پاکستان پر پابندیوں کا بل امریکی شرمندگی مٹانے کے لیے ہے

https://youtu.be/BJdmqS70CJw

معروف صحافی اور تجزیہ کار نسیم زہرہ نے کہا ہے کہ افغان طالبان کی مدد کے الزام میں پاکستان پر پابندیوں کا جو بل امریکی سینیٹ پیش کیا گیا ہے اسکا اصل مقصد افغانستان میں ہارے ہوئے، مارے ہوئے اور بھاگے ہوئے امریکہ کی اپنی شرمندگی مٹانے کی کوشش ہے، اسی لیے امریکہ کے عسکری، سفارتی اور سیاسی عہدے دار طالبان کی جیت کا سہرہ پاکستان کے سر رکھ رہے ہیں۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں نسیم زہرہ کہتی ہیں کہ وہ بل جس کو امریکی اپوزیشن یعنی ریپبلکن پارٹی کے 22 سینیٹرز نے سینیٹ میں پیش کیا اگر اس کے 57 صفحات پڑھے جائیں تو امریکہ کی سیاسی، عسکری اور یقیناً نفسیاتی صورت حال کا صحیح اندازہ لگایا جا سکتا ہے، لیکن پہلے پاکستانیوں کی تسلی کی خاطر یہ دیکھ لیا جائے کہ آیا اس بل کی وجہ سے پاکستان کو طالبان کی ماضی کی مدد کی وجہ سے کوئی سزا دی جائے گی؟ یعنی اقتصادی اور مختلف قسم کی پابندیاں لگائی جائیں گی؟

نسیم کے مطابق افغانستان میں ہارے ہوئے، مارے ہوئے اور بھاگے ہوئے امریکہ کی سیاسی قیادت کو عمومی طور پر اور حزب اختلاف کی قیادت کو خاص طور پر اپنی تاریخی شرمندگی کو مٹانے کے لیے کچھ تو اقدامات آخر کرنے ہیں، کیو کہ امریکہ کی اس ہار میں دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں کی قیادت نے حصہ ڈالا۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ بات چیت شروع کر کے ان کو سیاسی و سفارتی اہمیت دی اور موجودہ صدر جو بائیڈن نے افغانستان سے نکلنے کا جو راستہ اور طریقہ اپنایا اس کے نتیجے میں تو ویت نام کی ہار کچھ بہت چھوٹی چیز دکھائی دیتی ہے۔ افغانستان سے فرار کے طریقے نے امریکہ کو ایک کبھی نہ بھولنے والی سیاسی، سفارتی اور عسکری شکست سے دوچار کروایا۔ طالبان کے تیزی سے عسکری اور سیاسی پھیلاؤ نے ان کی جیت تقریباً یقینی بنا دی تھی۔ بس معاملہ طریقہ کار کا تھا جس سے امریکہ کی شرمندگی اور پسپائی کس انتہا کی ہوتی وہ طے ہونا تھا۔

نسیم زہرہ کا کہنا ہے کہ ایک تاریخی شرمندگی کے بعد ایک ایسی قیادت اور قوم جس نے اپنے آپ کو دنیا کا عظیم ملک سمجھا اور اپنے کو دنیا کی قیادت گا رول سونپا اس نے آخر کوئی جواب تو دینا ہی ہے۔ خود کو صحیح ثابت کرنا ہے اور دوسروں پر اپنی پسپائی کی ذمہ داری عائد کرنی ہے۔ چنانچہ امریکی بل کو بھی اسی تناظر میں سمجھنا پڑے گا۔ ایک نہایت دلچسپ پہلو اس بل کا نام ہے یعنی ‘افغانستان: دہشت گردی مخالف نگرانی اور احتساب’۔ اس بل کا بنیادی ہدف یہ ہے کہ طالبان اور وہ تمام لوگ جو طالبان کی مدد کریں گے ان پر پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ لیکن اگر اس بل کے 57 صفحہ پڑھنے جائیں تو اس میں عمومی طور پر جو ہدف ہے اس کا تعلق براہ راست چین اور روس سے ہے۔

مجوزہ بل کے شروع ہی کے حصے چین اور روس کے جنوبی اور وسطی ایشیا کے ممالک سے تعلقات کے بارے میں ہیں۔ بل میں یہ صاف صاف لکھا ہے کہ روس اور چین کے جو معاشی اور عسکری تعلقات ان ممالک سے ہیں وہ امریکہ کے مفادات کی نفی کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے روس اور چین کے تعلقات کا جائزہ لینے کے لیے امریکہ کے مختلف اداروں کو سینٹ کو بتانا ہو گا کہ امریکہ، چین اور روس کو اس خطے میں کس طرح پیچھے دھکیل سکتا ہے۔
۔
نسیم کہتی ہیں کہ یہ بظاہر دلچسپ بات ہے کہ ان امریکی سینیٹرز نے بظاہر طالبان اور افغانستان کے بل میں چین اور روس پر تفصیل کے ساتھ امریکی حکمت عملی کا خاکہ بھی پیش کیا لیکن جو بظاہر آج دکھائی دے رہا ہے وہ اصل میں ایک منطقی عمل ہے۔ طالبان کا افغان حکومت سنبھالنا کسی حد تک امریکہ کے لیے تشویش کا باعث ہے لیکن یہ یاد رہے کہ امریکہ طالبان سے 2012 سے مذاکرات کر رہا ہے۔ نسیم کہتی ہیں کہ طالبان کا معاملہ شاید امریکہ کے لیے اتنا سنگین نہ ہو لیکن جس طریقے سے چین اور روس بشمول ایران، ازبکستان کا طالبان کے ساتھ ایک بہتر تعلقات کی صورت حال بنتی ہوئی نظر آ رہی ہے وہ یقینا امریکہ کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

آخر جہاں 2012 میں صدر اوباما اور ہیلری کلنٹن امریکہ کو ایشیا میں ایک قیادت کا کردار دینے کا اہتمام کر رہے تھے وہی امریکہ اس وقت افغانستان کی ہار کو لے کر شرمندہ اور پریشان ہے۔ چنانچہ امریکی سینیٹ میں پیش ہونے والا ریپبلکن بل اسی پریشانی کی نوید ہے۔لیکن نسیم کہتی ہیں کہ یہ بل نہ تو پاس ہوگا اور نہ ہی پاکستان پر اس کا کوئی اثر ہونے والا ہے۔ البتہ دو حقائق اپنی جگہ موجود ہیں۔ نمبر ایک کہ امریکہ ابھرتے ہوئے چین اور روس سے بہت گھبرایا ہوا ہے اور آنے والے دنوں میں اپنے تعلقات بھارت سے اور بھی مضبوط کرے گا۔ نمبر دو یہ کہ امریکہ پاکستان پر اقتصادی اور سیاسی دباؤ ڈال کر اسکو چین سے دور کرنے اور بھارت سے قریب کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔

Back to top button