پنجاب/ سندھ : 15 ستمبر سے مرحلہ وار تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ

صوبہ سندھ اور پنجاب نے کرونا وائرس کے سبب بند تعلیمی اداروں کو 15 ستمبر سے مرحلہ وار کھولنے کا اعلان کردیا اور اس سلسلے میں شیڈول بھی جاری کردیا گیا۔
وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے ایک بیان میں بتایا کہ صوبے میں تمام تعلیمی ادارے 15 سے 30 ستمبر کے دوران کھول دیے جائیں گے۔سعید غنی نے تعلیمی اداروں کے مرحلہ وار کھولنے سے متعلق تفصیل بتائی اور کہا کہ پہلے مرحلے میں 15 ستمبر سے نویں سے تمام ہائر کلاسز بشمول تمام جامعات کھول دی جائیں گی۔صوبائی وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ 22 ستمبر سے چھٹی سے آٹھویں جماعت تک جبکہ 30 ستمبر سے پری پرائمری اور پرائمری کلاسز کے لیے اسکولز کھول دیے جائیں گے۔تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی اسکول یا علاقے میں کووڈ-19 کے کیسز میں اضافہ ہوتا ہے تو وہ اسکول یا متعلقہ علاقے کے اسکولز بند کیے جاسکیں گے۔
سعید غنی کے مطابق اسکول میں ماسک کا استعمال مکمل طور پر لازمی ہوگا، تاہم ماسک لازمی نہیں کہ صرف سرجیکل ہو بلکہ گھر میں کپڑے کا ماسک بھی قابل استعمال ہوگا۔انہوں نے کہا کہ تمام اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پیز) پر مکمل عمل پیرا ہونا ہوگا، ایسا نہ کرنے والے ادارے کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔اپنے بیان میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وفاقی سطح پر بنائی گئی تعلیمی کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ تعلیمی ادارے 15، 22 اور 30 ستمبر سے مرحلہ وار کھولے جائیں گے تاہم ہر تاریخ سے ایک روز قبل دوبارہ جائزہ بھی لیا جائے گا۔ساتھ ہی سندھ کے وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ اگر کوئی صوبہ اپنی سہولیات کے تحت کسی ایک یا کچھ اسکولز کو ایس او پیز کی تیاری نہ ہونے پر کچھ دن کی بندش کی مہلت دے سکتا ہے۔سعید غنی نے بتایا کہ کمیٹی کے فیصلے کے مطابق تمام تعلیمی ادارے اس بات کو لازمی یقینی بنائیں گے کہ اگر کسی بچے کو بخار یا کھانسی ہے تو وہ اسے اسکول نہ آنے دے، مزید یہ کہ تمام صوبے اپنے اپنے صوبے میں محکمہ صحت کے ساتھ مل کر مانیٹرنگ کمیٹیاں تشکیل دیں جو روزانہ کی بنیاد پر اسکولوں کا معائنہ کریں۔
اس سے قبل حکومت پنجاب نے 15 ستمبر سے صوبے بھر میں تمام سرکاری و نجی اسکولز کھولنے کا اعلان کیا تھا۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وزیر تعلیم پنجاب مراد راس نے اپنی ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ پنجاب کے تمام نجی اور سرکاری ادارے اس شیڈول کے مطابق کھلیں گے، جس کے تحت نویں سے 12 کلاس تک کے لیے 15 ستمبر سے اسکولز کھول دیے جائیں گے۔مراد راس کے مطابق چھٹی سے آٹھویں جماعت تک کے طلبہ کے لیے 22 ستمبر سے اسکولز کھلیں گے جبکہ نرسری سے پانچویں جماعت کے لیے 30 ستمبر سے کلاسز کا آغاز ہوگا۔انہوں نے مزید بتایا کہ کوئی ڈبل شفٹ نہیں ہوگی اور تمام نجی اور سرکاری اداروں کی جانب سے متبادل دن کے شیڈول پر عمل کیا جائے گا۔ساتھ ہی انہوں نے ایک اور ٹوئٹ میں واضح کیا کہ تمام نجی و سرکاری اسکولز کو ایک دن میں صرف 50 فیصد بچے بلانے کی اجازت ہوگی جبکہ متبادل دن میں دیگر 50 فیصد طلبہ بلائے جائیں گے، تاہم ایک دن میں ڈبل شفٹ کی اجازت نہیں ہوگی۔
ANNOUNCEMENT:
All Public & Private Schools of Punjab to open on following schedule. Classes 9-12 to start on 15th. Classes 6-8 to start Sept 22nd. Classes Nursury-5 to start on 30th. No Double Shift. Alternative Day Schedule to be followed by all Public & Private Schools.— Murad Raas (@MuradRaasMR) September 7, 2020
خیال رہے کہ وفاقی و صوبائی وزرائے تعلیم نے ملک بھر میں 15 ستمبر سے میٹرک، کالج اور یونیورسٹی کی کلاسز میں تدریسی عمل شروع کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے.وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی زیر صدارت بین الصوبائی وزرائے تعلیم کا اجلاس ہوا جس میں تمام صوبائی وزرائے تعلیم وڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے جبکہ چیئرمین اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایچ ای سی نے بھی شرکت کی۔وزارت صحت کے حکام نے اجلاس کو بریفنگ دی جس کی روشنی میں 3 مراحلے میں تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا۔
پہلے مرحلے میں 15 ستمبر سے نویں، میٹرک، کالج اور یونیورسٹی کی کلاسز کو کھولا جائے گا۔ بڑی جماعتوں کی کلاسز کھولنے کے بعد کورونا وائرس کے صورتحال اور کیسز کا جائزہ لیا جائے گا۔
صورتحال کا جائزہ لینے کے ایک ہفتے بعد دوسرے مرحلے میں 23 ستمبر سے چھٹی سے آٹھویں جماعت میں تدریسی عمل کی اجازت دی جائے گی۔تیسرے اور آخری مرحلے میں 30 ستمبر سے پہلی سے پانچویں تک کی کلاسز کو کھولا جائے۔ تعلیمی اداروں میں کورونا ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد ہوگا اور طلبا کو ماسک لازمی پہننا ہوگا۔اجلاس کی سفارشارت این سی او سی (قومی رابطہ کمیٹی) کو بھجوائی جائیں گی جو حتمی فیصلے کی منظوری دے گی۔اجلاس میں یکساں نصاب تعلیم کا معاملہ بھی زیر غور آیا اور وفاقی نظامت تعلیمات میں اینٹی ہراسمنٹ باڈیز کے صوبوں میں قیام پر گفتگو ہوئی۔اجلاس میں تعلیمی ادارے کھولنے کے حتمی فیصلے کے ساتھ ساتھ ان سے متعلق ایس او پیز کو حتمی شکل دی گئی ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ ملک میں 15 ستمبر سے تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کیا گیا تھا تاہم اسے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی سفارشات اور بین الصوبائی وزرائے تعلیم کونسل کی منظوری سے مشروط کیا گیا تھا۔
