پاکستان کی پہلی کم عمر ترین فرسٹ لیڈی، آصفہ بھٹو


 صدر پاکستان آصف علی زرداری نے اپنے عہدے کا حلف اٹھاتے ہی ایک خوبصورت سی اناؤنسمنٹ کیا کی، ملکی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کر دیا۔۔جیسے ہی صدر زرداری نے اپنی چھوٹی اور چہیتی بیٹی آصفہ بھٹو زرداری کو پاکستان کی فرسٹ لیڈی کی حیثیت سے انٹروڈیوس کروایا، دنیا بھر کے میڈیا نے فوری طور پر نہ صرف اسے ہائی لائیٹ کیا بلکہ آصفہ کی سیاسی جدوجہد کو بھی سراہا۔ 

 آصفہ بھٹو پہلی آفیشل فرسٹ لیڈی ہوں گی جو صدر کی اہلیہ نہیں بلکہ ان کی بیٹی ہیں۔ اس سے قبل پاکستان کے پہلے گورنر جنرل قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی اہلیہ چونکہ رتن بائی چونکہ حیات نہیں تھیں تو ان کی ہمشیرہ ہمیشہ اپنے بھائی کے ساتھ ہوتیں، فاطمہ جناح کو بھی فرسٹ لیڈی ہی کا پروٹوکول ملتا تھا۔ اسی طرح صدر محمد ایوب خان کی آفیشل فرسٹ لیڈی تو ان کی اہلیہ ہی تھیں لیکن عملی طور پر صدر ایوب کی بیٹی نے یہ منصب سنبھالا ہوا تھا۔

 پاکستان کی دیگر فرسٹ لیڈیز میں جو متحرک بھی رہیں۔۔ بیگم رعنا لیاقت علی خان، بیگم وقارالنساء نون، بیگم نصرت بھٹو جو آصفہ کی نانی بھی تھیں، بیگم کلثوم نواز شریف، بیگم شفیقہ ضیاالحق، رخسانہ عزیز، بیگم صہبا مشرف اور تہمینہ درانی نمایاں ہیں۔تاہم آصفہ بھٹو ان سب خواتین میں نہ صرف کم عمر ہیں بلکہ صدر مملکت کی بیٹی ہونے کے باوجود اس اہم ٹائٹل کا حقدار ٹھہری ہیں۔ آصفہ 3 فروری 1993 میں پیدا ہوئیں۔ ان کا نام، آصف زرداری نے اپنے نام جیسا ہی رکھا۔

 آصف علی زرداری، جو پاکستان کے چودھویں منتخب صدر ہی نہیں، تاریخ پر تاریخ بھی بنا رہے ہیں۔۔جی ہاں نو منتخب صدر، سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کے شوہر ، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کے والد اور پہلے سویلین ہیں جو دوسری بار صدارت کے عہدے پر فائز ہوئے۔ بہرحال اس سے پہلے 2008 سے 2013 تک، جب آصف زرداری صدارت کے منصب پر فائز ہوئے تھے تو فرسٹ لیڈی کا خانہ خالی تھا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کو 2017 میں جب شہید کیا گیا، آصفہ اس وقت ٹین ایجر تھیں۔ بے نظیر بھٹو، انتہائی ذہین، معاملہ فہم اور دبنگ سیاستدان تھیں جو پاکستان ہی نہیں مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہوئیں۔۔لیکن اس بار جب آصف زرداری صدر بنے ہیں تو آصفہ میچور بھی ہیں اور سیاست کی رمز آشنا بھی۔۔ واضح رہے کہ آصف زرداری کی بڑی بیٹی بختاور کو، جو میرڈ اور دو پیارے سے بیٹوں کی ماں ہیں، سیاست کا کوئی شوق نہیں۔ البتہ آصفہ نے والدہ، والد اور بڑے بھائی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کم عمری سے ہی فلاحی کاموں کا آغاز کر دیا تھا۔

 آصفہ کا پولیٹیکل ڈیبیو نومبر 2020 میں ہوا، اس کے بعد 2022 بھی ان کے سیاسی کیریئر میں اہم رہا جب انھوں نے بلاول بھٹو کے ہمراہ مختلف اضلاع کے دورے کئے اور ہر جگہ اپنی شناخت بنانے میں کامیاب رہیں۔ البتہ 8 فروری کے انتخابات میں انھوں نے جس طرح اپنے بھائی بلاول بھٹو کی انتخابی مہم چلائی۔۔ وہ ان کے سیاسی کیریئر میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ انتخابی مہم کے دوران جلسے، ریلیاں اور میٹنگز ایک طرف، وہ ڈور ٹو ڈور جانے سے بھی گریز نہیں کرتی تھیں اور یہ بھی سچ ہے کہ اپنے دوسرے بہن بھائی کی نسبت وہ اپنے والد کے زیادہ قریب ہیں!

Back to top button