پلان سی، کیا PTI ایک اور ’’نومئی‘‘ برپا کرنے والی ہے؟

تحریک انصا ف کے سابق سربراہ نے الیکشن کے روز 8فروری کو پلان سی کا اعلان کیا ہے.سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ وہ مزید ایک ’’نومئی‘‘ برپا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاہم یہ واضح نہیں کہ اس مرتبہ ہدف کون ہوگا، تاہم بعض مبصرین کا دعوی ہے کہ اپنی واضح شکست کو دیکھتے ہوئے تھریک انصاف نے انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کی منصوبہ بندی کر لی ہے جس کے تحت انتخابات سے ایک روز قبل تحریک انصاف الیکشن کے بائیکاٹ کا اعلان کردیگی ۔
مبصرین کا مزید کہنا ہے کہ عمران خان نے پابندسلاسل ہونے کے باوجود دو روز میں اوپر تلے دو ایسے اشارے دیئے ہیں جن کے تشویش انگیز ہونے کی نشاندہی ہوتی ہے انکے خلاف زیرسماعت مقدمات کی پیشی کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں نے بتایا کہ تحریک انصا ف کے سابق سربراہ نے الیکشن کمیشن کے ان فاضل ارکان کودھمکیاں دی تھیں جو کمیشن کی توہین کے مقدمے کی اڈیالہ جیل راولپنڈی میں سماعت کررہے ہیں یہ ارکان ملک کی اعلیٰ عدالتوں کے جسٹس رہے ہیں اس موقع پر موجودہ عدالتی عملہ کے ارکان اور فریقین کے وکلا انکے لب و لہجے کو دیکھ کر دم بخود رہ گئے تھے. انہوں نے نہ صرف یہ دھمکی دی تھی کہ وہ انکے خلاف آئین کی دفعہ چھ کے تحت حکومت میں آنے کے بعد کارروائی کرینگے بلکہ کہا تھا کہ وہ انہیں پہچانتے ہیں اور ان کی شکلوں سے بخوبی آگاہ ہیں۔ مبصرین کاکہنا ہے کہ عمران کو بخوبی علم ہےکہ آئین کی دفعہ چھ کی خلاف ورزی کا اطلاق کم از کم ایسے معاملات میں نہیں ہوتا جس میں انہیں مقدمے کا سامنا ہے کیونکہ اس کا تعلق کسی آئین شکنی سے نہیں ہے سنگین مقدمات میں قید ملزم، جو سزا یافتہ بھی ہو چہروں کی پہچان کا جب حوالہ دیتا ہے تو اس میں یہ کھلی دھمکی موجود ہوتی ہے کہ وہ انہیں گزند پہنچائے گا جو جسمانی بھی ہوسکتا ہے، اسکے محض دو روز کے وقفے کے بعد تحریک انصاف کے سابق سربراہ نے انتباہ کیا کہ اسکے مخالفین کا برا حشر ہونے والا ہے جس سے وہ اچھی طرح آگاہ ہیں۔ یہ بات اس وقت کی گئی جب تحریک انصاف کے بارے میں ان کارروائیوں کا ذکر ہورہا تھا جو اس کے اپنے انٹرا پارٹی انتخابات میں جعلسازی کے ضمن میں ہورہی تھیں ان دھمکیوں کا تعلق تازہ ترین دھمکی سے جوڑا جائے جس میں ’’پلان سی‘‘ کی بات کی گئی ہے تو یہ خوفناک منظر سامنے آتا ہے کہ گزشتہ سال 9مئی کو انہوں نے زیرحراست ہونے کے باوجود ایسی ہی دھمکیاں دی تھیں جسکے نتیجے میں پورے ملک میں دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا، انہیں آگ لگائی گئی اور لوٹا گیا دفاعی اثاثوں کو نذر آتش کرنے کی ناپاک کوشش کی گئی اور شہداء کی یادگاروں کی بے حرمتی کا ارتکاب کیا گیا۔
مبصرین نے اس شبے کا اظہار کیا ہے کہ ’’پلان سی‘‘ جس کا تعلق آٹھ فروری سے بتایا گیا ہے اور ان کا یہ کہنا کہ انتخابات کے دن کیلئے اس خفیہ منصوبے کو بنایا گیا ہے نشاندہی کرتی ہے کہ وہ انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کیلئے کوئی ایسا منصوبہ بنا رہے ہیں جس کی اطلاعات خفیہ اداروں کے پاس پہلے سے موجود ہیں کہ وہ پولنگ اسٹیشنز پر دھاوا بول سکتے ہیں اور الیکشن میٹریل کو نقصان پہنچانے اور اسکی لوٹ مار کا ارتکاب کرسکتے ہیں۔ اس کارروائی کے بارے پیش بندی کے طورپر انکی جماعت کے رہنمائوں نے زور و شور سے کہنا شروع کررکھا ہے کہ عمران اپنے کارکنوں سے پرامن رہنے کی تاکید کررہے ہیں اس دوران معلوم ہوا ہے کہ انتظامیہ کو پلان سی کی منصوبہ بندی کے بارے جو اطلاعات ملی ہیں اسے غیر موثر بنانے کیلئے انسدادی اقدامات آئندہ ہفتے کئے جائیں گے جن کا سلسلہ انتخابات کی تکمیل تک جاری رہے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ ’’پلان سی‘‘ انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کا منصوبہ ہے جسے ’’نومئی‘‘ جیسی نئی واردات کے ذریعے وسیع پیمانے کی توڑ پھوڑ اور لوٹ مار سے انجام دیئے جانے کا خدشہ ہے۔ حکومتی اہلکاروں نے اس بارے معلومات یکجا کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے، بتایا جاتا ہے کہ تحریک انصاف انتخابات سے محض ایک روز پہلے انکے بائیکاٹ کا اعلان کرکے اپنی کارروائیوں کی راہ ہموار کرے گی۔ اگرچہ پی ٹی آئی رہنما لگاتار بائیکاٹ نہ کرنے کا اعلان کررہے ہیں۔
دوسری جانب روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کی سامنے آنے والی منصوبہ بندی کے مطابق پولنگ ڈے پر سہہ پہر چار بجے کے قریب جب پی ٹی آئی کو اندازہ ہو جائے گا کہ اس کی شکست یقینی ہے تو ملک بھر ، خاص طور پر پنجاب اور خیبر پختو نخوا کے تقریبا ہر پولنگ اسٹیشن پر ٹولیوں کی شکل میں احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا جائے گا یہی احتجاج بعد میں پر تشدد فساد میں تبدیل ہو گا۔
اس معاملے سے آگاہ ذرائع کے بقول پی ٹی آئی کو خود بھی ادراک ہے کہ وہ اپنی جس ستر فیصد مقبولیت کا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے، یہ محض سوشل میڈیا کی حد تک ہے۔ گراؤنڈ پر صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے۔ چنانچہ اس متوقع شکست کے پیش نظر پولنگ ڈے پر احتجاج کی آڑ میں فساد کا پلان ترتیب دیا جا رہا ہے ، جس کی منظوری جیل میں قید عمران خان نے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق مجوزہ احتجاج میں خواتین کی تعداد کو زیادہ رکھا جائے گا۔ اس سلسلے میں ہر عمر کی خواتین کارکنان کا انتخاب کیا جا رہا ہے، جبکہ واٹس ایپ گروپوں میں اس حوالے سے پیغامات کا تبادلہ بھی جاری ہے۔ یہ بھی یقینی بنایا جائے گا کہ خواتین کے ساتھ بچے بھی ہوں تا کہ پولیس کے ایکشن میں آنے کی صورت میں مظلومیت کا کارڈ موثر طور پر کھیلا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق اس موقع پر پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم پوری طرح متحرک ہوگی۔ تاکہ موقع پر موبائل فون کے ذریعے بنائی جانے والی ویڈیوز کوفوری انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کیا جائے اور مظلومیت اور دھاندلی کے پرو پیگنڈے کو دنیا بھر میں پھیلا یا جا سکے۔ پی ٹی آئی کور کمیٹی کو اس پلان پر عملدرآمد کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ بھی خارج از امکان نہیں کہ پولنگ ڈے پر 9 مئی جیسا ایک اور ایڈوینچر کرنے کی کوشش کی جائے۔ پی ٹی آئی حلقوں میں ایسی کارروائی ڈلابے کے اشارے بھی مل رہے ہیں ۔ اس میں پی ٹی آئی کی سپورٹ بیسڈ خیبر پختو نخوا اور گلگت بلتستان میں ہوگی ۔ذرائع کے بقول عمران خان کی جانب سے تسلسل کے ساتھ سقوط ڈھا کہ اور خود کو بار بارشیخ مجیب سے تشبیہ دینا اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ پولنگ ڈے اور اس کے بعد الیکشن نتائج کو مستر دکر کے اسی بیانیہ پرفساد کی تیاری کی جارہی ہے۔
