پنکی پیرنی کی بہن کو 8 لاکھ ماہانہ پر سرکاری جاب مل گئی

بزدار سرکار نے خاتون اول بشریٰ بی بی کی سگی بہن ڈاکٹر مریم ریاض وٹو کو آٹھ لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ پر ہائر ایجوکیشن کمیشن میں کوآرڈینیڑ تعینات کرکے میرٹ کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔
اس سے پہلے خاتون اول بشری بی بی کی پکی سہیلی فرحت شہزادی عرف فرح خان کی جانب سے سینیٹ کی نشست کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروائے جانے پر سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے تحریک انصاف صرف میں اقربا پروری کے کلچر کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا جس کے بعد فرح خان نے کاغذات واپس لے لئے تھے۔ یہ معاملہ تو ختم ہوگیا لیکن اب خاتون اول ہی کی سگی بہن ڈاکٹر مریم ریاض وٹو کو ہائر ایجوکیشن کمیشن پنجاب میں اعلیٰ عہدے پر بھاری معاوضے کے عوض تعینات کیے جانے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ اور خاتون اول بشریٰ بی بی کی ہمشیرہ کو ہائر ایجوکیشن کمیشن میں بھاری تنخواہ کے عوض بڑی پوسٹ تعینات کر دیا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی سابق سینیٹر سحر کامران اور ن لیگ کی رکن اسمبلی حنا بٹ کی جانب سے بھی یہ معاملہ سوشل میڈیا پر اٹھایا گیا ہے۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے سکرین شاٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر مریم ریاض وٹو کو ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کی کوآرڈینٹر تعینات کیا گیا ہے اور ان کی تنخواہ 8 لاکھ روپے سے زائد رکھی گئی ہے۔اس معاملے پر ن لیگ کی رکن اسمبلی حنا بٹ بھی میدان میں آئی اور انہوں نے ٹویٹر پر سکرین شاٹس شیئر کرتے ہوئے ساتھ پیغام لکھا کہ بشری بی بی کی بہن کو ساڑھے آٹھ لاکھ تنخواہ پر HEC میں تعینات کر دیا گیا، کون کہتا ہے نیازی نوکریاں نہیں دے رہا،وہ دے رہا ہے مگر اپنے ٹبر کو۔
خیال رہے کہ مریم ریاض وٹو کا نام پہلی بار اس وقت میڈیا پر آیا تھا جب آج سے تقریبا چار سال قبل یہ افواہ اڑی تھی کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پاکپتن سے تعلق رکھنے والے معروف خاندان کی مریم ریاض وٹو نامی خاتون سے شادی کر لی ہے۔ دراصل یہ افواہ اس بنیاد پر پر اڑائی گئی تھی کہ عمران خان پاکپتن میں بشریٰ بی بی المعروف پنکی پیرنی کے پاس روحانی فیض حاصل کرنے کے لئے جایا کرتے تھے۔ جب عمران خان نے پنکی پیرنی سے اپنا رشتہ کروانے کی خواہش کا اظہار کیا تو مبینہ طور پر پنکی پیرنی نے عمران خان کو پیشکش کی کہ وہ اپنی بہن مریم ریاض وٹو سے ان کی شادی کروا سکتی ہیں تاہم عمران خان اس رشتے پر راضی نہ ہوئے۔ ان دنوں مریم ریاض وٹو متحدہ عرب امارات میں مقیم تھیں۔ جہاں وہ یو اے ای یونیورسٹی میں ڈائریکٹر پلاننگ کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں۔ مریم وٹو کی عمران خان سے شادی کی افواہیں اس لیے بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز بنیں کیونکہ یہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات میں تحریک انصاف کے کئی فنکشنز میں شرکت کر چکی تھی اور بہت سے لوگ انہیں تحریک انصاف کی متحرک کارکن کے طور پر پہچانتے تھے۔
تاہم 14جولائی کو 2016 میں مریم ریاض ٹو نے ایک سوشل میڈیا پیغام کے ذریعے نہ صرف اپنی عمران خان سے شادی کی افواہوں کی پر زور تردید کی تھی بلکہ اس طرح کی بے بنیاد افواہ اڑانے والوں بالخصوص پاکستانی میڈیا کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
عمران خان کی تیسری شادی کے حوالے سے افواہیں تھم جانے کے بعد فروری 2018 میں اس بات کی تصدیق ہوئی کہ چیئرمین تحریک انصاف نے پاکپتن سے تعلق رکھنے والی روحانی شخصیت بشریٰ بی بی المعروف ان کی پیروی سے لاہور میں خاموشی سے نکاح کرلیا ہے۔ اس طرح یہ ثابت ہو گیا کہ مریم ریاض وٹو سے عمران خان کی شادی کی چہ مگوئیاں بے بنیاد تھیں اور انہوں نے اصل میں مریم کی بہن بشریٰ بی بی سے شادی کی جو اس سے پہلے خاور فرید مانیکا کے عقد میں تھیں۔ اس نکاح کی تصاویر میں مریم ریاض وٹو بھی نظر آئیں۔ عمران خان کے بشری بی بی سے نکاح سے قبل ہی یہ مشہور ہوگیا تھا کہ دونوں رشتہ ازدواج میں منسلک ہو چکے ہیں جس پر تحریک انصاف کے سنٹرل سیکریٹریٹ کی جانب سے ایک تحریری بیان میں عمران خان کی شادی کو ان کا نجی اور ذاتی معاملہ قرار دیا گیا تھا۔ اس بیان میں وضاحت کی گئی تھی کہ عمران خان نے بشریٰ مانیکا کو شادی کا پیغام بھجوایا ہے اور وہ ان کے جواب کے منتظر ہیں۔ اگر بشریٰ مانیکا ان کی شادی کی پیشکش کو قبول کرتی ہیں تو عمران خان باقاعدہ طور پر عوام کو اس سے آگاہ کریں گے۔ تب تک ہم میڈیا سے التماس کرتے ہیں کہ دونوں خاندانوں کے بارے میں کسی قسم کی چہ میگوئیوں سے پرہیز کیا جائے۔ اب مریم ریاض وٹو پانچ سال بعد پھر پاکستان میں زیر بحث ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button