جنرل باجوہ کو توسیع دینے پر عمران کا پچھتاوا جھوٹ کا پلندہ

جنرل قمر باجوہ کی توسیع کے فیصلے کو زندگی کی سب سے بڑی غلطی قرار دیتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ انہوں نے یہ غلطی معصومیت میں کی لیکن اب وہ اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ آرمی چیف کو کبھی ایکسٹینشن نہیں ملنی چاہئے لیکن معصومیت کے دعویدار عمران خان یہ بیان داغنے سے پہلے بھول گئے کہ انہوں نے صرف ایک مہینہ پہلے ہی ایوان صدر میں سابق آرمی چیف سے ایک خفیہ ملاقات کے بعد جنرل باجوہ کو اگلے الیکشن کے بعد نئی حکومت کی تشکیل تک عہدے پر برقرار رکھنے اور تب تک توسیع دینے کی تجویز دی تھی۔

اس سے پہلے کپتان کی معصومیت کا بھانڈا پچھلے ماہ آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے ایک پریس کانفرنس میں بھی پھوڑا تھا جب انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ اپریل 2022 میں اپنی حکومت کو بچانے کی خاطر عمران نے ان کی موجودگی میں جنرل باجوہ کو تاحیات آرمی چیف کے عہدے پر برقرار رکھنے کی پیشکش کی تھی۔ عمران خان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کا تازہ بیان ثابت کرتا ہے کہ وہ ٹکا کر جھوٹ بولنے کے عادی ہیں اور غلط بیانی کرتے وقت وقت ذرا شرمندگی محسوس نہیں کرتے۔

اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں عمران خان نے سابق آرمی چیف جنرل(ر) قمر باجوہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ باجوہ نے ان کیساتھ ڈبل گیم کھیلی اور انہیں دھوکہ دیا، لیکن اب وہ بے نقاب ہو چکے ہیں۔ ان سے سوال کیا گیا کہ مونس الہٰی کہہ رہا ہے کہ پرویز الہٰی کو آپ کا ساتھ دینے کے لئے جنرل باجوہ نے کہا تھا اور یہ بھی کی سابق آرمی چیف نے آپکے لیے دریاؤں کا رخ موڑ دیا تھا، جواب میں عمران نے کہا کہ میری والدہ ہمیشہ کہتی تھیں کہ بیچارہ عمران بڑا سیدھا ہے، یہ ہر کسی پر اعتبار کر لیتا ہے، اس لیے یہ تو دنیا کے ہاتھوں رل جائے گا۔ عمران کے بقول میں جواب میں اپنی ماں کو کہتا تھا کہ مجھے کیا فرق پڑتا ہے، میں تو پھر بھی کامیاب ہو جاتا ہوں، میں نے کبھی محسوس نہیں کیا کہ دوسروں پر اعتبار کرنا میری کمزوری ہے، میں لوگوں پر بھروسہ کرتا ہوں، یہ دلیر آدمی کی نشانی ہوتی ہے کہ وہ کسی پر شک نہیں کرتا اور سب پر بھروسہ کرتا ہے۔

لیکن عمران خان نے کہا کہ جنرل باجوہ کیساتھ  ساڑھے تین سال گزارنے کے بعد پہلی دفعہ مجھے احساس ہوا کہ کسی کو آزمائے بغیر اس پر اعتبار کرنا میری کتنی بڑی کمزوری ہے کیونکہ میں ان پر بھروسہ کر لیتا تھا، جنرل (ر) باجوہ مجھے جو بھی کرنے کو کہتا میں اس پر اعتبار کرتے ہوئے ویسا ہی کرتا۔ میرا خیال تھا کہ میرے اور اسٹیبلشمنٹ کے مفادات ایک ہی ہیں اور۔ہم دونوں نے مل کر ملک بچانا ہے، لیکن مجھے پتا ہی نہیں تھا کہ باجوہ کی جانب سے کس طرح مجھے دھوکے دیے گئے، جھوٹ بولے گئے اور میرے ساتھ ڈبل گیم کی گئی۔عمران کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت کے آخری دنوں میں مجھے آئی بی کی رپورٹ آ رہی تھی کہ میرے ساتھ گیم چل رہی ہے، مجھے پتا چلا کہ نواز شریف سے ان کی بات چیت چل رہی ہے، خاص طور پر جب جنرل فیض حمید کو بطور ڈی جی آئی ایس آئی ہٹایا کیا تم مجھے شک پڑا کہ اب مجھے بھی نکالنے کا فیصلہ ہو چکا ہے، لیکن جب میں نے جنرل باجوہ سے پوچھا تو وہ کہنے لگے کہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا، ہم تو جمہوریت کا تسلسل چاہتے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ میں نے جمرل باجوہ سے پوچھا کہ اگر اسٹیبلشمنٹ میرے ساتھ ہے تو پھر اتحادی جماعتوں کو میرا ساتھ چھوڑنے کے لئے کیوں کہا جا رہا ہے۔ عمران نے کہا کہ میں نے ایک دن باجوہ سے کہہ دیا تھا کہ مجھ پر سب واضح ہو گیا ہےکہ آپ نیوٹرل نہیں ہیں، میں نے ان کو کہا تھا کہ کلیئر کردیں کہ آپ ادھر ہیں یا اُدھر ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ میں واپس عوام میں چلا جاؤں گا لیکن مجھ سے سچ بولا جائے، پر وہ کہتے رہے کہ فکر نہ کرو، ہم تسلسل چاہتے ہیں، ہم آپ کے ساتھ ہیں، بعد میں پتا چلا کہ میں اکیلا نہیں تھا جس کو لال بتی کے پیچھے لگایا ہوا تھا، انہوں نے کافی لوگوں کو لال بتی کے پیچھے لگایا ہوا تھا۔ عمران خان نے کہا کہ انہوں نے قمر باجوہ کو توسیع دے کر بہت بڑی غلطی کی تھی اور فوج میں کبھی کسی کو توسیع نہیں ملنی چاہیے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ آج جنرل باجوہ کی توسیع کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی قرار دینے والی عمران خان نے پچھلے ماہ ہی انہیں ایک مرتبہ پھر توسیع دینے کی تجویز دی تھی۔

Back to top button