پاکستان میں 40 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے

وزیراعظم عمران خان کی تبدیلی سرکار نے پچھلے تین برس میں مہنگائی کا جو طوفان برپا کیا ہے اس کے نتیجے میں پاکستان میں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد 40 فیصد ہو گئی ہے جس کی تصدیق اب ورلڈ بینک کے اعداد و شمار نے بھی کردی ہے۔ پچھلے تین برس کے دوران ملک میں جو ہوشربا مہنگائی کی گئی ہے وہ بھی پچھلے دس برس میں ایک نیا ریکارڈ ہے۔
وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق پاکستان میں مہنگائی میں اضافے کی شرح 12.66 فیصد کی حدوں کو چھو رہی ہے۔ ظاہر ہے کہ جب ایک ڈالر 174 روپے سے اوپر چلا جائے گا تو مہنگائی میں اضافہ تو ہو گا۔ یاد رہے کہ جب نواز شریف کو جولائی 2017 میں نااہل قرار دیا گیا تو اس وقت ایک امریکی ڈالر 104روپے کا تھا اور آج چار سالوں میں ڈالر کی قیمت میں 70روپے کا اضافہ ہو چکا ہے۔ اگر ڈالر کی قیمت میں اضافہ نہ ہوا ہوتا تو پٹرول آج 138روپے لیٹر کی بجائے 68 روپے میں فروخت ہو رہا ہوتا۔ گویا مہنگائی میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ روپے کی قدر میں بہت زیادہ کمی ہے۔
کپتان حکومت کے معاشی ماہرین کہتے ہیں کہ نواز شریف دور کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ڈالر کو مصنوعی طور پر کنٹرول کیا ہوا تھا جس کی وجہ سے قومی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ اگر حکومت کا یہ دعویٰ درست مان بھی لیا جائے تب بھی یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ جس ملک کی معیشت کا حجم نواز شریف دور میں 320 ارب ڈالر تھا اس میں اگر چند ارب ڈالر کے عوض 22 کروڑ لوگوں کو مہنگائی سے بچایا ہوا تھا تو کیا یہ مہنگا سودا تھا؟ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے تو ایک انٹرویو میں یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ نواز شریف دور کے مقابلے پر موجودہ دورِ حکومت میں پاکستان کی معیشت کا حجم سکڑ کر 264 ارب ڈالر ہو چکا ہے۔
چینی کی قیمتوں میں اضافے سے صارفین کی جیبوں سے تین سو ارب روپے جبکہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے ایک ہزار ارب روپے نکال لیے گئے ہیں۔ دوسری جانب وزارتِ خزانہ ان دعووں کو رد کرتی ہے، اس کا کہنا ہے کہ 30 جون 2020 کو پاکستان کے مجموعی قرضے اس کے جی ڈی پی کے 87.6 فیصد تھے جو جون 2021 میں کم ہو کر جی ڈی پی کا 83.50 فیصد رہ گئے ہیں۔ اسی طرح گذشتہ سال اندرونی قرضہ جو جی ڈی پی کے 56 فیصد تھا اب کم ہو کر 55.1 فیصد ہو گیا ہے۔ اسی عرصہ میں بیرونی قرضوں کی شرح میں بھی 31.6 فیصد کے مقابلے میں 28.5 فیصد کی کمی دیکھی گئی ہے۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر واقعی ایسا ہے تو پھر روپے کی قدر گرنے کی بجائے بڑھنی چاہیے تھی اور مہنگائی بھی کم ہو جانی چاہیے تھی؟ حکومت کے پاس اسکا کیا جواب ہے؟ یاد رہے کہ جب نواز شریف کو حکومت سے نکالا گیا تو پاکستان کے بیرونی قرضے 70 ارب ڈالر تھے جو اب بڑھ کر 122ارب ڈالر ہو چکے ہیں جبکہ مجموعی قرضوں کا حجم 253 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ صرف گذشتہ ایک سال میں مجموعی قرضوں میں 37 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔ بڑھتے قرضوں کی وجہ سے روپے کی قدر میں مسلسل کمی ہو رہی ہے اور ’بلوم برگ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستانی کرنسی ایشیا میں سب سے بری کارکردگی دکھا رہی ہے جس کی قدر مئی 2021 میں ایک ڈالر کے مقابلے میں 152روپے تھی جو اب تقریباً ساڑھے چار مہینوں میں مزید کم ہو کر 173روپے ہو چکی ہے۔
اس کا براہ راست اثر غربت میں اضافے کی صورت میں نکلا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ عالمی بنک کے اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد تقریباً 40 فیصد ہو چکی ہے۔خود کپتان حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کئے گئے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق پچھلے ایک سال میں ملکی قرضوں کا حجم 40 فیصد بڑھ چکا ہے۔حکومت نے گزشتہ ایک سال کے دوران 43 کھرب روپے کا قرضہ لیا جو کہ ایک نیا ریکارڈ ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق قرضوں کا بڑھتا ہوا حجم مالی عدم توازن کا باعث بن رہا ہے۔ کیونکہ اس کی وجہ سے قرضوں کی ادائیگی کی قیمت یعنی سود میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اور حکومت کو قرضے واپس کرنے کے لیے مزید قرضے لینے پڑتے ہیں۔ لیکن منیر افضل اس رائے سے اتفاق نہیں کرتے۔
ان کا کہنا ہے کہ حالیہ مدت میں مالی عدم توازن کافی بہتر ہوا ہے۔ جس کی بنیادی وجہ درآمدات پر انحصار کم، ٹیکس وصولیوں میں اضافہ اور ترسیلات زر میں بڑھاوا دیکھا جا رہا ہے۔ لیکن ان کے بقول بدقسمتی سے حکومتی اخراجات اب بھی بہت زیادہ ہیں اور ان میں کوئی خاص کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ ان کے خیال میں قرضوں میں اضافے کا تعلق بھی روپے کی قیمت میں کمی سے ہی ہے۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے وائس چانسلر ڈاکٹر ندیم الحق کا کہنا ہے کہ ’سرمایہ دار کا حق ہے کہ وہ وہاں اپنا سرمایہ لے کر جائے جہاں سے زیادہ پیسہ بنے۔ اگر آپ کے ملک کے سیاسی یا جغرافیائی حالات ٹھیک نہیں ہیں تو سرمائے کی منتقلی کو کوئی نہیں روک سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ڈالر اوپر جا رہا ہے۔ آپ کی اکانومی کو بخار ہو چکا ہے اور کوئی اس کے پیچھے موجود عوامل کو ٹھیک نہیں کرنا چاہتا۔‘ انہوں نے کہا کہ کہانی بڑی سادہ ہے۔ اگر کوئی سمجھنا چاہے کہ اس ملک کو 70 سال سے لارڈ میکالے کے جانشین چلا رہے ہیں۔ آپ کو ایک جھنڈا دے دیا گیا ہےکہ اسے لگا کر آپ خوش ہو جائیں، باقی سارا نظام ان کا ہے، وہ جب چاہتے ہیں پیسہ نکال لیتے ہیں۔ آپ اگر یہ نظام بدلنا چاہتے ہیں تو پھر اکانومی سے غیر ضروری بوجھ اتارنا ہو گا۔ یہ جن کو مراعات اور سبسڈی مل رہی ہے ان کو بند کرنا ہو گا۔ نیا نظام لے کر آنا ہو گا اور جب تک نیا نظام نہیں آئے گا عوام چکی میں پستی رہے گی۔
مہنگائی سے سب سے زیادہ جو طبقہ متاثر ہوا ہے وہ شہروں میں رہنے والا ہے جہاں اشیائے ضروریہ کے نرخ روز بڑھ رہے ہیں۔ مکان کے کرایوں میں گذشتہ ایک سال میں بڑا اضافہ ہو چکا ہے۔ اشیائے خورد و نوش پر اٹھنے والے اخراجات ہر خاندان کے دوگنا ہو چکے ہیں جس کا اثر اگر دیکھنا ہو تو کسی بھی پرائیویٹ سکول میں جا کر دیکھیں جہاں بچوں کی ایک بڑی تعداد مہنگے سے سستے سکولوں میں شفٹ ہوئی ہے۔ ظاہر ہے کہ ان کے والدین اب زیادہ فیس دینے کی سکت نہیں رکھتے۔
اسی طرح قوتِ خرید کم ہونے سے معیار زندگی پر فرق پڑا ہے۔ غریب غریب تر ہو رہا ہے۔ ڈالر کی قیمت بڑھنے سے اور بیرونی قرضوں کے دباؤ کی وجہ سے بجلی کے بل بھی دوگنا ہو چکے ہیں۔جاوید احمد جو ایک کتاب ’پاکستان کیسے امیر ملک بن سکتا ہے؟‘ کے مصنف ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’ڈالر کے اوپر بڑھنے کی کئی ایک وجوہات ہیں جن میں سے سب سے اہم یہ ہے کہ روپے کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ کرنسی کی مضبوطی کے پیچھے سونے کے ذخائر ہوتے ہیں۔ امریکہ اور چین کے پا س سب سے زیادہ سونے کے ذخائر ہیں۔ پاکستان کے پاس صرف چار ارب ڈالر کے سونے کے ریزرو ہیں جبکہ اس کی اکانومی کے حجم کے حساب سے اس کے پاس کم از کم 30 ارب ڈالر کے سونے کے ریزرو ہونے چاہیں۔ دوسرا یہ کہ سٹیٹ بنک کو ڈالر کو ڈی ریگولیٹ کرنا چاہیے تاکہ مارکیٹ اپنی ضروریات کے مطابق خود کو ایڈجسٹ کر لے۔
