پاکستان کا مسئلہ نگراں وزیرِ اعظم نہیں’بااختیار وزیراعظم‘ ہے

سینئر صحافی اور کالم نگار حماد غزنوی نے کہا ہے کہ جس ملک میں منتخب وزیراعظم کو کان سے پکڑ کر کرسی سے اٹھا دیا جاتا ہو وہاں نگراں وزیراعظم کیا بیچتا ہے۔ ہمارا مسئلہ نگراں وزیرِ اعظم نہیں ہے، ہمارا مسئلہ’’وزیراعظم‘‘ ہے، ایک شفاف انتخاب کے نتیجے میں منتخب اور با اختیار وزیراعظم ۔ جس طرح مختلف مذاہب کے پیروکار کسی مقدس ہستی کی آمد کے منتظر ہیں، کچھ اسی طرح ہم بھی 76 سال سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے پہلے با اختیار وزیراعظم کے انتظار میں ہیں. اپنے ایک کالم حماد غزنوی لکھتے ہیں کہ سچ تو یہ ہے کہ ہم ہراس ریاست سے حسد کرتے ہیں جہاں نگراں وزیراعظم نام کا پرندہ نہیں پایا جاتا، دنیا کی ہر بڑی جمہوریت اس پنچھی سے ناواقف ہے، لیکن ہم بے یقینی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ، لہٰذا ’’کون ہو گا نگراں وزیراعظم‘‘ کی بحث ہر طرف خشوع وخضوع سے جاری ہے۔ ویسے نگراں وزیراعظم والی شق آئین میں شامل کرنے والوں کی نیت نیک تھی، کیوں کہ اگلے وقتوں میں ہوتا کچھ یوں تھا کہ بے نظیر بھٹو کو وزارت عظمیٰ سے ہٹا کر اپوزیشن لیڈر غلام مصطفیٰ جتوئی کو نگراں وزیراعظم لگا دیا گیا تھا، اس بو العجبی کا حل جمہورین نے یہ ڈھونڈا کہ سیاسی جماعتیں باہمی مشاورت سے کسی غیر متنازع شخص کو نگراں وزیراعظم چن لیا کریں، لیکن ریاست کے مستقل اربابِ بست و کشاد نے اس کا بھی توڑ ڈھونڈ لیا . حماد غزنوی لکھتے ہیں کہ ہم پاکستانیوں کے خبط بھی بہت دلچسپ ہیں، مثلاً تاریخ کے حوالے سے ہی دیکھ لیجئے، ہم اپنی پسند کی تاریخ کے ماننے والے ہیں، اپنے خطے کی تاریخ آدھی مانتے ہیں، آدھی نہیں مانتے، آپ یوں کہہ لیجئے کہ اپنے باپ کو باپ مانتے ہیں مگر دادا جان کو نہیں مانتے، یہ بھی ایک عجیب نفسیاتی کیفیت ہے۔ امریکہ کا صرف پانچ سو سال پر محیط مختصر ماضی دھند میں غیر واضح تو ہو سکتا ہے مگر ان کا ’’حال‘‘روشنی میں نہایا ہوا ہے، اور غالباً یہی فرق ہوتا ہے ایک ترقی یافتہ اور غیر ترقی یافتہ نظام میں۔ مثلاً امریکہ کا ہر شہری جانتا ہے کہ اگلے صدارتی انتخابات اگلے سال پانچ بعد نومبر میں منگل کے دن منعقد ہوں گے، اور جو امیدوار جیتے گا وہ 20 جنوری 2025 کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائے گا، جب کہ ہمارے کارواں کو گمانوں کے لشکر نے گھیر رکھا ہے، الیکشن کب ہو گا، ہو گا بھی کہ نہیں، اور اگر ہو گا تو کس کو انتخاب لڑنے کی اجازت ہو گی اور کس کو میدان سے باہر بٹھا دیا جائے گا، کیا نواز شریف کو چوتھی بار وزیراعظم بننے کی اجازت دی جائے گی، یعنی آپ یوں سمجھئے کہ’’حال ایسا نہیں کہ تم سے کہیں…ایک جھگڑا نہیں کہ تم سے کہیں۔‘‘ حماد غزنوی کا کہنا ہے کہ بلا شبہ، عدم نظام ہمارا سب سے بڑا کامپلیکس ہے، نیم تاریکی میں سائے سے ڈگمگا رہے ہیں، یہ گرد میں اٹے ہوئے ایک بے سمت کارواں کی سرگزشت ہے، ہمارا المیہ بے یقینی ہے،اور یہ بے یقینی فقط الیکشن اور اس کے متعلقات تک محدود نہیں ہے، یہ ابہام ہماری بے سروپا داستانِ کی بُنت میں شامل ہے۔ عمران خان کل تک تقویم کا احسن نمونہ تھا، آج کم ترین درجے پر فائز ہے، نواز شریف کل تک’’بھگوڑا اور مجرم‘‘تھا، آج مسند آرا ہونے کو ہے، کبھی ہمیں بتایا جاتا ہے کہ نااہلی تو تاحیات ہوتی ہے، پھر خبر آتی ہے کہ تاحیات تو ہو ہی نہیں سکتی، کبھی جماعت کے منحرفین کا ووٹ گنا جاتا ہے کبھی گنتی سے باہر کر دیا جاتا ہے، کبھی ریکوڈک معاہدہ قوم کے مفاد میں ہوتا ہے کبھی مفاد سے متصادم، ایک دن مجاہد کہلانے والے اگلے دن دہشت گرد گردانے جاتے ہیں، پہلے اطلاع ملی کہ الطاف حسین ملک کی واحد مڈل کلاس کی نمائندہ جماعت کے محبوب قائد ہیں، پھر خبرآئی کہ وہ تو سرتاپا غدار ہیں۔کبھی نیب سے اختیارات لیتے ہیں کبھی دیتے ہیں، پہلے کہتے تھے نگراں حکومت بے اختیار ہو گی، اب شنید ہے کہ با اختیار ہو گی۔ یعنی آج تک کچھ طے نہیں ہوسکا، سب مایہ ہے، سب ابہام ہے، آج کا خوب کل ناخوب قرار پاتا ہے، اور ناخوب …. خوب ، بے یقینی سی بے یقینی ہے، اب آپ ہی بتائیں کہ کسی ملک کا جما جمایا نظام دیکھ کر ہم جیسے کامپلیکس کا شکار نہ ہوں تو اور کیا ہو۔

Back to top button