پاکستان میں گولڈ (سونے) کی قیمت کو پر کیوں لگ گئے؟

عالمی کساد بازاری کی وجہ سے دنیا کے امیر ترین ممالک بڑے پیمانے پر سونے کی خرید و فروخت کرر ہے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان میں بھی سونے کی قیمتوں کو پر لگ گئے ہیں اور خدشہ ظاہر کیا جار ہا ہے کہ آنے والے وقت میں سونا مزید مہنگا ہوگا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق رواں برس سونے میں سرمایہ کاری سے ایک سال میں پچیس فیصد تک منافع ملنے کا امکان ہے جو موجودہ صورت حال میں کسی اور شعبے میں سرمایہ کاری سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
سونے کی قیمت میں بے تحاشا اضافے کا معاملہ صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی صورتحال کچھ ایسی ہی ہے اور سونے کی عالمی منڈی میں فی اونس قیمت اٹھارہ سو ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ پاکستان اور عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں اضافہ ایک ایسے وقت دیکھنے میں آ رہا ہے جب کرونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں معاشی سرگرمیاں سست روی کا شکار ہیں۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں کرونا وائرس کے پھیلاو کو روکنے کے لیے مکمل لاک ڈاون اور سمارٹ لاک ڈاون کا نفاذ کیا گیا جس نے معیشت کو شدید متاثر کیا اور اس کے نتیجے میں بیروزگاری اور غربت میں بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔
پاکستان میں سونے کے کاروبار سے وابستہ افراد کے مطابق سونے کی قیمتوں میں اضافے کی اصل وجہ اس قیمتی دھات میں عالمی سطح پر بھاری سرمایہ کاری ہے، جسے موجودہ غیر یقینی معاشی صورت حال میں سب سے محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق دوسرے لفظوں میں ’سونے کی ذخیرہ اندوزی‘ عالمی اور مقامی سطح پر زور و شور سے جاری ہے جس نے اس کی قمیت میں بے پناہ اضافے کو جنم دیا ہے۔ سونے میں سرمایہ کاری کو اس وقت دنیا بھر میں محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا میں جب بھی معاشی طور پر غیر یقینی صورتحال ابھری ہے تو سونے میں سرمایہ کاری کو محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ سونے میں سرمایہ کاری سے دو فائدے ہوتے ہیں ایک تو سرمایہ کاری محفوظ رہتی ہے اور دوسرا سرمائے کی قدر بھی بڑھتی ہی رہتی ہے۔ جس کی وجہ سے یہ فی الحال دنیا بھر میں سرمایہ کاروں کے نزدیک سب سے پُرکشش اور محفوظ سرمایہ کاری ہے۔‘ معاشی امور کے ماہرین کے خیال میں اس وقت سونے میں زیادہ سرمایہ امریکی اور یورپی سرمایہ کاروں کی جانب سے لگایا جا رہا ہے۔ انفرادی سرمایہ کاروں کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر کام کرنے والے ایکسچینج ٹریڈ فنڈز بھی اپنے سرمائے کو سونے میں لگا رہے ہیں کیونکہ سٹاک مارکیٹ اور اجناس میں سرمایہ کاری کو موجودہ حالات میں زیادہ محفوظ نہیں سمجھا جا رہا۔
تاہم پاکستان میں سونے کی قیمت میں اضافے کی شرح عالمی مارکیٹ سے بھی زیادہ ہے۔ رواں برس کے پہلے چھ مہینوں میں عالمی سطح پر سونے کی قیمت میں 23 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اگر پاکستان میں ان چھ مہینوں میں سونے کی قیمت میں اضافے کا جائزہ لیا جائے تو یہ 34 فیصد ہے۔ عالمی سطح پر قیمت میں اضافے کے ساتھ ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں کمی نے مقامی سطح پر سونے کی قیمت کو بہت زیادہ بڑھا دیا ہے۔ ’ہمارے تجارتی خسارے اور ادائیگیوں میں عدم توازن کی وجہ سے ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور اس میں فی الحال کسی کمی کا کوئی امکان نہیں جس کی وجہ سے سونے کی قیمت میں اضافے کا رجحان دیکھنے میں آتا رہے گا۔
آل سندھ صرافہ جیولرز ایسوی ایشن کے صدر حاجی ہارون رشید چاند کا کہنا ہے کہ اس وقت سونے کی عالمی قمیت فی اونس اٹھارہ سو ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ان کے مطابق آنے والے چند مہینوں سونے کی عالمی سطح پر قیمت دو ہزار ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے اور اسی بنیاد پر پاکستان میں بھی اس کی قیمت میں اضافہ ہو گا۔ یاد رہے کہ جولائی 2018 میں سونے کی عالمی منڈی میں فی اونس قیمت تیرہ سو ڈالر تھی جو صرف دو سال کے عرصے میں پانچ سو ڈالر بڑھ کر اٹھارہ سو ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ اس لئے اس وقت سونے میں سرمایہ کاری کو زمین پر سرمایہ کاری سے بھی زیادہ محفوظ اور منافع بخش تصور کیا جا رہا ہے۔
