پاک فوج کی شمالی وزیرستان میں‌ کارروائی، 4 دہشتگرد ہلاک

شمالی وزیرستان میں پاک فوج کی کارروائی کے دوران 4 دہشتگرد ہلاک ہوگئے، آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے، مارے گئے دہشت گرد سیکیورٹی فورسز کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں میں سرگرم تھے۔
واضح رہے کہ خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کی کارروائیاں کافی وقت سے جاری ہیں جس کے نتیجے میں پاک فوج کے متعدد جوانوں نے جام شہادت نوش کیا ہے جبکہ مقابلوں میں سیکڑوں دہشت گرد بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔
2 جولائی کو سیکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان میں 2 علیحدہ علیحدہ کارروائیوں میں 4 دہشت گرد ہلاک کیے تھے، جبکہ پاک ۔ افغان سرحد کے قریب ضلع خیبر میں ہونے والے حملے میں 3 فوجی جوان زخمی ہوگئے تھے، پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بتایا تھا کہ شمالی وزیرستان کی تحصیل غلام میں خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کی گئی کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشت گرد مارے گئے تھے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق شمالی وزیرستان میں فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایک اور عسکریت پسند اس وقت مارا گیا جب افغانستان سے دہشت گردوں نے کنجیرا اور وارگر چوکیوں کے قریب سرحدی باڑ کو توڑنے کی کوشش کی تھی بعد ازاں سرچ آپریشن کے دوران 13 مشتبہ افراد کو تفتیش کے لیے اٹھایا اور نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا تھا۔
شمالی وزیرستان کی تحصیل غلام میں خفیہ اطلاع پر کیے گئے آپریشن کے بارے میں ذرائع نے بتایا تھا کہ یہ گنگا خیر کلے علاقے میں خیبر پختونخوا پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور فرنٹیئر کور کی انسداد دہشت گردی فورس کی مشترکہ کارروائی تھی جو افغانستان سے دہشت گردوں کے ایک گروہ کی شمالی وزیرستان میں دراندازی کی اطلاع پر کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ دہشت گردوں نے سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ کردی اور فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشت گرد مارے گئے جبکہ ان کے ساتھی افغانستان فرار ہوگئے تھے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق مارے گئے دہشت گردوں کی شناخت افغانستان کے علاقے کنڑ کے رہائشی سعید اللہ عرف علی ولد محمد سعید، ضلع خیبر کی تحصیل باڑا کے رہائشی ضیا الرحمٰن آفریدی عرف طلحہ ولد عاشق خان اور نوشہرہ کی پبی چوکی دراب کے رہائشی مستقیم خان ولد غلام زمان کے نام سے ہوئی۔

Back to top button