پر گرداب میں ہے۔ آیئے جانتے ہیں۔ محمد وسیم کا تعلق پنجاب کے قصبہ شرق پور سے ہے اور وہ پچھلے 15 سال سے پولٹری فارمنگ سے منسلک ہیں۔ اس سال ان کا پولٹری کا کاروبار نہایت متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا ’میں نے اپریل کے مہینے میں 50 ہزار چوزہ ڈالا، گیارویں دن ایک بیماری کا حملہ ہوا جس کو ایک ہفتے میں کسی حد تک کنڑرول کر لیا گیا۔ لیکن اس کے بعد پھر یکے بعد دیگرے دو حملے ہوئے۔ میرا کنڑولڈ شیڈ ہے اور یہ دو منزلہ ہے۔ اب کی بار گراؤنڈ فلور کا فلاک بھی اس بیماری کی زد میں آگیا۔ جس میں تباہ کن حد تک اموات واقع ہوئیں۔ آپ میری بات پر یقین نہیں کریں گے۔ 31ویں دن تک 44 ہزار چوزے مر گے اور صرف چھ ہزار برائلر مرغے بچے جو کہ چھ لاکھ روپے میں فروخت ہوئے۔ میں نے 40 لاکھ کا چوزہ ڈالا تھا اور 35 لاکھ کی فیڈ کھلائی اس طرح بیماری کی روک تھام کے لیے 20 لاکھ خرچ کیے۔ یعنی 95 لاکھ روپے کے عوض مجھے صرف چھ لاکھ روپے واپس آئے ہیں۔ لہازا اب میرے میں سکت نہیں فوری طور پر دوبارہ کام شروع کرنے کی۔‘
ان حالات میں برائلر گوشت کا کام کرنے والے کسان محمد وسیم شدید ذہنی کرب سے دوچار ہیں۔ ایسی کہانی صرف انہی کی نہیں اس سال پولٹری کی صنعت غیرمتوقع طورپر بیماری کی زد میں آئی ہے جس کی وجہ سے چکن کی پیدوار شدید دباؤ میں ہے۔ پنجاب پولٹری فارمرز ایسوسی ایشن کے صدر ملک خرم نے بتایا۔کہ سینکڑوں کسان اس وقت شدید دباؤ میں ہیں کیونکہ بیماری نے بڑے پیمانے پر پرندوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ ایسی سینکڑوں کہانیاں ہیں کہ کسانوں کا کروڑوں روپے کا نقصان ہوچکا ہے۔ ’اگر آپ نے صحیح معنوں میں اس وقت چکن کی کم پیداوار کا تخمینہ لگانا ہے تو وہ نئے چوزے یا سیڈ کی فروخت سے لگا سکتے ہیں۔ ہر مہینے پاکستان میں اوسطاً ایک کروڑ 40 لاکھ چوزہ فروخت ہوتا ہے۔ چونکہ برائلر 31 سے 40 دنوں میں تیار ہوجاتا ہے اس لیے اس کا حساب مہینے سے مہینے ہی چلتا ہے۔ اس وقت چوزے کی فروخت 98 لاکھ پر آ چکی ہے۔ یعنی لوگ اس کاروبار سے باہر ہو رہے ہیں۔ اس لیے بھی پیدوار میں شدید کمی ہوئی ہے۔ اور طلب رسد کا نظام متاثر ہو کر رہ گیا ہے جس کے جلد ٹھیک ہونے کے کوئی چانسز نہیں۔‘
ادارہ شماریات کے مطابق پاکستان میں 15 ہزار مرغی فارم ہیں جو غذائی ضروریات کو پورا کر رہے ہیں۔ تو ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس سال غیر معمولی بیماری کے حملے ہی چکن کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنے؟ پنجاب پولٹری ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے صدر طارق جاوید سمجھتے ہیں کہ یہ صرف ایک وجہ نہیں ہے۔ چار ایسے عوامل ہیں جو اس وقت پولٹری کی قیمتوں کا تعین کر رہے ہیں۔ ’پہلا فیکٹر تو طلب رسد ہے۔ یعنی پیداوار کم ہے تو لامحالہ اوپن مارکیٹ میں بیٹھے ٹریڈر ڈیمانڈ پوری کرنے کے لیے زیادہ پیسے خرچ کر کے چکن اٹھا رہے ہیں۔ بیماری کی وجہ سے رسد بھی متاثر ہوچکی ہے۔ رانی کھیت کی نئی سٹرین کی وجہ سے چوزوں کی اوسطاً شرح اموات 50 فیصد تک چلی گئی ہے۔ تیس ہزار پرندے ڈالنے والا کسان اس میں سے 15 ہزار بیچ پا رہا ہے باقی آدھے مر رہے ہیں۔ دوسرا فیکٹر کرونا ہے جس کی پہلی لہر کے دوران چکن گر کر 70 روپے کلو تک آ گیا جس سے بڑے پیمانے پر کسان اس کاروبار سے ہی باہر ہو گئے۔ آخری اور تیسرا فیکٹر ہے برائلر کا بیج جو امریکہ، ہالینڈ اور فرانس سے درآمد کیا جاتا ہے، اسوقت فلائٹس متاثر ہونے سے اس کی امپورٹ بھی بہت کم ہوئی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ چوتھا اور آخری فیکٹر چکن کی فیڈ کا مہنگا ہونا ہے۔ مکئی کی قیمت 900 روپے کلو سے 2200 تک چلی گئی ہے۔ سویابین درآمد ہوتی ہے اور وہ بھی مہنگی ہوگئی ہے۔ تو پولٹری فیڈ کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ بھی چکن مہنگا ہونے کی ایک بڑی وجہ بنی ہے۔ اب کسان جیب سے تو نہیں بھرے گا نا.‘ طارق جاوید سمجھتے ہیں کہ ان چار عوامل نے مل کر یہ صورت حال پیدا کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ اوپن مارکیٹ ہے، 31 دن میں جو برائلر تیار ہوتا ہے اسے کسان نے ہر صورت نکالنا ہے تو ایسے میں نہ تو یہ سٹاک ہوسکتا ہے نہ ہی اس کی قیمت مصنوعی طور پر بڑھائی جا سکتی ہے۔ ’اس لیے یہ بات کرنا کہ کوئی مافیا حرکت میں آیا ہوا ہے بالکل عجیب لگتا ہے۔ انکامکہنا تھا کہ پولٹری مارکیٹ کھلی کتاب کی طرح ہے جس میں روزانہ کی بنیاد پر مارکیٹ فورسز ریٹ طے کرتی ہیں۔ یہ تو اکانومی کا سب سے سادہ فارمولہ ہے کہ سستی چیز تب ہو گی جب رسد طلب سے زیادہ ہوگی۔ اگر طلب زیادہ ہے اور رسد شدید متاثر ہو چکی ہے، تو کیا وہ چیز سستی ملے گی؟ اب بھی اگر مزید انویسٹر اس کاروبار میں آتا ہے اور فیڈ سستی ہوتی ہے اور بیماری نیچے جاتی ہے تو بھی جلدی قیمتیں نیچے آنے کی توقع نہیں کی جا سکتی ہے۔ کیونکہ ان کے اثرات آتے ہوئے بھی اچھا خاصا وقت لگے گا۔‘
