نئے پاکستان میں اخلاقی بریگیڈ کیوں متحرک ہو گیا ہے؟

نئے پاکستان میں تین نئے لیکن خوفناک ٹرینڈز فروغ پا رہے ہیں۔ پبلک مقامات پر لوگوں کو روک کر ان سے آپس کے رشتے پوچھنا اور پھر ان کی تفتیش کرنا، لوگوں کو اپنی مرضی کا مسلمان بنانے کی کوشش اور ایجنسیوں کا جعلی افسر بن کر لوگوں کو خودکشی تک کرنے پر مجبور کر دینا، ایسے ٹرینڈز ہیں جن سے معاشرے میں خوف و ہراس بڑھتا جا رہا ہے۔ سنیئر صحافی جاوید چوہدری ایک تحریر میں کہتے ہیں کہ یہ صورت حال اگر یونہی جاری رہی تو پھر اس ملک کا کیا بنے گا؟
جاوید چودھری ایک حالیہ واقعے کا تذکرہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ شام کے وقت اسلام آباد کے ایک پارک میں واک کے دوران انہوں نے دیکھا کہ چند لوگ کسی مرد کو زمین پر گرا کر مارپیٹ کر رہے ہیں جبکہ وہیں موجود ایک جوان لڑکی انہیں ایسا کرنے سے روکنے کے لئے منت سماجت کرتی دکھائی دیتی ہے۔ جاوید کہتے ہیں کہ میں نے قریب جا کر لڑکی سے پوچھا کہ بہن آپ کیوں رو رہی ہو اور جس شخص کے ساتھ مارپیٹ ہو رہی ہے یہ کون ہے۔ لڑکی نے نمناک آنکھوں سے بتایا کہ یہ لوگ میرے والد کے ساتھ مارپیٹ کر رہے ہیں۔ ہم دونوں باپ بیٹی ہیں۔ میں نے لڑکی سے پوچھا کہ انکے ساتھ مارپیٹ کرنے والے کون لوگ تھے اور انھوں نے آپ لوگوں کو کیوں مارا؟ لڑکی بولی کہ ’’میں انھیں نہیں جانتی، میرے ابو بینچ پر تھے اور میں ان کے پیچھے کھڑی ہو کر ان کے کندھے دبا رہی تھی۔ وہ لوگ آئے‘ ہمیں گھور کر دیکھا اور ہمیں گالیاں دینے کے بعد ابو کو مارنا شروع کر دیا۔ جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ میں نے لڑکی سے پوچھا کہ آپ کہاں رہتی ہیں؟‘‘ اس نے سامنے گلی کی طرف اشارہ کیا اور بتایا’’ ہم اس گلی میں چوتھے گھر میں رہتے ہیں۔ جاوید نے مارپیٹ کا شکار مرد کو اٹھایا اور سہارا دے کر گھر پہنچا دیا‘۔ راست۔میں لڑکی نے بتایا کہ تشدد کرنے والے ہمیں آوارہ سمجھ رہے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ہماری حرکتیں ٹھیک نہیں ہیں حالانکہ میرے والد نے انھیں بتایا بھی کہ ہم باپ بیٹی ہیں اور واک کے لیے آئے ہیں۔ میں تھک گیا تو بیٹی نے محبت میں مجھے دبانا شروع کر دیا۔ لیکن تشدد کرنے والے بولے کہ اس غیرت نے اب لڑکی کو اپنی بیٹی بنا لیا ہے۔
بقول جاوید چودھری، یہ چند دن پہلے کا واقعہ ہے جب باپ بیٹی واکنگ ٹریک پر ’’برائی مکائو اسکواڈ‘‘ کے عتاب کا نشانہ بن گئے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ وہ کون لوگ تھے اور انھیں کس نے یہ اختیار دیا کہ وہ کسی بینچ پر بیٹھے مرد اور عورت کے بارے میں یہ فیصلہ کریں کہ وہ اخلاقی حرکات کر رہے ہیں یا غیر اخلاقی؟ جاوید کہتے ہیں کہ یہ سوال اب اس معاشرے میں غیر ضروری ہوچکا ہے۔ شہروں میں فیملی کے ساتھ باہر نکلنا تو دور اب اکیلا نکلتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے۔ آپ کہیں بھی چلے جائیں کوئی نہ کوئی شخص آتا ہے اور آپ پر حدود نافذ کر کے چلا جاتا ہے۔ میں پچھلی دو دہائیوں سے ایسے سوال برداشت کر رہا ہوں کہ آپ لوگ سچ کا ساتھ کیوں نہیں دیتے؟ میں ان سے جواب میں پوچھتا ہوں’’آپ کس سچ کی بات کر رہے ہیں‘‘۔ جواب میں مجھے بتایا جاتا ہے کہ ’’آپ آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کو کرپٹ کیوں نہیں کہتے؟‘‘۔ میں عرض کرتا ہوں ’’جناب کیا یہ لوگ کرپٹ ثابت ہو گئے ہیں‘‘۔ جواب میں مجھے کہا جاتا ہے کہ ’’کیا آپ نہیں جانتے۔ کیا آپ میں ضمیر نام کی کوئی چیز نہیں؟‘‘ میں پہاں پہنچ کر ہمیشہ خاموش ہو جاتا ہوں۔ یہ مکالمہ ماضی کا مکالمہ ہو چکا ہے۔ اب لوگ کہتے ہیں آپ ناموس رسالتؐ کی توہین پر کیوں خاموش ہیں؟ آپ نبی اکرمؐ کی آن کے رکھوالوں کا ساتھ کیوں نہیں دیتے اور میں حیرت سے ان کی طرف دیکھتا رہتا ہوں۔ میرے دل میں ہزاروں سوال ابلتے ہیں لیکن میرے والد وصیت کر گئے تھے تم نے کسی ٹھیکے دار سے نہیں الجھنا، اسلام کے ٹھیکے داروں سے بھی نہیں اور ریاست کے ٹھیکے داروں سے بھی نہیں۔ انہوں نے مجھے کہا تھا کہ تم اگر زندہ رہنا چاہتے ہو تو دل اور زبان سے دو من کا پتھر باندھ لو لہٰذا میں ایسے سوال۔کرنے والے لوگوں سے فوراً معافی مانگ لیتا ہوں۔ پوچھنے والے اگر معاف کر دیں تو ٹھیک ورنہ ہاتھ باندھ دیتا ہوں یا گھٹنوں کو ہاتھ لگا دیتا ہوں۔
جاوید چوہدری کے بقول یہ نئے پاکستان کی ایک صورت حال ہے جب کہ دوسری صورت حال اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ ملک میں ہزاروں ایسے لوگ پیدا ہو چکے ہیں جو ایجنسیوں کا نام لے کر لوگوں کو ڈراتے بھی ہیں اور لوٹتے بھی ہیں۔ میرا اپنا ایک کیمرہ مین ایک ہفتہ قبل ایجنسی کے ایک جعلی اہلکار کی وجہ سے خودکشی کر گیا۔ وہ بہت ہی اچھا اور نیک انسان تھا اور اپنے کام سے کام رکھتا تھا۔ میرا اس کے ساتھ سات سال کا ساتھ تھا۔ وہ شادی شدہ تھا اور دو چھوٹے بچوں کا والد تھا۔ اسکی بیوی پڑھاتی تھی۔ وہ بیچارہ چھ ماہ قبل ریکارڈنگ کے لیے پشاور گیا اور لنڈی کوتل میں زنجیروں سے بندھے درخت کی تصویر اپنے اسٹیٹس پر لگا دی۔ اگلے دن اسے کسی نے گاڑی کی ایک ایسی تصویر بھجوا دی جس کی ونڈ اسکرین پر گولی کا سوراخ اور ساتھ خون کا نشان تھا۔ وہ ڈر گیا اور اس نے اپنے کزن سے اس بات ذکر کر دیا۔ کزن اسے کسی دوسرے شخص کے پاس لے گیا جو ایجنسی کا جعلی اہلکار تھا۔ اس نے اسے یہ بتا کر مزید ڈرا دیا کہ اب تم ایک ہٹ لسٹ پر ہو، تم بہت جلد پکڑے جائو گے اور تمہیں کل بھوشن یادیو بنا دیا جائے گا۔ وہ کیمرہ مین نفسیاتی طور پر کم زور اور غریب انسان تھا لہذا خوف زدہ ہو گیا۔ ایجنسی کے جعلی اہلکار نے اس سے رقم بھی لینا شروع کر دی اور مسلسل دھمکاتا بھی رہا۔ اس کے ساتھی کیمرہ مین اسے تسلی دیتے رہے لیکن وہ خود کو ایجنسیوں کے نرغے میں محسوس کرنے لگا۔ اس کا خیال تھا اس کے فون ٹیپ ہوتے ہیں۔ لوگ اس کا پیچھا کرتے ہیں اور اسے قتل کر دیا جائے گا۔ یہ احساس آہستہ آہستہ اتنا گہرا ہو گیا کہ وہ ڈپریشن میں چلا گیا۔ چنانچہ ایک روز اس نے دروازہ بند کیا اور پنکھے کے ساتھ لٹک کر خودکشی کر لی۔
جاوید چودھری کہتے ہیں کہ یہ خبر میرے اور ساتھیوں کے لیے ناقابل یقین تھی۔ ہم مسلسل شاک میں ہیں اور ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہیں ’’کیا ایسا بھی ممکن ہے؟ کیا لوگ اسطرح ایجنسیوں کے جعلی اہلکار بن کر دوسروں کو لوٹ سکتے ہیں؟‘‘۔ جاوید چوہدری کے بقول میں اور میرے ساتھیوں نے جب اس واقعے کا ذکر شروع کیا تو پتا چلا کہ ملک میں ایسے ہزاروں جعل ساز اور بہروپیے موجود ہیں جو کسی ایجنسی کا حوالہ دے کر دوسروں کو لوٹ رہے ہیں۔ لوگ پہلے جعلی پولیس مین بنتے تھے‘ پھر نیب کے جعلی افسر بننے لگے اور اب یہ ایجنسیوں کے کارندے بن کر لوٹ رہے ہیں۔ جاوید چودھری سوال کرتے ہیں کہ کیا یہی ہے کپتان کا نیا پاکستان؟
