پاکستان کا اصل حکمران فوجی بوٹ کھل کر سامنے آگیا

بالآخر پاکستانی سیاست کا اصل محور و مرکز اور سیاستدانوں کو ہمیشہ سے اپنی نوک پر رکھنے والا پاکستان کا اصل حکمران ایک کالے فوجی بوٹ کی صورت میں مین سٹریم میڈیا پر بھی ظاہر ہو ہی گیا اور ہر طرف کھلبلی مچا دی۔ آرمی ترمیمی ایکٹ کی منظوری کے بعد سے سوشل میڈیا پر بوٹ کو چمکانے، چاٹنے اور عزت دینے کا جو ٹرینڈ غالب تھا، وہ اسوقت اچانک مین سٹریم میڈیا پر چھا گیا جب تحریک انصاف کے بونگے وفاقی وزیر فیصل واڈا نے ‘اے آر وائی کے ایک لائیو پروگرام کے دوران ایک کالے رنگ کا با رعب اور چمکدار ‘فوجی بوٹ’ میز پر رکھ دیا اور بولے کہ ‘مسلم لیگ (ن) نے لیٹ کر اور چاٹ کر بوٹ کو عزت دی ہے’۔ انہوں نے کہا کہ ‘یہ ہے آج کی جمہوری مسلم لیگ، لیٹ کراور چوم کر بوٹ کو عزت دینے والی’۔ فیصل واڈا نے کہا کہ ‘قوم نے ن لیگ کی اصلیت دیکھ لی ہے، مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف بیماری کا ڈرامہ کر کے باہر بھاگ گئے’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور سابق وزیر اعظم چیخ چیخ کر لوگوں کو بتائیں کہ جب ہماری چوری پکڑی جائے گی تو ہم لیٹ کر اور چوم کر بوٹ کو عزت دیتے ہیں۔ ہم اس حد تک گر جاتے ہیں کہ کچھ بھی کرنے کو تیار ہو جائیں گے’۔
جب میزبان کاشف عباسی نے فیصل واڈا سے سوال کیا کہ یہ بوٹ کس کا ہے تو جواباً انہوں نے جاوید عباسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ’ان سے پوچھیں۔‘ جاوید عباسی نے جواب دیا کہ ’ان سے بہتر اور کس کو پتا ہے۔‘ فیصل واڈا اس فوجی بوٹ کی چمک کے بارے میں بار بار بات کر رہے تھے تو کاشف عباسی نے ان سے پوچھا کہ اسے کس نے چمکایا ہے۔ جس پر فیصل واڈا نے کہا کہ ’یہ چمک انسان کے ہاتھ کی نہیں ہو سکتی، جس حد تک یہ ن لیگ والے گر چکے ہیں، مجھے تو یہ زبان سے چمکا ہوا لگ رہا ہے۔‘
قمر الزمان کائرہ نے فیصل واڈا کے اس فقرے پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ ’کاشف عباسی صاحب آپ اپنا پروگرام کر لیں، یہ اپنی حکومت کر لیں، ہم تو قوم کے سامنے ایسے گالیاں نہ سننے کو تیار ہیں نہ دینے کو تیار ہیں۔‘ ان کے اس ردِ عمل کے بعد پروگرام میں سنجیدہ گفتگو شروع ہوئی۔
قمر الزمان کائرہ نے کہا کہ ’حکومت کا ایک وزیر کہہ رہا ہے کہ فوج سیاست میں مداخلت کر کے اپنا ووٹ اس بوٹ کی بنیاد پر لیتی ہے۔‘ کاشف عباسی بولے کہ کیا یہ سچ نہیں ہے۔ اس پر قمر الزمان کائرہ اور جاوید عباسی اپنی سیٹوں سے اٹھ گئے اور پروگرام چھوڑ کر چلے گئے۔
تاہم پروگرام کے اختتام کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر #PTIDisrpectsArmy، #Fasial Vawda اور Kashif Abbasiٹرینڈ کرنے لگے۔
اس واقعے کو سوشل میڈیا صارفین نے مختلف انداز سے دیکھا۔ اکثر صارفین کے نزدیک یہ پاکستان کی بری فوج کی توہین تھی، کچھ کو یہ حرکت اخلاقی طور پر معیوب لگی، کچھ نے کاشف عباسی کی میزبانی پر تنقید کی جبکہ بعض صارفین کو اس میں مزاح کا پہلو نظر آیا۔
صحافی طلعت حسین نے لکھا کہ ’وزیرِاعظم عمران خان کی کابینہ کے وزیر ٹی وی شو پر بوٹ صرف اس لیے لائے تاکہ یہ ثابت کر سکیں کہ پارلیمان اور حزب اختلاف فوج کو خوش کرنے کے لیے ان کے قدموں میں گری۔ ’میں نے حالیہ دور میں اتنی غیر اخلاقی حرکت ٹی وی پر نہیں دیکھی۔
اینکر پرسن مہر بخاری نے کہا کہ ‘جب قانون کی بالا دستی نہ رہے، جب ریاستی ادارے اپنا اعتماد کھو دیں تو عوامی نمائندے قرآن پاک پر حلف لے کر الزام سے بری ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور وفاقی وزیر ٹی وی پر دوران پروگرام بوٹ دکھاتے ہیں’۔
ایک ٹویٹر صارف نعمان مہب کاکاخیل نے تو فیصل واڈا کی جانب سے لائیو شو میں فوجی بوٹ لانے کے باعث انھیں نا اہل قرار دینے کا مطالبہ کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ سویلین بالادستی کا مزاق اور افواج پاکستان کو سیاست میں گھسیٹنے کے مترادف ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے ایک ’پختہ حامی‘ حمزہ شکیل کہتے ہیں کہ اس قسم کے رویے کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔ میں وزیرِ اعظم عمران خان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس غیر اخلاقی حرکت کا نوٹس لیں۔
صحافی غریدہ فاروقی نے فیصل واڈا کی اس حرکت کو میڈیا، پارلیمان اور سیاست دانوں کی توہین قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’فیصل نے اداروں کے لیے کوئی نیک نامی کا کام نہیں کیا۔‘
متین نامی ایک صارف نے تو پیشن گوئی کر ڈالی۔ کہنے لگے ’سکرین شاٹ محفوظ رکھ لینا، کل یہی جوتے ان کے سر ہر پڑیں گے۔
دوسری جانب ایسے بھی افراد تھے جنھیں فیصل واڈا کی یہ حرکت خوب پسند آئی۔ جیسے عثمان رانا نے فیصل واڈا سے کہا کہ ’آپ نے بزدلوں کا اصلی چہرہ دکھایا ہے، ہمیں آپ پر فخر ہے۔‘ ایک صارف نے لکھا کہ ’فیصل واڈا نے صرف آئینہ دکھایا ہے۔ اگر اپنے کریہہ اعمال کا عکس اپنے ہی چہرے پر دیکھ کر ڈر لگ رہا ہے تو اپنے اعمال درست کرو۔‘
کیکاؤس میر نامی ایک صارف ابہام کا شکار دکھائی دیے۔ کہنے لگے کہ ’ہم تو سمجھتے تھے ہماری افواج ہماری سرحدوں پر ملک کی حفاظت میں مصروف ہیں لیکن وزیر کہتے ہیں کہ افواج سیاست اور ووٹ دینے دلوانے میں لگے ہیں۔‘
ساتھ ہی کچھ صارفین نے کاشف عباسی کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ انھیں فیصل واوڈا کو ایسا کرنے سے روکنا چاہیے تھا۔فاروق بگٹی نامی ایک صارف نے کہا کہ فیصل واڈا اور کاشف عباسی کو شرم آنی چاہیے۔ انھوں نے کاشف عباسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اتنے بڑے اینکرز کیسے ایسے لوگوں کو پروگرامز میں بلا لیتے ہیں۔
خواتین کے حقوق کے کارکن سلمان صوفی نے دلچسپ تجزیہ دیتے ہوئے کہا کہ فیصل واڈا نے کافی عرصے کے بعد کچھ صحیح کیا ہے۔ ’انھوں نے ایک ایسا پردہ اٹھایا جو اکثریت کی نظر میں موجود ہی نہیں ہے۔‘
لکھاری ندیم فاروق پراچہ نے طنز کا سہارا لیتے ہوئے اس صورتحال کا احاطہ کرنے کی کوشش کی اور لکھا: سر کیا آپ چائے کے ساتھ بسکٹ پسند کریں گے؟ نہیں میں اپنے کھانے کی اشیا ساتھ لایا ہوں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button