پاکستان میں ڈاکٹر بننا ’گھاٹے کا سودا‘ کیوں بن چکا ہے؟


کپتان حکومت کے خلاف بر سر پیکار ینگ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں انکے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے اس سے ان میں مایوسی بڑھ رہی ہے، اور ایسا لگتا ہے کہ اس ملک میں ڈاکٹر بننا اب گھاٹے کا سودا بن چکا ہے۔
ینگ ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت سے ڈاکٹرز کو بہت سی امیدیں وابستہ تھیں، موجودہ دور حکومت میں ایک بڑی تعداد میں ڈاکٹرز وطن واپس آئے تھے مگر یہاں حالات دیکھ کر کچھ واپس بیرون ملک چلے گئے جبکہ دیگر نے پرائیویٹ ہسپتالوں کا رخ کیا کیونکہ حکومت کی پالیسیاں اور اقدامات انکے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ان کے لیے مشکلات اور رکاوٹیں اس قدر بڑھ گئی ہیں کہ انھیں عبور کرتے کرتے وہ خود آدھے نفسیاتی مریض بن جاتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ ہمارے مسائل اور فرسٹریشن کو نہ تو حکومت دیکھتی ہے نہ ہی ہسپتالوں کی انتظامیہ کو کوئی فرق پڑتا ہے۔
چین سے ایم بی بی ایس کرکے گوجرانوالا کے ڈی ایچ کیو میں خدمات انجام دینے والی ڈاکٹر سخرا نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں پرائیویٹ یا بیرون ملک میڈیکل کالجز سے فارغ التحصیل ڈاکٹرز کو ہاؤس جاب کے دوران تنخواہ نہیں دی جاتی۔ خیال رہے کہ ابتدا میں سرکاری میڈیکل کالجز سے آنے والے ڈاکٹرز کو ہاؤس جاب میں پچاس ہزار روپے ماہانہ تنخواہ ملتی تھی، ینگ ڈاکٹرز نے احتجاج کیا تو یہ تنخواہ ستر ہزار کر دی گئی اور اب حال ہی میں ایک لاکھ کر دی گئی ہے۔ڈاکٹرز کے مطابق یہ تنخواہ بہت کم ہے۔ بطور ڈاکٹر اس تنخواہ میں روزمرہ زندگی کی ضروریات پر سمجھوتے کرنے پڑتے ہیں۔ گزارہ بہت مشکل ہے اور پیسے بچانے کا تو سوچ بھی نہیں سکتے۔ دوسرا بڑا مسئلہ ’سکیورٹی‘ ہے یعنی ڈاکٹرز کے مطابق انھیں مریضوں کے لواحقین یا اہلخانہ کی جانب سے حملوں کا خطرہ رہتا ہے۔
ڈاکٹرز کے مطابق پاکستان کے سرکاری ہسپتالوں کے حالات ابتر تو ہیں ہی بعض اوقات مریضوں اور ان کے اہلخانہ کا رویہ بھی ناقابل برداشت ہو جاتا ہے۔ گالم گلوچ تو معمول ہے، بات ہاتھا پائی تک چلی جاتی ہے، مریض کے اہلخانہ اسلحہ ساتھ لے کر آتے ہیں۔ یہ بھی نہیں دیکھا جاتا کہ سامنے ایک خاتون ڈاکٹر ہے مگر خاتون ہو یا مرد، وہ حملے سے پہلے یہ سب نہیں دیکھتے۔ ایسے واقعات کے دوران بھی تحفظ فراہم نہیں کیا جاتا اور بعد میں بھی پولیس اور انتظامیہ رسمی کارروائی کرتے ہیں جس کا کوئی حتمی نتیجہ نہیں نکلتا۔ وہ کہتے ہیں کہ کسی مریض کی جان چلی جائے تو اس کا الزام ڈاکٹر پر لگایا جاتا ہے یا ہسپتال میں اگر انتظامیہ یا حکومت نے کوئی سہولت نہیں دی، کوئی مشین نہیں یا خراب ہے تو اس کا الزام بھی ڈاکٹر پر ہی لگایا جاتا ہے۔اس کے ساتھ ہی ڈاکٹرز کا ایک بڑا مسئلہ ڈیوٹی کے طویل اوقات کار ہیں۔ ڈاکٹر سخرا کہتی ہیں کہ انھیں ہفتے میں دو بار چھتیس گھنٹے کی شفٹ کرنا پڑتی ہے۔’ہسپتالوں میں کوئی ایسا انتظام نہیں کہ ایک خاتون ڈاکٹر کو ایک گھنٹہ آرام کا وقت ملا ہے تو وہ کسی کمرے میں آرام کر لے۔ڈیوٹی آورز کے علاوہ بھی ہاؤس جاب کرنے والے ڈاکٹر کو ایک مخصوص ریڈیس میں رہنا پڑتا ہے اور وہ ہسپتال سے دور نہیں جا سکتے تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں وہ ہسپتال پہنچ سکیں یعنی ہم اس وقت بھی آن کال ہوتے ہیں جب طویل ڈیوٹی آورز ختم ہو جائیں۔

Back to top button