سنتھیا خود کو فوج سے جوڑ کرکیا مقصد حاصل کرنا چاہتی ہے؟

پاکستان کی سیاسی قیادت پر بیہودہ الزامات عائد کرنے والی مشکوک امریکی عورت سنتھیا رچی کے اس دعوے نے کہ وہ پاکستانی فوج اور دیگر اداروں کے تعاون سے پی ٹی ایم اور پیپلز پارٹی کی ریاست مخالف سرگرمیوں کی تحقیقات کر رہی ہیں، انکی سرگرمیوں کی قانونی حیثیت اور ان کے خفیہ اداروں سے تعلقات کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ ایک امریکی عورت کے ذمے یہ حساس ترین ٹاسک کس نے اور کیوں لگایا اور یہ بھی کیا کسی پاکستانی کو امریکہ جا کر وہاں کی سیاسی قیادت کے خلاف اس طرح کی تحقیقات کرنے کی اجازت مل سکتی ہے؟
پاکستان میں مقیم امریکی بلاگر سنتھیا رچی کی جانب سے سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے خلاف لگائے گئے الزامات سے سوشل میڈیا پر شروع ہونے والا تنازع اس وقت مبہم ہوگیا جب ان کی جانب سے سابق وزیر داخلہ رحمٰن ملک کے خلاف ریپ کے الزامات لگائے گئے اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ وہ ایک قوم پرست تنظیم کی ’تحقیقات‘ کررہی تھیں۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے کو ارسال کردہ خط میں سنتھیا رچی نے لکھا کہ وہ گزشتہ چند برسوں سے’’پاکستانی فوج اور دیگر اداروں کے تعاون سے پی ٹی ایم کے بارے میں تحقیقات کررہی تھیں‘‘ جس کے نتیجے میں ’’پی ٹی ایم اور پیپلز پارٹی کی ریاست مخالف سرگرمیوں کے رابطے‘‘ سامنے آئے تھے۔ مذکورہ خط بظاہر سنتھیا رچی نے پیپلزپارٹی کی جانب سے ان کے خلاف ایف آئی اے میں بینظیر بھٹو کو بدنام کرنے کی شکایت پر وضاحت کے لیے لکھا۔ نام نہاد امریکی بلاگر کی جانب سے فوج کے ساتھ کام کرنے کا دعویٰ نیا نہیں کیوں کہ ماضی میں بھی وہ سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطوں کا فخریہ ذکر کرتی رہی ہیں اور اپنے میزبان ملک میں مراعت یافتہ رسائی سے لطف اندوز ہونے کے حوالے سے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر تصاویر بھی پوسٹ کر رکھی ہیں۔
تاہم ایف آئی اے کو لکھے گے ان کے خط سے انکی سرگرمیاں، پاکستان میں رہائش کی قانونی حیثیت اور ان کے تعلقات کے حوالے سے سوالات کا سیلاب اُمڈ آیا ہے۔ جس طرح یہ تنازع آگے بڑھ رہا ہے یہ بات واضح ہے کہ آئندہ آنے والے دنوں میں یہ مزید پیچیدہ ہوجائے گا۔ تاہم ابھی تک پاکستان کے سکیورٹی اداروں کی جانب سے اس مشکوک امریکی عورت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جو کہہ رہی ہے اس میں وزن ہے۔
وزارت داخلہ کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ سنتھیا رچی پاکستان میں بزنس ویزے پر مقیم ہیں۔ سنتھیا رچی نے لکھا کہ وہ پہلی مرتبہ اکتوبر 2009 میں پاکستان آئیں اور انہوں نے وزیر انسداد منشیات اعظم سواتی کے ایک رشتہ دار کی سفارش پر ہوسٹن میں موجود پاکستانی قونصل خانے سے ویزا حاصل کیا، اس وقت اعظم سواتی کا ہیوسٹن میں کاروبار خوب پھیلا ہوا تھا۔ اس ضمن میں ایک پاکستانی نژاد امریکی شہری نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’وہ ٹیکساس کی پورٹ آرتھر میں رہائش پذیر تھیں جہاں سے اعظم سواتی کے کئی کاروباری ادارے ایک گھنٹے کی مسافت پر قائم تھے، اعظم سواتی کے بیٹے شہر کی کونسل کے رکن جبکہ بیٹی اپنے بچوں کے ہمراہ اب بھی وہیں مقیم اور کاروبار سنبھال رہی ہیں۔
بعدازاں اعظم سواتی نے مبینہ طور پر پاکستان میں ان کے رابطے بڑھانے میں مدد کی، سنتھیا کی پاکستان میں اکتوبر 2010 سے شروع ہونے والی ابتدائی 2 نوکریاں امریکا میں مقیم پاکستانی ڈاکٹروں کی تنظیم یومینٹی ہوپ اور عمیر ثنا فاؤنڈیشن میں تھی۔ سنتیھیا مئی 2011 کے قریب امریکی اسپیشل فورس کے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے ٹھکانے پر کیے گئے آپریشن کے وقت ایک مرتبہ پھر منظر عام پر آئی تھیں جب انہوں نے میڈیا میں انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان میں مزید کچھ سال رہنے کا عندیہ دیا تھا جس کے بعد انہوں نے دو سالہ ورک ویزا بھی حاصل کرلیا تھا۔۔
بعد ازاں سنتھیا رچی نے تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ونگ سے وابستہ ہوگئی اور پارٹی کا منشور ترتیب دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ اب تک وزیراعظم عمران خان سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ بعد میں اس عورت نے پیپلز پارٹی کی حکومت میں مضبوط رابطے استوار کرلیے تھے، سینیٹر رحمٰن ملک پر لگایا گیا ریپ کا الزام بھی سال 2011 کا ہے جس کی رحمٰن ملک نے سختی سے تردید کی۔
تاہم پاکستان آنے سے قبل سنتھیا کیا کرتی تھی یہ بات کوئی نہیں جانتا۔ اس دوران معروف ٹی وی اداکار علی سلیم سلیم المعروف بیگم نوازش علی نے یہ دعوی کیا ہے کہ سنتھیا نے اسے 2016 میں بتایا تھا کہ وہ امریکہ سے پاکستان منتقل ہونے سے پہلے بے اولاد جوڑوں کو اپنے ایگ سیلز بیچا کرتی تھی۔ علی سلیم نے یہ بھی بتایا کہ سنتھیا کا دعوی ہے کہ ایک زمانے میں عمران خان بھی اس پر لٹو ہو گئے تھے اور ان کے ساتھ سونے کی خواہش بھی ظاہر کر دی تھی۔ تاہم وزیراعظم کے قریبی ذرائع نے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے۔
دریں اثنا ایک مقامی عدالت نے اسلام آباد پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سنتھیا رچی کے خلاف بے نظیر بھٹو کی شہرت کو نقصان پہنچانے کی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ کے اندراج کی درخواست پر جواب طلب کرلیا۔ علاوہ ازیں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی ایک عدالت پہلے ہی پی پی پی کے مقامی رہنما راجا شکیل عباسی کی جانب سے اسی طرح کی درخواست پر ایف آئی اے کے سائبر کرائم سرکل کو نوٹس جاری کرچکی ہے۔ ایڈیشنل اینڈ ڈسٹرک سیشن جج عابدہ سجاد نے وقاص عباسی کی دائر درخواست پر اسلام آباد کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 12 جون تک جواب طلب کرلیا۔ اپنی درخواست میں وقاص عباسی نے کہا تھا کہ ایف آئی نے پی پی پی کی شہید رہنما بے نظیر بھٹو کو بدنام کرنے پر بلاگر کے خلاف ان کی شکایت پر ایف آئی آر درج نہیں کی۔
