پروفیسر وارث میر کے خلاف ہرزہ سرائی پر بد زبان چوہان مشکل میں

سیاسی مخالفین پر بے سروپا الزامات لگانے کے حوالے سے بدنام وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان اپنی بدزبانی کے باعث ایک بار پھر مشکلات میں گھرے نظر آتے ہیں۔ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں نے فیاض چوہان کی جانب سے معروف دانشور اور صحافی پروفیسر وارث میر کو غدار قرار دینے کے بھونڈے الزام کی مذمت کرتے ہوئے ان سے اپنے الفاظ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ وارث میر کے صاحبزادے سینئر صحافی حامد میر نے چوہان کو ایک ارب روپے ہرجانے کا نوٹس بھی بھجوا دیا ہے۔

چوہان کے گھٹیا بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے پیپلزپارٹی وسطی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے کہا کہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ پاکستان کے محسنوں کے حوالے سے فیاض الحسن چوہان جیسے بونوں کی جانب سے بے بنیاد اور مضحکہ خیز فتوے صادر کئے جا رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی رہنما نے پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس پل انڈرپاس سے پروفیسر وارث میر کا نام مٹانے کی بھی پرزور الفاظ میں مذمت کی اور اسے پرانے نام سے بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وارث میر کی پاکستان اور جمہوریت کے لئے ناقابل فراموش خدمات ہیں اور انہیں محب وطن ثابت کرنے کے لیے فیاض چوہان کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں۔

تحریک انصاف کے وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے بھی پروفیسر وارث میر کو غدار وطن قرار دینے پر چوہان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ فواد چوہدری کے بقول فیاض الحسن چوہان نے پروفیسر وارث میر کے بارے میں ہرزہ سرائی کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ جاہل ہیں اور انہیں تاریخ کا کوئی علم نہیں۔ فواد چوہدری نے کہا کہ وارث میر کو پاکستان میں جمہوریت کے فروغ، خواتین کے حقوق اور ترقی پسندانہ سوچ کے حوالے ایک آئیکون کا درجہ حاصل ہے۔
اسی طرح پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے پروفیسر وارث میر مرحوم سے متعلق حکومتی ترجمان کے بیان کی شدید مذمت اور اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر وارث میر تاریخ کا روشن چہرہ اور وقت کی تلخ سچائی کی زندہ دلیل ہیں۔ وارث میر پاک سر زمین کے سچے سپوت ہیں جنہوں نے کسی مصلحت کے بغیر سچ کا ساتھ دیا۔ تاریخ سے نابلد نوکر پیشہ پروفیسر وارث میر جیسے محبان وطن کے عظیم مقام اور کردار سے آگاہ نہیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ تاریخی حقائق سے آگہی رکھنے والا ہر محب وطن پروفیسر وارث میر جیسے روشن کرداروں کو سلام پیش کرتا ہے۔ مرکز اور پنجاب میں تحریک انصاف کی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کے مرکزی رہنما سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے بھی قرار دیا ہے کہ معروف صحافی اور دانشور پروفیسر وارث میر اپنی آخری سانس تک ایک محب وطن پاکستانی تھے اور انھیں ایک حکومتی وزیر کی جانب سے غدار قرار دینا تمام پاکستانیوں کی توہین ہے۔ چوہدری پرویز الہی نے وزیر اطلاعات کے بیان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ پروفیسر وارث میر کو ذاتی طور پر جانتے ہیں۔ پروفیسر وارث میر ایک انتہائی قابل احترام اور بے باک صحافی تھے جنہوں نے ساری زندگی اپنی قلم سے پاکستان کی خدمت کی۔ پرویز الہی نے کہا کہ وارث میر ایک سچے اور کھرے پاکستانی تھے جو پہلے دن سے اپنی وفات تک پاکستان کے وفادار رہے اور اپنی تحریروں سے اس کے مفادات کا تحفظ کرتے رہے۔ ن لیگ سے تعلق رکھنے والی رکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ میں فیاض الحسن چوہان کیجانب سے وارث میر کو غدار قرار دینے کے بیان کی شدید مذمت کرتی ہوں۔ حیرت ہے وزیر کے بیان کا ابھی تک نوٹس نہیں لیاگیا۔ انیون نے کہا کہ سیاسی بونوں خدارا غداری کے سرٹیفیکیٹس دینے والی فیکٹریاں بند کرو۔ حنا بٹ نے فیاض چوہان کے خلاف پنجاب اسمبلی میں مذمتی قرارداد بھی جمع کروا دی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں پنجاب کے بونگے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں سینئر صحافی حامد میر اور ان کے والد پروفیسر وارث میر مرحوم کو غدار وطن قرار دیا تھا۔ چوہان کا یہ بیان دراصل جیو ٹی وی سے وابستہ صحافی حامد میر کی طرف سے ایک ٹی وی پروگرام میں شوگر کمیشن انکوائری رپورٹ کے تناظر میں وزیراعلیٰ پنجاب پر کی جانے والی تنقید کے ردعمل میں تھا لیکن وزیر بے تدبیر اپنے باس پر حامد میر کی جانب سے کی جانے والی تنقید سے اتنے آگ بگولا ہوئے کہ انہوں نے 33 سال قبل ضیا آمریت کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جان دینے والے پروفیسر وارث میر کو غدار وطن قرار دے ڈالا جن کی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان انہیں 2013 میں ملک کے اعلی ترین سول اعزاز ہلال امتیاز سے نواز چکی ہے۔ فیاض الحسن چوہان نے وارث میر پر یہ الزام لگایا کہ انہوں نے 1971 میں پاک فوج کے مقابلے میں برسرپیکار مکتی باہنی کی حمایت کی جس کے صلے میں بنگلہ دیشی حکومت کی جانب سے وارث میر کو 2012 میں بعد از مرگ فرینڈز آف بنگلہ دیش ایوارڈ کا حقدار قرار دیا گیا۔ تاہم انتہائی افسوس کی بات ہے کہ فیاض الحسن چوہان تاریخ سے اس قدر نابلد ہیں کہ انہیں معلوم ہی نہیں کہ پروفیسر وارث میر نے نے سقوط ڈھاکہ کے حوالے سے کیا مؤقف اختیار کیا تھا۔ واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان بھی یہ بات کہہ چکے ہیں کہ فوج کے ہاتھوں بنگالی عوام کا قتل عام کسی صورت جائز نہیں تھا اور یہی بات پروفیسر وارث میر بھی کہتے اور لکھتے رہے۔ وارث میر کی جرآتِ رندانہ کے اعتراف میں بنگلہ دیشی حکومت نے ان کے لیے ملک کے اعلی ترین سول اعزاز کا اعلان کیا۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ وارث میر کے علاوہ فیض احمد فیض اور حبیب جالب جیسے انقلابی دانشوروں کو بھی بنگلہ دیشی حکومت نے مشرقی پاکستان کے عوام کے خلاف خونی فوجی آپریشن کی مخالفت کرنے پر اسی اعزاز سے نوازا تھا لیکن ان میں سے کسی کو وارث میر کی طرح غدار قرار نہیں دیا گیا۔
بدزبان فیاض چوہان کے ان الزامات کے جواب میں ہیومن رائیٹس کمیشن آف پاکستان، پاکستان بار کونسل، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز نے فیاض چوہان کی شدید مذمت کی ہے اور اسے مرحوم دانشور کے خاندان کے خلاف عوامی سطح پر نفرت پھیلانے کی کوشش قرار دیا ہے۔ سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر پہلے ہی فیاض الحسن چوہان کو اپنے والد پروفیسر وارث میر کو غدار قرار دینے پر ایک ارب روپے ہرجانے کا نوٹس دے چکے ہیں اور انھوں نے بے ہودہ اور جھوٹے الزامات عائد کرنے پر ان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سربراہ پرویز شوکت نے فیاض چوہان کے نام کھلا خط لکھتے ہوئے کہا ہے کہ آپ نے ایک ایسے قابل احترام دانشور اور استاد کے بارے میں نازیبا الفاظ کہے ہیں جن کے پاکستان بھر میں ہزاروں شاگرد اور بڑے بڑے نامور صحافی ہیں ، آپ کے الزامات سے ان سب کی دل آزاری ہوئی ہے ۔ میں آپ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ کسی کے مرحوم والدین یا بزرگوں کے بارے میں ایسی الزام تراشی سے گریز کریں ، میں اپنی تنظیم کی طرف سے آپ سے مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہوں کہ آپ پروفیسر وارث میر کےحوالے سے نازیبا الفاظ واپس لیں ورنہ صحافتی برادری آپ کا محاصرہ کرے گی۔
