کیا پی ٹی آئی واقعی 40 لاکھ افراد اسلام آباد لا سکتی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب بڑے پیمانے پر مارچ کا اعلان کیا ہے، لیکن اس بار دعویٰ صرف ایک بڑے سیاسی اجتماع کا نہیں بلکہ 40 لاکھ افراد کو اسلام آباد لانے کا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے ابتدا میں 20 لاکھ افراد کو مارچ میں شریک کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا، تاہم پارٹی کارکنوں کے جوش و خروش کو دیکھتے ہوئے یہ ہدف بڑھا کر 40 لاکھ کر دیا گیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کوئی جماعت واقعی اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو ایک ہی احتجاج یا مارچ میں متحرک کر سکی ہے؟ کیا پی ٹی آئی کے ماضی کے جلسوں، احتجاجوں اور لانگ مارچ میں شریک ہونے والوں کی تعداد اس نئے دعوے کو تقویت دیتی ہے؟ اور اگر 40 لاکھ افراد اسلام آباد پہنچتے ہیں تو انہیں شہر میں کہاں رکھا جائے گا، ان کے لیے کتنے وسائل درکار ہوں گے اور اتنے بڑے اجتماع کو منظم کرنا کس حد تک ممکن ہوگا؟

یہ دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پی ٹی آئی اپنے بانی عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے ساتھ ایک مرتبہ پھر سڑکوں پر سیاسی دباؤ بڑھانے کی تیاری کر رہی ہے۔ پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اس مارچ کی تیاریوں کی قیادت کر رہے ہیں۔ پارٹی رہنماؤں کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع کے دوروں اور کارکنوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ زمینی سطح پر کارکنوں کو متحرک کرنے کے لیے باقاعدہ مہم بھی چلائی جا رہی ہے۔

سہیل آفریدی نے اعلان کیا ہے کہ وہ 27 ستمبر کو پشاور سے اسلام آباد مارچ کی قیادت کریں گے۔ دیگر اضلاع سے پارٹی رہنماؤں اور اراکین اسمبلی کی قیادت میں قافلے روانہ ہوں گے، جو راستے میں مرکزی قافلے کا حصہ بنتے جائیں گے۔

پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مارچ میں صرف خیبر پختونخوا کے کارکن شریک نہیں ہوں گے بلکہ پنجاب، سندھ، بلوچستان اور ملک کے دیگر علاقوں سے بھی کارکن اسلام آباد پہنچیں گے۔

سابق مشیر وزیراعلیٰ اور پی ٹی آئی یوتھ رہنما ڈاکٹر شفقت ایاز بھی اس مہم میں سرگرم ہیں۔ ان کے مطابق سہیل آفریدی جہاں بھی جاتے ہیں، کارکن بڑی تعداد میں ان کا استقبال کرتے ہیں اور یہی عوامی ردعمل 40 لاکھ افراد کا ہدف مقرر کرنے کی بنیادی وجہ ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اگر استقبال کے لیے آنے والے افراد کا صرف نصف حصہ بھی 27 ستمبر کو اسلام آباد پہنچ گیا تو تعداد 40 لاکھ سے تجاوز کر سکتی ہے۔

مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی کے لیے سب سے بڑا امتحان یہی ہے کہ اس دعوے کو عملی شکل کیسے دی جائے۔پاکستان تحریک انصاف گزشتہ کئی برسوں سے اپنے جلسوں، احتجاجوں اور لانگ مارچ میں بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت کے دعوے کرتی رہی ہے۔ تاہم سیاسی دعووں اور آزادانہ طور پر لگائے گئے تخمینوں میں اکثر نمایاں فرق دیکھنے کو ملتا ہے۔

پشاور کی سینیئر صحافی اور تجزیہ کار فرزانہ علی کے مطابق 40 لاکھ افراد کا ہدف زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ان کے مطابق اگر واقعی 40 لاکھ افراد اسلام آباد پہنچ جائیں تو صرف اجتماع کے لیے درکار جگہ ہی ایک بڑا مسئلہ بن جائے گی۔فرزانہ علی کا کہنا ہے کہ انہوں نے 2012 سے پی ٹی آئی کے جلسوں اور لانگ مارچ کی کوریج کی ہے، لیکن انہیں کبھی ایسا اجتماع نظر نہیں آیا جس میں لاکھوں افراد کی تعداد موجود ہو۔ان کے مطابق پی ٹی آئی کے بانی عمران خان خود جب بڑے جلسوں اور احتجاجوں کی قیادت کرتے تھے، تب بھی زمینی طور پر تعداد ہزاروں میں نظر آتی تھی، لاکھوں میں نہیں۔ان کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے اجتماعات کی تعداد سیاسی طور پر بڑھا چڑھا کر بیان کرتی ہیں، جبکہ صحافیوں اور تجزیہ کاروں کا کام دعوے کو زمینی شواہد سے جانچنا ہوتا ہے۔

پی ٹی آئی کے موجودہ دعوے کا موازنہ اگر ماضی کے اسلام آباد مارچ سے کیا جائے تو فرق مزید نمایاں ہو جاتا ہے۔فرزانہ علی کے مطابق علی امین گنڈاپور کی قیادت میں ہونے والے گزشتہ اسلام آباد مارچ میں اداروں کی رپورٹس کے مطابق تقریباً 20 سے 30 ہزار افراد موجود تھے۔یہی وہ مقام ہے جہاں 40 لاکھ کے دعوے پر بنیادی سوال اٹھتا ہے کہ اگر چند برس قبل دسیوں ہزار افراد جمع ہوئے تھے تو اب چند ہفتوں میں اس تعداد کو 40 لاکھ تک کیسے پہنچایا جائے گا؟یہ صرف کارکنوں کو متحرک کرنے کا مسئلہ نہیں بلکہ سفر، رہائش، خوراک، سکیورٹی، ٹرانسپورٹ اور اجتماع کے انتظام سمیت کئی بڑے عملی چیلنجز سے بھی جڑا ہوا ہے۔

پشاور کے نوجوان صحافی شہاب الرحمان کے مطابق سخت سیاسی اور انتظامی حالات کے باوجود پی ٹی آئی کے کارکن ماضی میں سڑکوں پر نکلتے رہے ہیں۔ان کے مطابق پی ٹی آئی کے جلسوں اور احتجاجوں میں ہزاروں افراد کی شرکت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، لیکن پارٹی کی جانب سے بیان کی جانے والی تعداد اکثر اصل تعداد سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ 40 لاکھ افراد کا ہدف حاصل کرنا انتہائی مشکل دکھائی دیتا ہے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ مارچ میں بڑی تعداد میں کارکن شریک نہیں ہوں گے۔شہاب الرحمان کے مطابق اس وقت ایک اور اہم سوال پارٹی کارکنوں اور قیادت کے درمیان اعتماد کا ہے۔ اگر کارکن قیادت پر مکمل اعتماد نہ کریں تو اتنے بڑے احتجاج کے لیے انہیں متحرک کرنا خود ایک بڑا امتحان بن سکتا ہے۔

جلسے یا لانگ مارچ میں شریک افراد کی درست تعداد معلوم کرنا خود ایک پیچیدہ معاملہ ہے۔اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور کے شعبہ شماریات کے پروفیسر ڈاکٹر سریر بادشاہ کے مطابق جلسوں، جلوسوں اور مارچ میں شرکا کی تعداد معلوم کرنے کے مختلف سائنسی طریقے موجود ہیں۔جلسے کی صورت میں اس جگہ کا رقبہ دیکھا جاتا ہے جہاں لوگ موجود ہوں، پھر اس رقبے میں موجود افراد کی اوسط کثافت کے حساب سے مجموعی تعداد کا تخمینہ لگایا جاتا ہے۔مارچ یا جلوس کی صورت میں معاملہ کچھ مختلف ہوتا ہے۔ یہاں یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک مخصوص مقام سے کتنے افراد کتنے وقت میں گزرے اور اس بنیاد پر مجموعی تعداد کا تخمینہ لگایا جا سکتا ہے۔یعنی محض یہ کہنا کہ ’’لاکھوں لوگ موجود تھے‘‘ کافی نہیں، بلکہ جگہ، وقت، افراد کی کثافت اور نقل و حرکت سمیت مختلف عوامل کو مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔

اگر پی ٹی آئی کا 40 لاکھ افراد کا دعویٰ حقیقت میں تبدیل ہوتا ہے تو اس کے لیے درکار وسائل بھی غیر معمولی ہوں گے۔پروفیسر سریر بادشاہ کے بیان کردہ تخمینے کے مطابق اگر تمام افراد پیدل نہ ہوں اور بڑی تعداد میں لوگ گاڑیوں کے ذریعے پہنچیں تو لاکھوں افراد کے لیے لاکھوں نہیں تو کم از کم کئی لاکھ گاڑیوں اور دیگر ذرائع آمدورفت کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔اتنے بڑے قافلے کو اسلام آباد تک پہنچانے کے لیے راستوں کی منصوبہ بندی، پارکنگ، خوراک، پانی، طبی سہولیات اور سکیورٹی جیسے انتظامات بھی درکار ہوں گے۔یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ اتنے بڑے مارچ کے اخراجات کون برداشت کرے گا؟

تجزیہ کاروں کے مطابق لاکھوں افراد کو مختلف صوبوں اور اضلاع سے اسلام آباد پہنچانے کے لیے خطیر مالی وسائل درکار ہوں گے۔پی ٹی آئی کی جانب سے اس حوالے سے ابھی تک ایسا تفصیلی مالی منصوبہ سامنے نہیں آیا جس سے اندازہ ہو سکے کہ 40 لاکھ افراد کے مارچ کے لیے سفر اور دیگر انتظامات کس طرح کیے جائیں گے۔دوسری جانب سیاسی مخالفین کی جانب سے یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے جاری مہم میں سرکاری وسائل کے استعمال کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ اس معاملے پر بھی سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے۔

40 لاکھ افراد کا دعویٰ فی الحال ایک سیاسی ہدف ہے، جبکہ اس کی حقیقت کا فیصلہ 27 ستمبر کو اسلام آباد کی سڑکوں پر موجود افراد کی تعداد ہی کرے گی۔اگر پی ٹی آئی واقعی لاکھوں افراد کو اسلام آباد لانے میں کامیاب ہوتی ہے تو یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہوگا اور حکومت پر بھی نمایاں سیاسی دباؤ پیدا کر سکتا ہے۔لیکن اگر مارچ میں شرکت چند ہزار یا دسیوں ہزار افراد تک محدود رہتی ہے تو 40 لاکھ کا دعویٰ سیاسی مبالغہ قرار پائے گا۔اس لیے اصل سوال صرف یہ نہیں کہ پی ٹی آئی 40 لاکھ افراد لانے کا دعویٰ کیوں کر رہی ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا اس کے پاس اتنی بڑی تعداد کو سڑکوں پر لانے کی سیاسی طاقت، تنظیمی صلاحیت اور مالی وسائل بھی موجود ہیں؟27 ستمبر کا دن اس دعوے اور زمینی حقیقت کے درمیان فرق واضح کر دے گا۔فی الحال پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرنے میں مصروف ہے، حکومت اور سیاسی مخالفین اس دعوے کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں، جبکہ تجزیہ کار ماضی کے اعداد و شمار کی بنیاد پر 40 لاکھ افراد کے ہدف کو انتہائی مشکل قرار دے رہے ہیں۔یوں 27 ستمبر کا اسلام آباد مارچ صرف ایک سیاسی احتجاج نہیں بلکہ پی ٹی آئی کے عوامی اثر و رسوخ کا بھی ایک بڑا امتحان بن چکا ہے۔

Back to top button