پاکستان نے چین کی خاطر امریکہ کو مزید ناراض کر دیا


پاکستان کی جانب سے امریکہ میں ہونے والے ورچوئل ’ڈیموکریسی سمٹ‘ میں شرکت سے معذرت کی بنیادی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ امریکہ نے چین کو شرکت کی دعوت نہیں دی اور تائیوان کو بلا لیا ہے لہذا پاکستان چین کو ناراض نہیں کرنا چاہتا۔ دفتر خارجہ کے ذرائع نے بھی تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی جانب سے شرکت سے انکار کی بڑی وجہ یہی ہے کہ پاکستان ’ون چائنہ پالیسی‘ کے خلاف نہیں جا سکتا۔
دفتر خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ نے سمٹ میں چین کی بجائے تائیوان کو بلاکر نہ صرف ون چائنا پالیسی کی خلاف ورزی کی ہے بلکہ چین کے خلاف اعلان جنگ کردیا ہے۔ یاد رہے کہ امریکہ نے 1979 میں تائیوان سے سفارتی تعلقات توڑ دیے تھے، اور اس کے بعد سے وہ چین کے اس موقف کا احترام کرتا چلا آیا ہے کہ تائیوان چین کا الگ ہو جانے والا صوبہ ہے۔ خیال رہے کہ امریکہ اور چین کے تعلقات میں ‘ون چائنا’ پالیسی دہائیوں سے انتہائي اہمیت کی حامل رہی ہے۔ بیجنگ تائیوان کو اپنا صوبہ قرار دیتا ہے اور اس کی آزاد ریاست کی حیثیت سے پہچان کا باعث بننے والی کسی بھی کارروائی سے اجنتاب چین کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں شامل ہے۔
اسی لیے پاکستان نے امریکہ کی جانب سے ورچوئل ’ڈیموکریسی سمٹ‘ میں دعوت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے شرکت سے معذرت کر لی ہے جس سے امریکہ کے مزید ناراض ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم سفارتی اور بین الاقوامی سیاست کو سمجھنے والوں کی جانب سے اسے ایک صحیح فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق ’پاکستان مختلف معاملات پر امریکہ کے ساتھ رابطے میں ہے اور مستقبل میں موقع ملنے پر مناسب وقت میں وسیع تر امور پر بات چیت بھی کریں گے۔ تاہم ہم امریکی سمٹ میں شرکت سے معذرت کر لی گئی ہے‘۔
یاد رہے کہ 8 دسمبر کے روز انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز پالیسی اسلام آباد میں اپنے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے اس کانفرنس کا تذکرہ کیے بغیر کہا کہ دنیا میں سرد جنگ کی طرف جاتی صورت حال کے باعث بلاکس بن رہے ہیں۔ پاکستان ان بلاکس کا حصہ نہیں بنے گا۔ یاد رہے کہ امریکہ نے اس کانفرنس میں چین کو مدعو نہیں کیا جبکہ تائیوان کو مدعو کیا ہے جس پر چین بہت زیادہ نالاں ہے اور دوست ممالک سے یہی امید رکھتا ہے کہ وہ بھی امریکی سمٹ میں شرکت نہیں کریں گے۔ لہذا پاکستان نے ایسا ہی کیا ہے۔
پاکستان کی جانب سے امریکی سمٹ میں شرکت نہ کرنے پر واشنگٹن کے ممکنہ رد عمل بارے تبصرہ کرتے ہوئے سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کے اس خطے میں اب بہت کلیدی مفادات ہیں اور ان مفادات کے ہوتے ہوئے دنیا کا کوئی ملک اسلام آباد کو دباؤ میں لا کر ایک جانب نہیں دھکیل سکتا۔ اسی وجہ سے پاکستان کسی بھی چین مخالف بلاک کا حصہ کبھی نہیں بنے گا۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کے چیئرمین مشاہد حسین سید نے اردو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ’امریکہ سمجھتا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کی شرائط بھی خود ہی طے کر سکتا ہے جب جو چاہے کر اور کہہ سکتا ہے پاکستان صرف ’ہاں‘ کہنے کے لیے ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’بائیڈن انتظامیہ کو سمجھ لینا چاہیے کہ امریکہ اب دنیا میں واحد سپر پاور نہیں رہا۔ پاکستان کے پاس اپنی خارجہ پالیسی میں خطے میں مواقع اور سٹریٹیجک سپیس دستیاب ہے۔‘
پاکستان کے سابق سفیر عبدالباسط نے اس حوالے سے کہا کہ ’دنیا اس وقت ایک نئے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ امریکی کانفرنس کا سارا ایجنڈا چین اور روس کے خلاف لگ رہا ہے۔ دودری جانب پاکستان کی ہمیشہ سے ون چائنہ پالیسی رہی ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کسی ایسے فورم پر نہیں جا سکتا جہاں تائیوان موجود ہو اور چین موجود نہ ہو۔ یہ خود امریکہ کی پالیسی کے بھی خلاف ہے کیونکہ انھوں نے ون چائنہ کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔‘ ان کے بقول ’پاکستان نے اس کانفرنس میں نہ جانے کا فیصلہ کرکے خود کو مزید مشکلات سے بچایا ہے اس لیے یہ صحیح فیصلہ ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات خراب ہیں۔ انھیں ٹھیک کرنے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے تاہم اس میں یہ اس بات کو مدنظر رکھنا چاہیے کہ پاکستان کے کسی دوسرے ملک سے تعلقات متاثر ہوں۔‘
اس معاملے پر سینیٹر مشاہد حسین نے بتایا کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ پاکستان نے کسی معاملے پر امریکہ کو انکار کیا ہو۔ اس سے پہلے اس سے بہت بڑے معاملات پر بھی پاکستان امریکہ کو ’نہ‘ کہہ چکا ہے۔ ’ملک میں سیاسی و معاشی مشکلات کے باوجود پاکستان نے متعدد مواقع پر اپنے مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے امریکہ کو انکار کیا۔ 1963 میں صدر جنرل ایوب نے چائنہ پالیسی پر، 1976 میں ذوالفقار علی بھٹو نے نیوکلیئر کے معاملے پر اور 1998 میں ایٹمی دھماکہ کرتے وقت نواز شریف نے بھی امریکہ کو انکار کیا تھا۔‘ مشاہد حسین کے مطابق ’پاکستان کی قیادت ہمیشہ سے یہ سمجھتی رہی ہے کہ پاکستان کے عوام کے مقبول ترین جذبات دراصل ملکی مفادات کے تحفظ کا عکاس ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے وہ مقبول فیصلے کرنے میں کامیاب رہے اور ملک کے مفادات پر سمجھوتہ نہیں کیا۔‘ سیاسی اور خارجہ امور کے ماہرین کے علاوہ بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین بھی اس فیصلے کو ’اچھا فیصلہ‘ قرار دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہمیں ذرا بھی شرم نہیں آتی
انٹرنیشنل ریلیشنز کے پروفیسر ہمایوں خان سمجھتے ہیں کہ ’امریکہ نے جمہوریت کی اپنی تعریف کرکے کچھ لوگوں کو بلا لیا ہے اور کچھ کو دوسری جانب دھکیل دیا ہے۔ ایسے میں پاکستان کو اپنے ہمسایہ ممالک کو مشکل میں ڈالنے والے کسی فورم میں شامل نہیں ہونا چاہیے۔‘ انھوں نے بتایا کہ ’افغانستان میں موثر ترین کردار ادا کرنے کے باوجود امریکی صدر نے پاکستان کے وزیراعظم کو فون تک نہیں کیا۔ یہ پاکستان کو زچ کرنے کے مترادف ہے۔ فون نہ کرنے کا اگر امریکہ کا فیصلہ ہے تو اس کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ بھی پاکستان کا اپنا ہے۔‘ اسلام آباد میں سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کے کچھ ۔نفی اثرات تو ضرور ہوں گے تاہم پاکستان نے بھی سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہے۔ ویسے بھی اس وقت اسلام آباد اور واشنگٹن کے تعلقات جتنے خراب ہو چکے ہیں اس سے زیادہ کیا خراب ہوں گے۔

Back to top button