پاک افغان بارڈر پر شرپسندی کا خفیہ منصوبہ پکڑا گیا

وفاقی حکومت کی جانب سے پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم غیرملکی تارکین وطن کو واپسی کے لیے دی گئی ڈیڈلائن ختم ہو گئی ہے جس کے بعد کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے۔ حکومت کی طرف سے بہترین انتظامات کے سبب اب تک ایک لاکھ 26 ہزار سے زیادہ افغان باشندے بغیر کسی ناخوشگوار واقعہ کے واپس افغانستان جا چکے ہیں۔ تاہم دوسری جانب ملک دشمن قوتیں افغان شہریوں کی واپسی کے پرامن عمل کو سبوتاژ کرنے کے لیے متحرک ہو چکی ہیں۔ ذرائع کے مطابق شرپسند عناصر نے افغان باشندوں کے لیے قائم شدہ کیمپوں یا ان کی نقل و حرکت کے دوران شر انگیزی کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ مذموم عناصر کو ایسی تصاویر اور ویڈیوز بنانے کا کہا گیا ہے جس میں سیکیورٹی پرسنل کو افغان باشندوں کے ساتھ زور زبردستی کرتے ہُوئے دکھایا جائے۔عورتوں اور بچوں کو خاص طور اِن تصاویر اور ویڈیوز میں شامل کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں تاکہ اسے پاکستان کے خلاف اچھی طرح پروپیگنڈا کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق سپین بولدک افغانستان میں لاگڑیوں کے ساتھ ایک میٹنگ کی گئی ہے جس میں چمن اور سپین بولدک کے علاقے میں اِس مسئلے پر پُرتشدد احتجاجی مظاہروں سے انتشار پھیلانے کا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے۔ اِسی گھناؤنے منصوبے کے مطابق جب افغان باشندے افغانستان جانے کے لیے پاکستانی سائیڈ پر کراسنگ پوائنٹس پر ہوں تو ان پر فائرنگ کروا دی جائے جس سے فوری انتشار پھیلایا جا سکے۔ذرائع کے مطابق اِس مذموم اور گھناؤنے منصوبے کا مقصد ملک دشمن عناصر کی طرف سے انتشار پھیلا کر پرامن طریقے سے چلنے والے افغان باشندوں کے انخلا کے عمل کو سبوتاژ کر کے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کو بڑھانا ہے۔
تاہم دوسری جانب پاکستان میں غیرقانونی طور پر مقیم تارکین وطن کی رضاکارانہ واپسی کی ڈیڈ لائن ختم ہوتے ہی اُن کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن شروع ہوگیا ہے، جس کے بعد یکم نومبر کو طورخم بارڈر کراسنگ کے ذریعے 100 قیدیوں سمیت 7 ہزار 300 سے زائد تارکین وطن کو ملک بدر کر دیا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ بہت سے افغان شہری، جو معمولی جرائم کی وجہ سے جیل میں سزا کاٹ رہے تھے، انہیں ان کے آبائی ملک جلاوطنی کے لیے رہا کر دیا گیا ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ جیلوں سے رہائی پانے والے غیرملکی معمولی جرائم میں ملوث تھے اور انہیں افغانستان واپس جا کر اپنی بقیہ سزا کاٹنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔یکم نومبر کو ملک بدر کیے گئے 7 ہزار 300 افغان شہریوں میں سے 51 وہ قیدی تھے جنہیں پشاور کی سینٹرل جیل سے رہا کیا گیا اور 64 کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے رہا کیا گیا۔
غیر قانونی تارکین وطن کی واپسی کیلئے جہاں ملک بھر میں کریک ڈاؤن جاری ہے وہیں پاکستان کی نگران حکومت کی جانب سے افغان پناہ گزینوں اور سیاسی پناہ مانگنے والوں کی اجتماعی بے دخلی کے خلاف نامور سیاستدانوں، انسانی حقوق کے کارکنان اور وکلا نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے۔
وکیل اور انسانی حقوق کے کارکن جبران ناصر نے سپریم کورٹ میں دائر کی جانے والی پٹیشن کی کاپی ٹوئٹر پر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’ہم نے اپنی پٹیشن میں یہ استدعا کی کہ رجسٹرڈ افغان پناہ گزینوں کو تحفظ فراہم کیا جائے اور جن کی سیاسی پناہ کے لیے درخواستیں زیرالتوا ہے ان کو ڈی پورٹ نہ کیا جائے بلکہ ان کے کیسز جلدی نمٹائے جائیں۔ درخواست میں یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ جو افغان یہاں پیدا ہوئے ہیـں جن کو ہم پیدائش کی بیناد پر پاکستانی شہری سمجھتے ہیں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔‘
درخواست دائر کرنے والے نامور افراد میں پاکستان پیپیلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر، جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان، انسانی حقوق کی کارکن آمنہ مسعود جنجوعہ، جبران ناصر، روحیل کاسی، سید معاذ شاہ، وکیل ایمان زینب مزاری، احمد شبر، پاسٹر عزالہ پروین، عمران شفیق ایڈوکیٹ اور دوسرے شامل ہیں۔
سپریم کورٹ نے ابھی تک پٹیشن کو سماعت کے لیے مقرر نہیں کی ہے۔خیال رہے اکتوبر کے شروع میں حکومت نے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو 31 اکتوبر تک رضاکارانہ طور پر ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔ یکم نومبر سے غیرقانوی طور پر مقیم غیرملکیوں کو گرفتار کرکے ڈی پورٹ کرنے اور جائیدادیں ضبط کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ میں دائر درخواست آئین کے آرٹیکل 184 (3) کے تحت دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں وفاق کو نگران وزیراعظم، اپیکس کمیٹی کو سیکریٹری داخلہ کے ذریعے، تمام چار صوبوں، اسلام آباد، اور کمشنر برائے افغان پناہ گزین کو فریق بنایا گیا ہے۔پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ نگران حکومت کا فیصلہ افغان مہاجرین، سیاسی پناہ مانگنے والوں اور غیرقانوی مہاجرین کی میزبانی کے پاکستان کے 45 سالہ پالیسی کو الٹ دینے کے مترادف ہے، جو کہ نگران حکومت کے محدود آئینی حدود سے باہر ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ غیرقانونی مہاجرین کو واپس بھیجنے کا ایشو پاکستان کی منتختب حکومتوں کے سامنے بھی آتا رہا ہے جنہوں نے اس حوالے سے اجتماعی بے دخلی کے بجائے انسانی ہمدردی کے بنیاد پر مناسب فیصلے کیے۔’یہ انتہائی قابل تشویش بات ہے کہ نگراں حکومت اپنے بنیادی کام یعنی الیکشن کی تیاری کرنے کے بجائے تزویراتی اہمیت کے فیصلے لے رہی ہے جن کے اثرات اس ملک کے باشندوں پر ہوں گے۔‘درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ حکومت کے غیرقانونی طور پر مقیم غیرملکی افراد کو نکالنے کے فیصلے کو غیرقانوی اور غیرآئینی قرار دیا جائے۔درخواست میں یہ استدعا بھی کی گئی ہے کہ کسی بھی ایسے شخص کو زبردستی بے دخلی یا ڈی پورٹ کرنے سے روکا جائے جو پاکستان میں پیدا ہوا ہو اور اس بنیاد پر پاکستانی شہریت کا متمنی ہو۔
