پاکستان کا گرے لسٹ میں رہنا کیا اسٹیبلشمنٹ کی وجہ سے ہے؟


ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لئے تمام 27 سفارشات پر عملد رآمد میں ناکامی کا ذمہ دار پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کو قرار دیا جا رہا ہے جو حکومت کے برعکس اپنے مخصوص ایجنڈے کی وجہ سے اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتی وزرا ایف اے ٹی ایف کے حالیہ فیصلے پر افسوس کی بجائے اس بات پر شادیانے بجا رہے ہیں اور شکر ادا کر رہے ہیں کہ پاکستان بلیک لسٹ ہونے سے بچ گیا۔
تحریک انصاف حکومت کا چند روز پہلے تک یہ مؤقف تھا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے حالیہ اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دیا جائے گا تاہم ایف اے ٹی ایف کی جانب سے بدستور پاکستان کا نام گرے لسٹ میں رکھنے کے بعد حکومت نے غم غلط کرنے کے لیے یہ موقف اپنایا ہے کہ دشمن ممالک کی کوششوں کے باوجود ہم بلیک لسٹ ہونے سے بچ گئے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان نے عالمی ادارے کی جانب سے دیے گئے 27 میں سے 21 اہداف تو پورے کر لئے گئے لیکن باقی ماندہ 6 اہداف کیوں حاصل نہ ہو سکے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے ایف اے ٹی ایف کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے دل جمعی سے کام نہیں کیا۔ یہ تاثر عام ہے کہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ ایف اے ٹی ایف کو مطمئن کرنے کے لئے چاروناچار اہداف پورا کرنے کے ساتھ ساتھ جہادی تنظیموں کے خلاف آخری حد تک کارروائی نہیں کرنا چاہتی۔ حکومت چاہے بھی تو ایف اے ٹی ایف کی سفارشات شاہ پر من و عن عمل نہیں کر سکتی کیونکہ اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیاں اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں جو خطے کے معروضی حالات کو دیکھتے ہوئے جہادیوں کا مکمل طور پر قلع قمع کرنے کی بجائے اب بھی ان نیں سے کچھ کو اثاثہ سمجھتے ہوئے سنبھالنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ تجزیہ کاروں کے خیال میں دیگر معاملات میں بھی حکومت کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں لہذا ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لئےجو بھی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں وہ سب کے سب اسٹیبلشمنٹ کی مرضی اور منشاء کے مطابق ہیں۔
یاد رہے کہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی امداد کی روک تھام کے عالمی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو بدستور زیرِ نگرانی یعنی ‘گرے لسٹ’ میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ادارے کے صدر کا کہنا ہے کہ اگرچہ پاکستان 27 میں سے 21 سفارشات پر عمل کر رہا ہے لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوتی اور اسے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ایف اے ٹی ایف کے مطابق اب پاکستان کو فروری 2021 تک ان 6 سفارشات پر عمل کرنے کا وقت دیا گیا ہے جن پر تاحال کام نہیں ہو سکا۔ خیال رہے کہ پاکستان کو جون 2018 میں ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل کیا گیا تھا اور اس سلسلے میں ضروری اقدامات اٹھانے کے لیے اکتوبر 2019 تک کا وقت دیا گیا تھا جس میں بعدازاں چار مہینے کی توسیع کر دی گئی تھی۔ پاکستان نے یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ دی گئی اس مہلت کے دوران ضروری قانون سازی اور اس پر عملدرآمد کے لیے ایک موثر نظام تیار کر لے گا۔ فروری 2020 تک پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی 27 سفارشات میں سے صرف 14 پر عمل کیا تھا اور باقی رہ جانے والی 13 سفارشات پوری کرنے کے لیے اسے مزید چار ماہ کا وقت دیا گیا تھا تاہم 23 اکتوبر کو ایف اے ٹی ایف نے اپنے تین روزہ ورچوئل اجلاس میں فیصلہ کیا کہ پاکستان کو باقی ماندہ 6 نکات پر مکمل عملدرآمد تک گرے لسٹ میں برقرار رکھا جائے گا۔
باقی رہ جانے والے چھ نکات میں ایف اے ٹی ایف کے اعلامیے کے مطابق پاکستان کو یہ یقینی بنانا ہے کہ اس کے قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کی مالی معاونت کی بڑی سطح پر چھان بین کریں اور اس کی تفتیش یقینی بنائیں۔ اس حوالے سے خاص طور پر اقوام متحدہ کی طرف سے دھشت گردی گردی کئ فہرست میں شامل کئے گئے افراد کی تفتیش کریں اور ان کے خلاف مقدمے چلائے جائیں۔ اس کے علاوہ ایسے افراد کے خلاف بھی مقدمے چلائے جائیں کو فہرست میں میں نامزد افراد کے ماتحت انہیں کاروائیوں میں ملوث ہوں۔ ایف اے ٹی ایف کی طرف سے پاکستان کو کہا گیا ہے کہ دھشت گردی کی مالی معاونت کے حوالے سے مقدمہ بازی کے نتیجے میں موثر اور کارآمد پابندیاں لگائی جائیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان کو ایسے اقدامات کر کے دکھانے ہیں کہ مالی پابندیاں موثر طور پر ایسے افراد پر لگیں جو اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 1267 اور 1373 کے تحت دھشت گرد قرار پائے ہیں اسی طرح ایسے افراد جو انکے ماتحت ایسی کاروائیوں میں ملوث ہوں ان پر بھی سخت مالی پابندیاں لگائی جائیں۔ ایسے افراد پر پابندی ہو کہ نہ وہ فنڈز اکھٹے کر سکیں نا ٹرانسفر کر سکیں اور نہ ہی وہ کوئی بینک سروس استعمال کر سکیں۔ اسی طرح ان کے تمام اثاثے بھی ضبط کیے جائیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کو یہ بھی یقینی بنانا ہے کہ دہشت گردی کی معاونت کے حوالے سے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں جیسے بینکس وغیرہ کو انتظامی اور دیوانی سزائیں ملیں اور اس سلسلے میں صوبائی اور وفاقی ادارے تعاون کریں۔
ایف اے ٹی ایف کے سربراہ مارکس پلیئر نے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ پاکستان کو ادارے کی جن 27 سفارشات پر عملدرآمد کے لیے کہا گیا تھا ان میں سے 21 پر عمل ہو رہا ہے تاہم جب تک پاکستان باقی چھ سفارشات پر عملدرآمد نہیں کرتا اس کا درجہ تبدیل نہیں ہو سکتا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے یقیناً اس سلسلے میں بہت کام کیا ہے لیکن اسے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے اور وہ رک نہیں سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے بلیک لسٹ میں جانے کا خطرہ اس وقت تک نہیں ٹلا جب تک وہ ان چھ اہم سفارشات پر عملدرآمد نہیں کر لیتا جن پر کام ہونا ابھی باقی ہے۔ ادارے کے صدر کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان بقیہ سفارشات پر مقررہ مدت میں عملدرآمد کرتا ہے تو ایف اے ٹی ایف کی ٹیم پاکستان کا دورہ کر کے اس بات کو یقینی بنائے گی کہ تمام سفارشات پر عمل ہو رہا ہے اور اگر ایسا پایا گیا تو پاکستان کے گرے لسٹ سے اخراج کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button