پرویز الہی کی گرفتاری سے کس کو کیا پیغام دیا گیا؟

خواتین اور بچوں کی آڑ میں گلگت بلتستان فرار ہونے کی کوشش میں پکڑے جانے والے چودھری پرویز الٰہی کی گرفتاری کو ملکی سیاست میں اہم پیشرفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ کئی سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے حامی سیاست دان سمجھے جانے والے پرویز الہی کی گرفتاری محض بدعنوانی کے مقدمات کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے ذریعے عمران خان اور ان کے حامیوں کو ایک پیغام بھی دیا گیا ہے۔
دوسری جانب سینئراینکر و تجزیہ کار سلیم صافی کا چودھری پرویز الٰہی کی گرفتاری بارے کہنا ہے کہ چوہدری پرویزالٰہی کی گرفتاری پی ٹی آئی کے لئے یہ پیغام ہے کہ اگر چوہدری پرویز الٰہی جیسے بندے جنہوں نے باپ ،دادا کے دور سے اسٹیبلشمنٹ کی خدمت کی ہے ۔ وہ اسٹیبلشمنٹ کے اشاروں پر سیاست کرتے رہے اگر ان کو نہیں چھوڑا جارہا ہے تو پھر عمران خان کا ساتھ دینے والے کسی بھی بندے کو نہیں چھوڑا جائے گا۔سینئراینکر و تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا کہ اب جب کہ اسٹیبلشمنٹ یکسو ہوچکی ہے اس کا ایک واضح موقف پی ٹی آئی کے خلاف آچکا ہے تو ایسی صورتحال میں چوہدری پرویزالٰہی کا ڈٹے رہنا بہت مشکل ہوگا،سینئراینکر و تجزیہ کار منیب فارو ق نے کہا کہ حالات بہت غیر متوقع ہیں ہم کچھ پیش گوئی نہیں کرسکتے چوہدری پرویز الٰہی کے لئے صحت کے لئے مسائل ہیں ان کے لئے ثابت قدم رہنا بڑا مشکل ہوگا کیونکہ چوہدری پرویزالٰہی اور ان کا خاندان ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ سے بہت قریب رہے ہیں۔ یہ وقت چودھری خاندان کیلئے بھی کوئی آسودگی کا وقت نہیں ہے۔ دوسری جانب معروف تجزیہ کار حبیب اکرم کا کئی روز سے روپوش چودھری پرویز الٰہی کی گرفتاری بارے کہنا تھا کہ چوہدری پرویز الہی کی گرفتاری اگرچہ ملک میں جاری پی ٹی آئی کے کارکنوں کی گرفتاریوں کا ہی ایک حصہ ہے، جس کا مقصد عمران خان کو تنہا کرنا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں حبیب اکرم کا کہنا تھا کہ چوہدری پرویز الہی کی گرفتاری سے عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ ان کی صفوں میں اگر کوئی اسٹیبلشمنٹ کا حامی بھی ہو گا تو وہ ماضی کی اپنی خدمات کے باوجود نہیں بچ سکے گا۔
تاہم لندن میں موجود چوہدری پرویز الہی کے بیٹے مونس الہیٰ نے اس گرفتاری کے بعد اپنی ایک ٹوئٹ میں لکھا، ”میرے والد نے مجھے یہ کہا تھا کہ چاہے مجھے بھی گرفتار کر لیں ہم نے عمران خان کا ساتھ دینا ہے۔‘‘
تاہم حبیب اکرم کے خیال میں پرویز الہی کی گرفتاری اس لحاظ سے منفرد ہے کہ ان کا نو مئی کے واقعات میں کوئی کردار نہیں تھا اور نہ ہی ان پر اس حوالے سے کوئی مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔ جمعرات کی شام اینٹی کرپشن پنجاب کی ٹیم نے لاہور پولیس کی مدد سے مختلف ترقیاتی منصوبوں میں کرپشن کے الزام میں انہیں اس وقت گرفتار کیا، جب وہ لاہور میں اپنی رہائش گاہ سے کہیں جانے کے لیے نکل کر ابھی چوہدری ظہور الٰہی روڈ پر آئے تھے۔
عینی شاہدین کے مطابق چوہدری پرویز الہی گرفتاری دینے کے لیے رضامند نہیں تھے۔ پولیس نے ان کی بلٹ پروف گاڑی کا شیشہ توڑ کر انہیں گاڑی سے باہر نکالنے کی کوشش کی لیکن بعد ازاں وہ خود ہی گاڑی سے باہر نکل آئے اور اپنے آپ کو حکام کے حوالے کر دیا۔گرفتاری کی ویڈیو میں اہلکاروں کو چوہدری پرویز الہی کو دھکیلتے ہوئے تیز تیز لے جاتے دیکھا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب نگران وزیراطلاعات پنجاب عامر میر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ چوہدری پرویز الٰہی پولیس کو مطلوب تھے اور آج بھی فرار ہونے کی کوشش میں گرفتار ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق چوہدری پرویز الہی کو لاہور میں اینٹی کرپشن پنجاب کے ہیڈ کوارٹر میں رکھا گیا ہے۔
خیال رہے کہ چوہدری پرویز الہی کو گرفتار کرنے کے لیے پچھلے کئی ہفتوں سے کوششیں کی جا رہی تھیں لیکن پہلے سے وہ عدالت سے ضمانت پر تھے۔ ضمانت کی منسوخی کے بعد پرویز الہی پچھلے کئی دنوں سے روپوش تھے لیکن پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ ان کے موبائل فون کی مدد سے حاصل کی جانے والی اطلاعات سے ان کی گھر میں موجودگی کا پتہ چلا لیا گیا تھا اور پولیس کو ان کے گھر سے نکلنے کی بھی اطلاع ہو گئی تھی۔
دوسری جانب سینیئر صحافی عامر خاکوانی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ چوہدری پرویز الہی کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ انہیں عمران کا ساتھ دینے کی قیمت ادا کرنا ہو گی۔ ان کے خیال میں ایک طرف وہ لوگ ہیں جو نئی پی ٹی آئی بنا کر عمران خان کا ووٹ بینک ہتھیانا چاہتے ہیں دوسری طرف پارٹی کے اندر بھی کچھ لوگ عمران کے نا اہل ہونے کی صورت میں پارٹی کی سربراہی پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے بقول پرویز الہی بھی ایسی صورت میں پارٹی کی سربراہی کے امیدوار ہیں۔
ادھر صوبائی دارالحکومت کے سیاسی حلقوں میں یہ سازشی نظریات بھی گردش کر رہے ہیں کہ اس گرفتاری کا ڈرامہ رچا کر چوہدری پرویز الہی کو ”ہیرو‘‘ بنایا جا رہا ہے تاکہ عمران خان کے ممکنہ طور پر مائینس ہونے کے بعد پی ٹی آئی کی قیادت کے لیے چوہدری پرویز الہی کو ایک مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے لایا جا سکے۔
واضح رہے کہ چوہدری پرویز الہی کی گرفتاری ایک ایسے موقع پر ہوئی ہے جب چوہدری فیملی بری طرح تقسیم کا شکار ہے اور چوہدری پرویز الہی کے ایک قریبی ساتھی چوہدری وجاہت حسین انہیں چھوڑ کر واپس قاف لیگ میں آ چکے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کار جاوید فاروقی نےبتایا کہ پاکستان میں سیاست دان کوئی اعلی اخلاقی معیارات کا مظاہرہ نہیں کرتے، ”اس لیے مجھے کوئی تعجب نہیں ہو گا اگر چوہدری پرویز الہی اگلے چند دنوں میں واپس قاف لیگ میں آ جائیں۔‘‘
