‘پراجیکٹ عمران’ شروع کرنے والوں سے شناخت میں غلطی کیوں ہوئی؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار حماد غزنوی نے کہا ہے کہ پاکستان کی طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ‘پروجیکٹ عمران خان’ شروع کرتے وقت ہونے والی شناخت کی غلطی پوری پاکستانی قوم کو بھگتنا پڑ رہی ہے۔ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں حماد کہتے ہیں کہ سینئیر صحافی ارشد شریف کینیا میں پولیس کے ہاتھوں قتل ہو گئے، کینیا پولیس نے کہا کہ ’Mistaken Identity ‘ کا کیس ہے اور یہ کہ ارشد کسی اغوا کے مجرم کے دھوکے میں مارے گئے ہیں۔ ایسے معاملات میں تو اچھے خاصے مہذب ملکوں کی پولیس کے بیانات پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا، لہذا کینین پولیس کی بات کون مانے گا کیونکہ آثار کچھ اور بتاتے ہیں۔ معروف دانشور رئیس امروہوی کو جب کراچی میں انکے گھر میں گولی ماری گئی تو ان کے چھوٹے بھائی جون ایلیا نے کہا تھا کہ قاتل میرے بھائی کا مرتبہ شناس تھا، اس نے رئیس بھائی کو دماغ میں گولی ماری تھی، بھائی اور تھے بھی کیا، دماغ ہی تو تھے۔ اس قتل کو بھی حادثے کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی اور کہا گیا کہ ان کے سر میں پنکھے کا پر لگا ہوگا۔

حماد غزنوی بتاتے ہیں کہ ارشد شریف کے بھی سر میں گولی ماری گئی۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ واقعی شناخت کی غلطی کا کیس ہے؟قتل کے حقائق سے پردہ اٹھانے کے لیے حکومت نے ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے، لیکن سوال یہ یے کہ اسکا نتیجہ کیا نکلے گا؟ کیا اس قتل کے محرکات کا علم ہو جائے گا؟ کیا پتا چل جائے گا کہ یہ قتل کی سازش تھی یا حادثہ؟ ارشد نے ملک کیوں چھوڑا، ارشد کو دبئی سے ڈی پورٹ کرنے کا کس نے کہا، کیا یہ سب معلوم ہو جائے گا؟ بات یہ ہے کہ پچھلے دس سال میں تقریباً 100 پاکستانی صحافی شہید ہو چکے ہیں، اور سب کے سب ’حادثاتی‘ طور پر ہوئے ہیں۔ ارشد شریف بھی ایک صحافی تھا، اور ’حادثاتی‘ طور پر مارا گیا۔ ایسے میں نیا کیا ہوا ہے؟

حماد غزنوی کہتے ہیں کہ پہلے اس سوال کا جواب ڈھونڈنا ہوگا کہ کیا سلیم شہزاد کو ’شناختی غلطی‘ کی بنا پر قتل کیا گیا تھا؟ کیا حامد میر کے جسم میں چھ گولیاں اتارنے والے طاقتور عناصر کو Mistaken Identity کا مسئلہ درپیش تھا؟ کمیشن تو تب بھی بنائے گئے تھے، کیا نتیجہ نکلا تھا؟ ابصار عالم کو اسلام آباد میں گولی مارنے والوں نے اچھی طرح شناخت کر کے گولی ماری تھی، عمر چیمہ، احمد نورانی اور اسد طور کو چُن کر، مکمل شناخت کرنے کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا، مطیع اللہ جان کو پوری شناخت کے بعد اغوا کیا گیا تھا، عامر میر، رضوان رضی اور عمران شفقت کو بھی گرفتار کرتے وقت شناخت کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں تھا، ان کیسز کی کیا انکوائری ہوئی، کس کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا اور کس کے خلاف ایکشن لیا گیا؟ یہ ماضی کا تجربہ انکوائری کمیشنز اور کمیٹیوں کا۔

حماد کہتے ہیں ارشد شریف کی صحافت کے بیشتر پہلوئوں سے اتفاق کرنا ہمارے لیے دشوار رہا ہے، بالخصوص خاکی پہلو سے، مگر اس حقیقت سے انکار نہیں کہ وہ ایک صحافی تھا اور اسے کسی وجہ سے ملک چھوڑنا پڑا۔ اسی لیے انکا قتل بھی مشکوک ہے اور عمران خان کے الزامات کے بعد فوج نے حکومت کو کہہ کر انکوائری کمیشن بنوایا یے جس سے اب آئی ایس آئی کا نمائندہ بھی نکال دیا گیا ہے۔ لیکن ارشد شریف کی لاش وطن پہنچنے سے پہلے ہی اپنی جبلت سے مجبور سیاسی گدھ فضا میں منڈلانے کا آغاز کر چکے تھے،

لاشیں سیاسی تحریکوں کو مہمیز دیا کرتی ہیں، چنانچہ عمران خان نے ارشد شریف کی تدفین سے پہلے ہی لانگ مارچ کا اعلان کر دیا، حالانکہ انہوں نے جنازے میں شرکت کی زحمت نہیں کی۔ خان صاحب کو غالباً یوں لگا ہو گا کہ ارشد کی میت ان کو وہ مومینٹم فراہم کر سکتی ہے جس کی انہیں بہت دنوں سے تلاش تھی۔ عمران کا اصرار ہے کہ ارشد کو قتل کیا گیا ہے، ویسے کریمنالوجی کی رو سے مجرم تک پہنچنے کا ایک راستہ یہ بھی ہوتا ہے کہ غور سے جائزہ لیا جائے کہ قتل کا فائدہ کسے پہنچ رہا ہے، قتل کی ٹائمنگ کا بھی تجزیہ کیا جاتا ہے کہ یہ مخصوص وقت کیوں چُنا گیا۔عین اُس وقت جب شہباز شریف سعودیہ کے شاہی خاندان سے پاکستان کے معاشی استحکام اور سرمایہ کاری کے حوالے سے بات چیت کر رہے تھے، عمران خان ارشد شریف کی لاش کے کاندھے پر سوار لانگ مارچ کا اعلان کر رہے تھے۔

حماد غزنوی یاد دلاتے ہیں کہ عمران خان کے 2014 کے لانگ مارچ کے وقت چینی صدر پاکستان کے دورے پر آنے والے تھے لہذا ان سے درخواست کی گئی کہ اپنا پروگرام ملتوی کر دی لیکن وہ نہ مانے اور چینی صدر کو اپنا دورہ پاکستان ملتوی کرنا پڑا۔ اب ایک بار پھر اگلے ہفتے وزیرِ اعظم شہباز شریف چین کا انتہائی اہم دورہ کرنے والے ہیں، اور عمران خان کا لانگ مارچ تب اپنے جوبن پر ہو گا، اس وقت کروڑوں پاکستانیوں کا اولین مسئلہ معاشی عدم استحکام ہے اور لانگ مارچ ملک میں معاشی وسیاسی افراتفری کا سب سے مجرب نسخہ قرار دیا جاتا ہے۔ اور سب سے بڑھ کر، نومبر کے مہینے میں آرمی چیف کی تعیناتی نے عمران کو بے قرار کر رکھا ہے، وہ ایک ٹیسٹ ٹیوب سیاست دان ہونے کی وجہ سے اپنے مستقبل کو آرمی چیف کی تعیناتی سے منسلک کر بیٹھے ہیں، پہلے انہوں نے جنرل قمر باجوہ کو توسیع دینے کی تجویز پیش کی لیکن جب دال نہیں گلی تو لانگ مارچ کرنے کا فیصلہ کر لیا جس کا بنیادی مقصد اپنی مرضی کا فوجی سربراہ تعینات کروانا ہے۔ تاہم سابق وزیراعظم نواز شریف نے لندن میں اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ عمران کسی بھی صورت اپنی مرضی کا نیا آرمی چیف نہیں لگوا سکتے۔

حماد غزنوی کہتے ہیں کہ اب ذرا شناختی غلطی کے ایک اور سبق آموز واقعے کا تذکرہ بھی ہو جائے، اسٹیبلشمینٹ کے سرخیل فوجی سربراہ نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں صحافیوں کے ساتھ پانچ گھنٹے کی آف دی ریکارڈ ملاقات میں پروجیکٹ عمران خان بانی ہونے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے، انہوں نے تسلیم کیا کی عمران کو مسند اقتدار پر ہم نے ہی لا کر بٹھایا تھا، مگر وہ نااہل نکلا، یعنی جسے طاقتور حلقے چاند سمجھے تھے وہ جگنو بھی نہیں نکلا، ایک فقرے میں آپ یوں سمجھ لیں کہ فوجی قیادت نے مسیحا سمجھا وہ بیمار نکلا، آپ اسے شناختی غلطی بھی کہہ سکتے ہیں لیکن اس کی سزا پاکستان کے 22 کروڑ عوام نے بھگتی ہے، اور یہ سزا ابھی تمام نہیں ہوئی، قوم کو لانگ مارچ کے لیے دوبارہ یاد فرمایا گیا ہے، عمران کے بہالپور میں تعینات کوچ نے آخری لڑائی لڑنے کے لیے ارشد شریف کی لاش کا بندوبست کر دیا ہے، اس حوالے سے اب عمران خان کے دست راست فیصل واوڈا نے بھی واضح اشارے دے کر تحریک انصاف کی صفوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ لیکن اس کے باوجود خان صاحب اسلام آباد پر یلغار کرنے جا رہے ہیں، صاف نظر آ رہا ہے کہ عمران خان تہیہ کر چکے ہیں کہ اگر اقتدار ان کے حوالے نہ کیا گیا تو وہ اس نظام کو اُلٹا دیں گے۔ ایسے میں حماد غزنوی گلہ کرتے ہیں کہ سر، آپ کی شناختی غلطی قوم کو بہت مہنگی پڑی ہے!

Back to top button