پرویز الہٰی بارے عمران کے خدشات بڑھنے کیوں لگے؟

مونس الہٰی کے بعد ان کے سیانے والد وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہی کی جانب سے بھی جنرل قمر باجوہ کی حمایت میں بیان آنے کے بعد اب تحریک انصاف کی قیادت کو یہ خدشات لاحق ہوگئے ہیں کہ شاید عمران خان کا پنجاب اسمبلی توڑنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو پائے اگرچہ میڈیا کے سامنے پرویز الہٰی اور مونس الہٰی یہ بات کھلم کھلا کہتے نظر آتے ہیں کہ پنجاب کی وزارت اعلٰی ان کے پاس عمران کی امانت ہے اور وہ جب چاہیں گے پنجاب اسمبلی تحلیل کر دی جائے گی لیکن دوسری جانب میڈیا کی آنکھ سے بچ بچا کر دونوں باپ بیٹا خان کو یہ پیغام بھی بھیج رہے ہیں کہ اس وقت اسمبلی تحلیل کرنا دونوں پارٹیوں کے مفاد میں نہیں اور اس سے فائدہ کی بجائے بڑا نقصان ہو جائے گا۔ تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ دراصل میڈیا کے سامنے دونوں باپ بیٹا کچھ اور بات کر رہے ہیں جبکہ اندر کھاتے ان کا مؤقف مختلف ہے، مختصر یہ کہ تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) کی قیادت اسمبلی توڑنے کے معاملے میں ایک پیج پر نہیں اور اگر عمران واقعی اسمبلی توڑنے کا حتمی فیصلہ کر لیتے ہیں تو ان کے لیے مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں۔

ایک اور معاملہ جس پر دونوں جماعتیں ایک پیج پر نہیں ہیں وہ سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر باجوہ کا ہے۔ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد سے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان اپنی حکومت سے بے دخلی کا ذمہ دار جنرل باجوہ کو قرار دیتے آئے ہیں اور پاک فوج کی نئی قیادت آنے کے بعد بھی انہوں نے یہی بات دہرائی ہے کہ پی ٹی آئی کی لڑائی فوج یا نئے آرمی چیف کے ساتھ نہیں بلکہ جنرل باجوہ کے ساتھ تھی۔ جبکہ دوسری جانب مونس الہیٰ نے یہ انکشاف کر دیا کہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد جب پنجاب میں بھی پی ٹی آئی کی حکومت کو گرانے کی تیاریاں چل رہی تھیں تو جنرل باجوہ نے پرویز الہٰی سے کہا کہ وہ عمران خان کے ساتھ کھڑے ہوں۔ مونس الہٰی نے بتایا کہ جنرل باجوہ آخر تک عمران کے ساتھ کھڑے تھے لہٰذا تحریک انصاف کی قیادت کا انہیں گالیاں دینا نہیں بنتا۔ اگرچہ مونس نے اس بیان سے کوشش کی کہ پی ٹی آئی کی قیادت اور ان کے حامی جنرل باجوہ کے بارے میں اپنے رویے میں تبدیلی لانے کے بارے میں غور کریں تاہم ہوا اس کے الٹ اور عمران نے ایک انٹرویو میں جنرل باجوہ پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی۔ انہوں نے کہا کہ جنرل باجوہ نے ڈبل گیم کھیل کر ان کو دھوکہ دیا اور انہیں عہدے میں ایکسٹینشن دینا انکی زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔

لیکن عمران کے اس انٹرویو کے اگلے ہی روز پرویز الہٰی نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ وہ ن لیگ کی طرف جا رہے تھے لیکن اللہ تعالی نے ان کا راستہ تبدیل کیا اور عمران کے گھر کا راستہ دکھانے کیلئے جنرل باجوہ کو بھیجا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کو جنرل باجوہ نے مشورہ دیا تھا کہ پی ڈی ایم کی بجائے وہ عمران خان کا ساتھ دیں۔ ایسے میں فواد چوہدری جیسے پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ عمران خان کو کسی بھی صورت پرویز الہٰی پر اعتبار نہیں کرنا چاہئے چونکہ وہ اسمبلی توڑنے کے معاملے میں دھوکہ دے سکتے ہیں۔ پی ٹی آئی والوں کا کہنا یے کہ صرف 10 سیٹوں والی پارٹی کے پاس صوبے کی وزارت اعلیٰ ہے اور بڑا اور چھوٹا چودھری فنڈز کا بے دریغ استعمال کرکے اگلے الیکشن میں اپنی پارٹی کی سیٹیں بڑھانے کی سکیم پر کام کر رہے ہیں۔

پی ٹی آئی والوں کا کہنا ہے کہ(ق) لیگ فنڈز اور مراعات کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ پوری ڈویژن میں بڑھانا چاہتی ہے جس میں گجرات، منڈی بہاؤالدین اور سیالکوٹ کے علاقے شامل ہیں اور وہ آئندہ انتخابات میں اپنی سیٹیں دوگنی کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ویسے بھی پرویز الہی نے پی ڈی ایم کی بجائے عمران کے ساتھ چلنے کا فیصلہ اس لیے کیا تھا کیونکہ وہ ڈیڑھ برس تک وزیراعلیٰ رہنا چاہتے تھے۔ چنانچہ اگر عمران اسمبلی توڑنے کا فیصلہ کریں گے تو پرویز الہٰی کی جانب سے انہیں دھوکہ دینے کے امکانات موجود ہیں۔

Back to top button