پاکستان میں کورونا وائرس تیزی سے پھیلنے کی وجوہات

دنیا بھر میں انتہائی برق رفتاری سے پھیلنے والا کورونا وائرس اب پاکستان میں بھی بھی تیزی سے لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے لہذا ان وجوہات کو جاننا ضروری ہو گیا ہے جن کی وجہ سے یہ وائرس اتنی تیزی سے پھیل رہا ہے۔
ماہرین کی تحقیق کے مطابق مختلف جینیاتی اور ساختی تجزیوں سے اس مہلک وائرس کی ایک اہم خاصیت کی شناخت ہوئی ہے، جو اس کی سطح پر موجود پروٹین ہے، جس کی وجہ دے یہ انسانوں کو اتنی آسانی سے شکار کرلیتا ہے۔
پاکستان سمیت دنیا بھر میں نئے نوول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 سے متاثر افراد کی تعداد ایک لاکھ 16 ہزار سے زائد جبکہ 4 ہزاراموات ہوچکی ہیں، اور سائنسدان اب یہ جاننے کےلیے بھرپور کوشش کررہے ہیں کہ آخر یہ اتنی آسانی سے کیسے پھیل رہا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس اس سے پہلے حملہ آور ہونے والے سارس وائرس کے مقابلے میں 10 گنا زیادہ افراد کو متاثر کرچکا ہے۔ عام طور پر کسی خلیے کو انفیکٹ کرنے کےلیے کورونا وائرس ایک کانٹے جیسے پروٹین کو استعمال کرکے خلیے کو جکڑ لیتا ہے اور اس عمل سے ایک مخصوص سیل انزائمے متحرک ہوجاتے ہیں۔ نئے وائرس کے جینوم کے تجزیے سے انکشاف ہوا ہے کہ یہ پروٹین دیگر کورونا وائرسز سے مختلف ہے اور یہ پروٹین میزبان خلیاتی انزائمے فیورین کو متحرک کرتا ہے۔
ووہان کی ہوازونگ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے مطابق فورین متعدد انسانی ٹشوز بشمول پھیپھڑوں، جگر اور چھوٹی آنتوں میں پایا جاتا ہے اور یہ وائرس ممکنہ طور پر متعدد انسانی اعضا کو نشانہ بناسکتا ہے۔ اسی طرح نیویارک کی کارنیل یونیورسٹی کی تازہ تحقیق کے مطابق فیورین متحرک کرنے کا عنصر کورونا وائرس کو خلیے میں داخل ہونے کے حوالے سے سارس وائرس سے مختلف بناتا ہے۔
متعدد دیگر تحقیقی رپورٹس میں بھی اس عنصر کو انتہائی آسانی سے انسانوں میں اس کے پھیلاﺅ کی ممکنہ وجہ قرار دیا گیا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ خلیات یا جانوروں پر ہونے والی تحقیقی رپورٹس کی آزمائش اس ایکٹیویشن سائٹ فنکشن پر کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس ناقابل پیشگوئی ہے اور اکثر درست نظر آنے والے خیالات غلط ثابت ہوجاتے ہیں۔
ویسے سائنسدانوں کی جانب سے ایسے مالیکیولز کو بھی دیکھا جارہا ہے جو فیورین کو بلاک کردیتے ہوں تاکہ ممکنہ طریقہ علاج کو تشکیل دیا جاسکے، مگر اس حوالے سے پیشرفت وبا کے پھیلاﺅ کے حوالے سے سست ہے۔
مگر ٹیکساس یونیورسٹی نے وائرس کی ایک اور خاصیت کی شناخت کی ہے جس سے بھی وضاحت ہوسکتی ہے کہ یہ نیا نوول کورونا وائرس اتنی کامیابی سے انسانی خلیات کو کیسے متاثر کرتا ہے۔
اس ٹیم کے تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ جب پروٹین انسانی خلیات کے ریسیپٹر کو جکڑتا ہے تو یہ بندش سارز وائرس کے پروٹین کے مقابلے میں کم از کم 10 گنا زیادہ ہوتی ہے۔ اس ٹیم نے یہ بھی دریافت کیا کہ ریسیپٹر ویکسینز یا طریقہ علاج کا ایک اور ممکنہ ہدف ہوسکتے ہیں، یعنی ایک دوا کے ذریعے ریسیپٹر کو بلاک کرکے بھی کورونا وائرس کی خلیات میں داخل ہونے کو عمل کو مشکل بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
