غدار قرار دئیے جانے والے وارث میر کے حق میں پنجاب اسمبلی کی قرارداد

پنجاب اسمبلی نے معروف دانشور اور صحافی پروفیسر وارث میر کو ان کی ملک کے لیے گراںقدر صحافتی اور علمی خدمات کے اعتراف میں خراج عقیدت پیش کرنے کی ایک قرار داد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے۔ ممبران اسمبلی نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ پنجاب یونیورسٹی نیوکیمپس میں پروفیسر وارث میر کی آخری آرام گاہ کے قریب واقع نیو کیمپس انڈرپاس کو دوبارہ سے وارث میر انڈر پاس کا نام دیا جائے۔ یہ قرارداد ں لیگ کے سابق صوبائی وزیر خلیل طاہر سندھو کی جانب سے پیش کی گئی جس کی تحریک انصاف کے ایک رکن اسمبلی کے سوا تمام سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین نے متفقہ طور پر حمایت کی۔

9 جون کو خلیل طاہر سندھو کی جانب سے پنجاب اسمبلی میں پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا کہ روفیسر محمد وارث میر (1987-1938) اپنے دور کے ایک ممتاز صحافی، دانشور، صحافی اور استاد تھے جنہوں نے آمرانہ ادوار میں جمہوریت کے لیے جدوجہد کی اور اپنی جرات مندانہ تحریروں کے ذریعے کلمہ حق بلند کیا۔ پنجاب یونیورسٹی لاہور کے شعبہ ابلاغیات کے سربراہ ہونے کے ساتھ آپ نے تقریبا پچیس سال صحافت پڑھائی اور ملک کے تمام معروف اردو اخبارات میں بے باک اورفکر انگیز کالم اورمضامین لکھے جو کہ آج بھی کتابی صورت میں محفوظ ہیں۔
قررداد میں کہا گیا کہ گزٹ آف پاکستان برائے سال 2013 کے صفحہ نمبر 44 کے مطابق پروفیسر وارث میر نے "سچائی کے لیے لکھواور لوگوں کی آواز بن کر بولو” کے مصداق ایک مشن کے ساتھ پاکستان کے عوام کی امنگوں کی ترجمانی کی۔ بنیادی انسانی حقوق کے داعی، آزادی اظہار اور سوچ کے علمبردار ہونے کے ناطے وارث میر نے اپنے لیے اس مشکل راہ کا انتخاب کیا جو ان کے ہم عصر صحافی نہ کر پائے۔ پابندیوں، دھمکیوں، ذہنی اذیت اور تشدد کے باوجود آپ پختہ عزم کے ساتھ ظالم آمرنہ قوتوں کے سامنے ڈٹے رہے، اور اپنے اصولی موقف پر چلتے ہوئے جمہوریت اور آزادی اظہار کی چومکھی جنگ لڑی۔
قرارداد میں کہا گیا کہ وارث میر کی تحریر کردہ کتابوں میں "حریت فکر کے مجاہد”، "کیا عورت آدھی ہے”، "خوشامدی صحافت اور سیاست” اور "ضمیر کے اسیر” شامل ہیں۔ آپ نے اپنے اصولوں کی خاطر لڑتے ہوئے صرف 48 سال کی عمر میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیا۔ صحافت کے شعبے میں آپ کی شاندار خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے پروفیسر محمد وارث میر کو سال 2013 میں ہلال امتیاز (بعدازمرگ) کا اعزاز عطا کیا ہے۔ لہذا پنجاب اسمبلی کا یہ ایوان متفقہ طور پر پروفیسر وارث میر کی بیش قدر ملکی خدمات کے اعتراف میں انہیں خراج عقیدت پیش کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ پنجاب یونیورسٹی نیوکیمپس میں ان کی آخری آرام گاہ کے قریب واقع نیو کیمپس انڈرپاس کو دوبارہ پروفیسر وارث میر انڈر پاس کا نام دے دیا جائے۔

یاد رہے کہ اس برس کے آغاز میں وزیراعظم عمران خان کی جانب سے معروف صحافی حامد میر کو ٹوئٹر پر ان فالو کیے جانے کے بعد حکومت پنجاب نے نیو کیمپس میں واقعع پروفیسر وارث میر انڈر پاس کا نام تبدیل کر دیاتھا۔
خیال رہے کہ پروفیسر وارث میر کو پنجاب اسمبلی کی جانب سے خراج عقیدت پیش کرنے سے چند روز پیشتر پنجاب کے بونگے وزیر اطلاعات فیاض چوہان نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں وارث میر مرحوم کو غدار وطن قرار دیا تھا۔ فیاض چوہان نے وارث میر پر یہ الزام لگایا کہ انہوں نے 1971 میں پاک فوج کے مقابلے میں برسرپیکار مکتی باہنی کی حمایت کی جس کے صلے میں بنگلہ دیشی حکومت کی جانب سے وارث میر کو 2012 میں بعد از مرگ فرینڈز آف بنگلہ دیش ایوارڈ کا حقدار قرار دیا گیا۔ تاہم انتہائی افسوس کی بات ہے کہ فیاض الحسن چوہان تاریخ سے اس قدر نابلد ہیں کہ انہیں معلوم ہی نہیں کہ پروفیسر وارث میر نے سقوط ڈھاکہ کے حوالے سے کیا مؤقف اختیار کیا تھا۔ واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان بھی یہ بات کہہ چکے ہیں کہ فوج کے ہاتھوں بنگالی عوام کا قتل عام کسی صورت جائز نہیں تھا اور یہی بات پروفیسر وارث میر بھی کہتے اور لکھتے رہے۔ وارث میر کی جرآتِ رندانہ کے اعتراف میں بنگلہ دیشی حکومت نے ان کے لیے ملک کے اعلی ترین سول اعزاز کا اعلان کیا۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ وارث میر کے علاوہ فیض احمد فیض اور حبیب جالب جیسے انقلابی دانشوروں کو بھی بنگلہ دیشی حکومت نے مشرقی پاکستان کے عوام کے خلاف خونی فوجی آپریشن کی مخالفت کرنے پر اسی اعزاز سے نوازا تھا لیکن ان میں سے کسی کو وارث میر کی طرح غدار قرار نہیں دیا گیا۔ تاہم پنجاب اسمبلی کی جانب سے پروفیسر وارث میر کو خراج عقیدت پیش کرنے کی قرارداد کی منظوری فیاض چوہان کے لئے ایک طمانچے سے کم نہیں۔

