پاکستان کا گرے لسٹ سے نکلنا مشکل کیوں ہو گیا؟

ایک ایسے وقت میں کہ جب فرانس میں ایف اے ٹی ایف کا جائزہ اجلاس جاری ہے اور ایسی خبریں آ رہی ہیں کہ پاکستان کو شاید گرے لسٹ میں ہی برقرار رکھا جائے، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ اگر پاکستان کو گرے لسٹ سے نہ نکالا گیا تو اس کی بنیادی وجہ بھارت کا منفی کردار ہوگا۔ دوسری جانب اسلام آباد میں موجود سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان گرے لسٹ میں برقرار رہتا ہے تو اس کی بنیادی وجہ یورپی ممالک کی مخالفت ہو گی جو کہ شدت پسند تنظیموں سے نمٹنے کے معاملے میں پاکستان کے کردار سے اب تک مطمئن نہیں ہو پائے۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ جب پاکستان کی قومی اسمبلی میں تحریک لبیک جیسی شدت پسند تنظیم کے دباؤ پر فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کی قرارداد پیش کی جائے گی تو پھر پاکستان یہ امید کیسے کرسکتا ہے کہ فرانس میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے جائزہ اجلاس میں اس کا نام ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکال دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دوسرا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ حافظ سعید، ذکی لکھوی اور مسعود اظہر جیسے اپنے سابقہ جہادی اثاثوں کو جیلوں میں ڈالنے کی بجائے اب بھی سیف ہاؤسز میں رکھے ہوئے ہے جس وجہ سے ان کے جہادی نیٹ ورک بھی ختم نہیں ہو پائے اور عالمی دنیا اس حقیقت سے آشنا ہے۔
خیال رہے کہ وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے اگلے روزکہا ہے کہ انڈیا فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے فورم کو ’سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے لیکن اسے اس فورم کو سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں ملنی چاہیے۔ وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ ’ایف اے ٹی ایف ایک تکنیکی فورم ہے جسے سیاسی معاملات کو نمٹانے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔‘ خیال رہے کہ پاکستان گرے لسٹ ممالک میں شامل ہے اور حکومت ایف اے ٹی ایف سے ریلیف کی منتظر ہے۔ لیکن وزیرِ خارجہ کے اس بیان سے معاملات پیچیدہ نظر آرہے ہیں۔
25 جون کو ایف اے ٹی ایف کے اجلاس کے آخری روز یہ طے کیا جائے گا کہ آیا پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنا چاہیے یا نہیں۔ پاکستان میں کئی ماہرین اور تجزیہ کاروں کی رائے اسی طرف اشارہ کرتی ہے کہ پاکستان کو تھوڑی سی سہولت دے کر مزید گرے لسٹ میں ہی رکھا جائے گا، جیسا کہ اس سے قبل ایف اے ٹی ایف کے اجلاسوں میں ہوتا رہا ہے۔ تاہم حتمی اعلان تو ایف اے ٹی ایف کو خود ہی کرنا ہے۔ اس وقت پاکستان کی صورتحال کا جائزہ لینے والے ایف اے ٹی ایف اجلاس سے قبل وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کا انڈیا سے متعلق بیان توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، جس میں انھوں نے انڈیا کے عالمی ’سیاسی کردار‘ کی طرف اشارہ کیا ہے۔اس بارے میں اس سے پہلے بھی بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ انڈیا کس حد تک ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کے مقدمے کو متاثر کر سکتا ہے اور کیا انڈیا کو قانونی طور پر روکا جا سکتا ہے؟
اس دوران یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پاکستان نے شدت پسند تنظیموں کے حوالے سے ایف اے ٹی ایف کی مقرر کردہ شرائط کو پورا نہیں کیا لہذا اسے گرے لسٹ میں ہی برقرار رکھا جائے گا۔ اسلام آباد میں وزارت داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ 23 جون کے روز لاہور میں حافظ سعید کی رہائش گاہ کے باہر ہونے والے بم دھماکے کا بنیادی مقصد بھی پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں برقرار رکھنا تھا کیونکہ دھماکا کرنے والی ملک دشمن قوتوں نے اس حقیقت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی کہ گیارہ برس کی قید کی سزا دیے جانے کے باوجود اس دھماکے کے وقت حافظ سعید جیل کی بجائے اپنی رہائش گاہ پر موجود تھے۔
اسلام آباد میں حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ گذشتہ تین برسوں سے انڈیا کے ذرائع ابلاغ اور اعلیٰ حکام کے بیانات سے ایسا لگتا ہے جیسے انڈین سفارتکار ایشیا پیسیفک گروپ اور ایف اے ٹی ایف دونوں جگہ پاکستان کے خلاف لابینگ کرتے رہے ہیں۔پاکستان ایشیا پیسیفک گروپ کا رکن ہے لیکن وہ 40 رکنی ایف اے ٹی ایف کا رکن نہیں جہاں حتمی فیصلہ ہوتا ہے۔ انڈیا اس کا ایک رکن ہے۔ اس معاملے پر انڈیا کے سلامتی کے امور کے تجزیہ کار سوشانت سرین کہتے ہیں کہ ایف اے ٹی ایف میں جو بھی صلاح و مشورے اور بحث و مباحثے ہوتے ہیں انھیں رکن ممالک فورم سے باہر لیک نہیں کر سکتے۔ ’اس لیے جو بھی خبریں وہاں سے آتی ہیں وہ ’ذرائع‘ کے توسط سے آتی ہیں۔ کوئی ملک براہ راست اس بارے میں بات نہیں کرتا۔‘ سوشانت مزید کہتے ہیں کہ انڈیا دہشت گردی کی روک تھام کے حوالے سے یقیناً لابی کرتا ہے لیکن پاکستان بھی اپنے حق میں فیصلے کے لیے لابی کرتا ہے۔ ان کا مطلب ہے کہ ہر ملک کسی نہ کسی سطح پر اپنے مفاد کے لیے سرگرم رہتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ’پاکستان کو جو اقدامات کرنے کے لیے کہا گیا تھا، اس کے جواب میں وہ جو ثبوت پیش کرے گا ایف اے ٹی ایف میں اس کا بہت معروضی جائزہ لیا جائے گا۔‘ سوشانت کے مطابق ایف اے ٹی ایف اجلاس میں ’کیا باتیں ہوں گی، کیا کہا جائے گا، کیا بات چیت ہو گی، اس کی تفصیلات باہر نہیں آئیں گی مگر جو فیصلہ ہو گا وہ میٹنگ کے بعد ایک پریس ریلیز میں جاری کیا جائے گا۔‘
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایسی اطلاعات آرہی ہیں کہ انڈیا کے علاوہ فرانس بھی پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کی مخالفت کر رہا ہے۔ اس معاملے پر شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان نے اب تک ایف اے ٹی ایف کی 27 سفارشات میں سے 26 پر مکمل عمل درآمد کر لیا ہے لیکن ستائسویں پر کام جاری ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ پاکستان کو مزید گرے لسٹ میں رکھنا ‘نامناسب ہو گا۔’ لیکن دوسری جانب وفاقی حکومت کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ اس وقت ایف اے ٹی ایف کی تین سفارشات پر عملدرآمد ہونا باقی ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ان تینوں سفارشات میں ‘دہشت گردوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی، سزا اور مالی معاونت پر پابندیاں شامل ہیں۔’نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر اس ترجمان نے کہا کہ ’پاکستان کی طرف سے ان سفارشات پر پیشرفت کے بارے میں جوابات جمع ہوتے رہے ہیں۔ اور اب جو اعتراضات آئیں گے ان پر کام کیا جائے گا۔’
پاکستان کے سٹیٹ بینک کے شعبے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کی ڈائریکٹر جنرل لبنیٰ فاروق نے بتایا کہ ‘اس وقت باقی رہ جانے والی تینوں سفارشات پر ہم نے بھرپور کام کیا ہوا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے جو اعتراضات آتے رہیں گے ہم ان کا جواب دیتے رہے ہیں اور آگے بھی دیتے رہیں گے۔’
اس سلسلے میں وفاقی حکومت نے مئی 2021 میں رپورٹ جمع کروائی تھی جس میں 12 دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کی تفصیلات موجود تھیں۔ ذرائع کہتے ہیں کہ پاکستان کے لیے 25 جون کو ہونے والا اجلاس اس لیے خاصا اہم ہے کہ اس کے خیال میں زیادہ تر سفارشات پر عمل درآمد کے بعد اب پاکستان سے مزید کام کرنے یا ’ڈو مور‘ کی تلوار ہٹا دینی چاہیے۔لیکن سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ جب تک حافظ محمد سعید اور مولانا مسعود اظہر جیسے دہشت گردوں کو قرار واقعی سزا دے کر جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے نہیں پہنچایا جاتا، پاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے کے امکانات معدوم ہیں۔
