پاک سعودی کشیدگی کی وجہ صرف کشمیر نہیں ایران بھی ہے


پاکستان اور سعودی عرب کے مابین موجودہ کشیدگی اور تناؤ کی بظاہر سب سے بڑی وجہ مسلہ کشمیر پر ریاض کی جانب سے اسلام آباد کے مؤقف کی کھل کر حمایت نہ کرنا اور بھارت کا ساتھ دینا ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ یہ معاملہ صرف کشمیر تک محدود نہیں اور دونوں ملکوں میں بڑھتی ہوئی دوریوں کی ایک بڑی وجہ ایران کی چابہار بندرگاہ کو چین پاکستان اقتصادی راہداری یعنی سی پیک کا حصہ بنوانے میں پاکستان کا کردار بھی ہے.
یاد رہے کہ پچھلے کچھ ماہ سے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات تاریخ کی نچلی ترین سطح پر جا چکے ہیں جس کی بنیادی وجہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ایک سعودی مخالف بیان کو قرار دیا جا رہا ہے جو انہوں نے مسئلہ کشمیر پر پاکستانی ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے دیا۔ بڑھتی ہوئی پاک سعودی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے سعودی عرب کا دورہ تو کیا لیکن سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اتنے ناراض تھے کہ انہوں نے پاکستانی فوجی قیادت کو ملنا بھی گوارا نہ کیا۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیا ہوا جس کے بعد سعودی ولی عہد نے پاکستان کے حوالے سے اپنے دوستانہ موقف پر ایک بڑا یوٹرن لے لیا۔
یاد رہے کہ پچھلے سال جب سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے پاکستان کا دورہ کیا تو ان کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ بقول وزیراعظم عمران خان اگر وہ پاکستان سے الیکشن لڑتے تو کامیاب ہو جاتے۔ عمران خان بذات خود محمد بن سلمان کا ایئرپورٹ پر پر استقبال کرنے کے بعد انکی گاڑی چلاتے ہوئے وزیراعظم ہاؤس تک لے کر گئے۔ جب جوابی دورے پر عمران خان سعودی عرب پہنچے تو محمد بن سلمان نے بھی ان کے لیے گاڑی ڈرائیو کی اور اپنی محبت کا اظہار کیا۔ پھر پاکستان کی مشکل میں گھری معیشت کے لیے 20 ارب ڈالر کے سمجھوتوں پر دستخط ہوئے اور ایسا محسوس ہوا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے تاریخی رشتوں کو نئی جہت مل گئی ہے۔
تاہم 5 اگست 2020 کو جب پاکستان اپنے ہمسائے انڈیا کی جانب سے اس کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہونے کے ایک سال مکمل ہونے پر یوم استحصال منا رہا تھا تو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک نیوز چینل پر ایک پروگرام میں پہلی مرتبہ کشمیر کے معاملے پر سعودی عرب کی پالیسی پر کھل کر مایوسی کا اظہار کیا۔انھوں نے کہا کہ ’سعودی عرب اور ہمارے بہت عمدہ تعلقات ہیں۔ احترام اور محبت کا رشتہ ہے۔ پاکستانی مکہ اور مدینہ کی سالمیت پر جان دینے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن آج میں اسی دوست ملک سے کہہ رہا ہوں کہ پاکستان کا مسلمان اور وہ پاکستانی جو آپ کے لیے لڑ مرنے کو تیار ہے آج وہ آپ سے تقاضا کر رہا ہے کہ آپ کشمیر کے معاملے پر وہ قائدانہ کردار ادا کریں جو مسلم امہ آپ سے توقع کر رہی ہے۔۔۔ اور اگر نہ کیا تو میں عمران خان سے کہوں گا کہ ’سفیر کشمیر‘ اب مزید انتظار نہیں ہو سکتا۔ ہمیں آگے بڑھنا ہوگا۔ سعودی عرب اور او آئی سی کے ساتھ یا اس کے بغیر۔‘ یاد رہے کہ او آئی سی کے سب سے بڑے کرتا دھرتا سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ہیں۔
شاہ محمود قریشی نے اس انٹرویو میں مزید کہا ’میں ایک مرتبہ پھر او آئی سی سے مودبانہ گذارش کروں گا کہ اگر کونسل آف فارن منسٹرز کا اجلاس آپ نہیں بلا سکتے تو میں مجبوراً اپنے وزیر اعظم سے کہوں گا کہ وہ مسلم ممالک جو کشمیر کے مسئلے پر ہمارے ساتھ کھڑا ہونا چاہتے ہیں اور کشمیری مظلوموں کا ساتھ دینا چاہتے ہیں، ان کا اجلاس بلا لیں چاہے وہ او آئی سی کے فورم پر ہو یا نہ ہو۔‘ شاہ محمود قریشی کا اشارہ ترکی اور ملائیشیا کی جانب تھا۔ دسمبر 2019 میں اس وقت کے ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کی دعوت پر عمران خان کوالالمپور سربراہی اجلاس میں شرکت کرنے والے تھے۔ اس اجلاس میں ترکی، انڈونیشیا، قطر اور پاکستان سمیت کئی مسلم ملکوں کے رہنماؤں کو دعوت دی گئی تھی اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ او آئی سی سے ہٹ کر ہم خیال مسلم ممالک کا ایک نیا پلیٹ فارم وجود میں آ رہا ہے۔ جس میں سعودی عرب کو مرکزی حیثیت حاصل نہیں ہو گی۔ پاکستان نے ابتدائی طور پر اس نئے پلیٹ فارم کی حمایت بھی کی تھی لیکن پھر اچانک عمران خان نے اس اجلاس میں شرکت سے معذرت کر لی تھی۔ ایسا سعودی عرب کے دباؤ پر کیا گیا جو نہیں چاہتا تھا کہ پاکستان جیسا اہم مسلم ملک اپنا سیاسی، سفارتی اور فوجی وزن کسی اور پلڑے میں ڈالے۔
شاہ محمود قریشی نے اپنے انٹرویو میں تصدیق کی کہ کوالالمپور نہ جانے کا ’اتنا بڑا فیصلہ‘ پاکستان نے سعودی عرب کے دباؤ میں آ کر کیا۔ ’سعودی عرب نے تقاضا کیا اور ہم نے بڑے بوجھل دل کے ساتھ ملائشیا کو سمجھانے کی کوششیں کیں۔ ’میں خراج تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں مہاتیر محمد کو جنھوں نے گلہ تک نہیں کیا اور اس وقت بھی وہ ہماری مشکلات کو اور مجبوریوں کو سمجھ گئے۔‘ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ او آئی سی بیچ بچاؤ آنکھ مچولی سے باہر نکلے اور یہ فیصلہ کرے کہ وہ اس حساس مسئلے پر پاکستان کا ساتھ دینا چاہتی ہے یا نہیں۔
پاکستان کے وزیر خارجہ کی جانب سے کھلے عام سعودی عرب پر تنقید سے سفارتی حلقوں میں تہلکہ مچ گیا۔اس بیان کو نہ صرف ریاض بلکہ پاکستان کے سعودی نواز حلقوں میں ناپسندیدگی سے دیکھا گیا۔ کچھ سیاستدانوں، نیوز اینکرز اور مذہبی حلقوں کی جانب سے اسے وزیر خارجہ کی ذاتی رائے سے تعبیر کیا گیا تو کہیں اسے وزیراعظم پر دوسرے فرقوں کی لابی کے اثرورسوخ کا نتیجہ قرار دیا گیا۔ تاہم ایک حالیہ انٹرویو میں وزیراعظم عمران نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ کوئی اختلافات نہیں ہیں اور ان کے ساتھ مضبوط برادرانہ تعلقات قائم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام ملک اپنے خارجہ پالیسی کے اعتبار سے فیصلہ کرتے ہیں اور سعودی عرب کی بھی اپنی پالیسی ہے۔ یاد رہے کہ وزیر اعظم نے یہ بیان تب دیا جب آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اپنے ڈی جی آئی ایس آئی کے ساتھ سعودی عرب میں موجود تھے اور محمد بن سلمان سے ملاقات کی کوشش میں مصروف تھے جو بالآخر نہ ہو پائی۔
پاکستانی فوجی قیادت کا یہ دورہ سعودی عرب دراصل اس اس ڈپلومیسی کا حصہ تھا جو کہ وزیر خارجہ کے بیان کے بعد پاک سعودی تعلقات میں پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے شروع کی گئی۔ یاد ریے کہ جب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی پاکستان مسلسل اس معاملے پر اسلامی ملکوں کی تنظیم کے وزرائے خارجہ کا اجلاس بلانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اسے اب تک اس میں کامیابی نہیں ہو سکی۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کشمیر کے معاملے پر سعودی عرب اور خاص کر محمد بن سلمان کا انڈیا اور امریکہ کی طرف جھکاؤ واضح ہے اور یہ بالکل بھی حیران کن نہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سعودی عرب اور انڈیا کے تجارتی رشتے زبردست ہیں بلکہ انڈیا کے ساتھ پاکستان کی نسبت سعودی عرب کی زیادہ تجارت ہوتی ہے۔ بدلتے ماحول میں اب دنیا مسلم امہ بمقابلہ دوسرے ملکوں کے بلاکس کے درمیان تقسیم نہیں ہے۔ یہ ایسی دنیا ہے جہاں ہر ملک اپنے قومی مفاد کو دیکھتے ہوئے نئے اتحاد اور پالیسیاں بنا رہا ہے۔ایسے میں سعودی عرب کی مسلم شناخت اب صرف مقدس مقامات کی متولی ہونے کی حد تک محدود ہو چکی ہے اور محمد بن سلمان کی حکمرانی میں امریکہ کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات اور تجارتی مفاد ان کی خارجہ پالیسی کے اہم ستون ہیں۔
چنانچہ تجزیہ نگاروں کے مطابق ان بدلتے ہوئے بین الاقوامی حالات میں اس وقت پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی پر بھی نظر ثانی کی ضرورت ہے کیونکہ سعودی عرب کی وجہ سے پاکستان دوسرے ملکوں جیسے کہ ایران کے ساتھ اپنے رشتے بنانے پر توجہ نہیں دے سکتا۔ اسلام آباد کو مشرق وسطی کے مسائل کے بجائے اپنے خطے میں رابطے بہتر بنانے کے لیے کوششیں کرنی چاہیئے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے تناؤ کی بظاہر سب سے بڑی وجہ کشمیر کے معاملے پر ریاض کی جانب سے اسلام آباد کے مؤقف کی کھل کر حمایت نہ کرنا ہے۔ تاہم کئی سیاسی امور کے ماہرین یہ سمجھتے ہیں کہ کہانی صرف کشمیر کی نہیں اور یہ کہ دونوں ملکوں میں ’دوریوں‘ کی ایک وجہ ایران کی چابہار بندرگاہ کو چین پاکستان اقتصادی راہداری یعنی سی پیک کا حصہ بنوانے میں پاکستان کا کردار بھی ہے۔
یاد رہے کہ پہلے چابہارریلوے منصوبہ انڈیا کہ تعاون سے بنایا جا رہا تھا لیکن اب ایران نے دفاعی اور اقتصادی اہمیت رکھنے والے اس منصوبے سے انڈیا کو علیحدہ کر دیا ہے۔ اب چین اس ریلوے لائن پراجیکٹ پر سرمایہ کاری کرے گا۔ جو کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ اس کی سلامتی اور خطے میں اس کے تجارتی اور سیاسی مفادات میں بہتر ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر پاکستان نے کوششں کی ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہدری ایران سے منسلک ہو جائے اور چابہار بندرگاہ بھی سی پیک کے دائرے میں آ جائے تو اس پر سعودی عرب میں ردِ عمل ضرور ہے۔ ایران اور سعودی عرب شیعہ سنی بنیادوں پر نظریاتی مخالف ہیں اور دونوں کے درمیان یمن سے لے کر شام تک کئی پراکسی جنگیں چل رہی ہیں۔
دوسری طرف سعودی عرب امریکہ کا اتحادی ہے اور امریکہ نے ایران پر سخت اقتصادی پابندیاں لگا رکھی ہیں تو ایسا کوئی بھی منصوبہ جس سے ایران کو معاشی طور پر فائدہ ہو یا چین کے ’ون بیلٹ ون روڈ‘ منصوبے کو تقویت ملے امریکہ بھی اسے ناپسند ہی کرے گا۔ پاکستان نے چابہار منصوبے والا قدم نیک نیتی اور اپنے اور خطے کے مفاد میں اٹھایا ہے لیکن سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں، امریکہ اور بھارت کے لیے اسے برداشت کرنا کافی مشکل ہے۔ خاص طور پر سعودی عرب جو سمجھتا ہے کہ پاکستان اس کے مفاد کو ہمیشہ ترجیح دے گا۔ لیکن یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھنی چاہئے کہ ہر ملک کا اپنا قومی مفاد ہوتا ہے اور دنیا کی کوئی بھی ریاست اپنے ملکی مفاد کی قیمت پر دوسرے ملک کے قومی مفاد کا دفاع نہیں کرتی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button