پاکستان ہاکی کی عالمی بادشاہت سے 11ویں نمبر پر کیسے آیا؟

ایک زمانہ تھا جب پاکستان ہاکی کا نام دنیا کی بہترین ٹیموں میں شمار ہوتا تھا۔ عالمی کپ ہو، اولمپکس ہوں یا چیمپئنز ٹرافی، پاکستانی ٹیم میدان میں اترتی تو اسے ٹرافی کا مضبوط امیدوار سمجھا جاتا تھا۔ کلیم اللہ، حسن سردار، منظور الحسن، منظور جونیئر اور شہباز احمد جیسے کھلاڑی دنیا بھر میں پاکستان کی ہاکی کی پہچان بن چکے تھے۔ لیکن آج وہی پاکستان ہاکی ٹیم عالمی کپ میں 16 ٹیموں میں 11ویں پوزیشن حاصل کرنے پر اسے گزشتہ دو دہائیوں کی بہترین کارکردگی قرار دے رہی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ 11ویں پوزیشن بہتر ہوئی یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ جس ملک نے چار مرتبہ عالمی کپ جیتا، وہ آخر اس مقام تک کیسے پہنچا جہاں معمولی بہتری بھی بڑی کامیابی دکھائی دینے لگی؟

پاکستان ہاکی ٹیم نے جنوبی افریقہ کو شکست دے کر عالمی کپ میں 11ویں پوزیشن حاصل کی۔ گزشتہ 20 برس میں یہ پاکستان کی عالمی کپ میں بہترین پوزیشن ہے، اگرچہ اس سے قبل 2006 میں جرمنی میں ہونے والے عالمی کپ میں پاکستان چھٹی پوزیشن پر رہا تھا۔ پاکستان نے 2010 اور 2018 کے عالمی کپ میں 12ویں پوزیشن حاصل کی تھی۔ اس بار ٹیم نے ایک درجہ بہتری ضرور حاصل کی، لیکن اس کے لیے اسے درجہ بندی کے مقابلے کھیلنے پڑے کیونکہ پول مرحلے میں بھارت اور انگلینڈ کے ہاتھوں شکست اور ویلز کے خلاف برابری کے باعث وہ ابتدائی آٹھ ٹیموں میں جگہ نہ بنا سکی۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان ہاکی کے سابق کپتان شہباز احمد کے نزدیک 11ویں پوزیشن پر جشن منانا درست نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 16 ٹیموں کے عالمی کپ میں 11ویں نمبر پر آنا کوئی ایسی کامیابی نہیں جس پر مطمئن ہو کر بیٹھ جایا جائے۔ ان کے مطابق اصل ہدف ایشیائی کھیلوں میں سونے کا تمغہ حاصل کرکے 2028 کے لاس اینجلس اولمپکس کے لیے براہ راست جگہ بنانا ہونا چاہیے، کیونکہ اگر پاکستان کو اولمپکس کے لیے بھی اہلیتی مقابلے کھیلنے پڑے تو مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔

پاکستان کی موجودہ صورتحال کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ قومی ٹیم 1994 کے بعد سے عالمی کپ نہیں جیت سکی۔ 1994 میں آسٹریلیا میں پاکستان نے نیدرلینڈز کو شکست دے کر آخری مرتبہ عالمی کپ اپنے نام کیا تھا۔ اس کے بعد عالمی ہاکی میں پاکستان کی مسلسل تنزلی شروع ہوئی۔ ایک وقت میں چار مرتبہ عالمی کپ جیتنے والی پاکستان ٹیم مختلف عالمی مقابلوں کے لیے کوالیفائی کرنے میں بھی ناکام رہی اور دو عالمی کپ تو ایسے گزرے جن میں پاکستان کی نمائندگی ہی نہیں تھی۔

پاکستان اب بھی عالمی کپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ چار مرتبہ ٹرافی جیتنے والا ملک ہے۔ پاکستان نے 1971 میں سپین، 1978 میں ارجنٹینا، 1982 میں بھارت اور 1994 میں آسٹریلیا میں عالمی کپ جیتا۔ یہی شاندار ماضی موجودہ صورتحال کو مزید تکلیف دہ بناتا ہے، کیونکہ جس ٹیم کے لیے عالمی اعزاز معمول کی بات ہوا کرتا تھا، آج اس کی معمولی درجہ بندی میں بہتری بھی قابلِ فخر کامیابی بن چکی ہے۔

پاکستان ہاکی کے زوال کی ایک بڑی وجہ کھیل کے انداز میں آنے والی عالمی تبدیلیوں کے ساتھ خود کو ہم آہنگ نہ کرنا بھی قرار دی جاتی ہے۔ سابق کپتان شہباز احمد کے مطابق پاکستان کے پاس ماضی میں غیر معمولی صلاحیت رکھنے والے کھلاڑی موجود تھے جن کی مہارت، کھیل کو سمجھنے کی صلاحیت، فٹنس اور میدان میں فیصلہ سازی کا معیار بلند تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ کھلاڑیوں میں وہ جذبہ، مہارت اور تیاری نظر نہیں آتی جو عالمی سطح پر چیمپئن بننے کے لیے ضروری ہے۔

فٹنس بھی پاکستانی ہاکی کے زوال کی اہم وجوہات میں شامل ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے حکام خود تسلیم کرتے ہیں کہ دنیا کے دیگر ممالک نے جدید ہاکی میں فٹنس کو مرکزی حیثیت دی، جبکہ پاکستان میں طویل عرصے تک صرف فنی مہارت پر زیادہ زور دیا جاتا رہا۔ جدید ہاکی پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز ہوگئی ہے۔ کھلاڑیوں کو مسلسل دوڑ، فوری فیصلہ سازی، تیز پاسنگ، دباؤ میں کھیلنے اور پورے میچ میں اعلیٰ جسمانی معیار برقرار رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ٹیم کا جسمانی معیار عالمی سطح کے مطابق نہ ہو تو بہترین فنی صلاحیت بھی مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتی۔

پاکستان ہاکی کے بحران کا ایک بڑا سبب کھلاڑیوں کے مستقبل کا غیر یقینی ہونا بھی ہے۔ ماضی میں قومی ادارے، بینک، پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز اور دیگر بڑے ادارے ہاکی کے کھلاڑیوں کو ملازمتیں فراہم کرتے تھے۔ اس نظام کی وجہ سے نوجوانوں کو یقین ہوتا تھا کہ اگر وہ ہاکی میں اپنا مقام بنائیں گے تو کھیل کے ساتھ ان کا معاشی مستقبل بھی محفوظ ہوگا۔ جب اداروں کی سرپرستی اور ملازمتوں کا یہ نظام کمزور ہوا تو نوجوانوں کے لیے ہاکی ایک محفوظ پیشہ نہیں رہی اور کھیل کی طرف آنے والے باصلاحیت کھلاڑیوں کی تعداد بھی متاثر ہوئی۔

اس کے ساتھ حکومتوں اور اداروں کی جانب سے مسلسل اور طویل المدتی پالیسی کا فقدان بھی پاکستان ہاکی کی مشکلات میں اضافہ کرتا رہا۔ دنیا کی کامیاب ٹیموں نے برسوں تک ایک ہی نظام، ایک ہی وژن اور نوجوانوں کی نچلی سطح سے تربیت پر توجہ دی۔ پاکستان میں اس کے برعکس انتظامی تبدیلیاں، مالی مشکلات، کوچنگ کے مسائل اور منصوبہ بندی کے تسلسل کی کمی نے قومی کھیل کو مستقل بنیادوں پر آگے بڑھنے سے روکے رکھا۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے حکام کا مؤقف تاہم اس سے مختلف ہے۔ فیڈریشن کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران کھیل پر خصوصی توجہ دی گئی ہے اور اس کے نتائج عالمی درجہ بندی میں بھی نظر آ رہے ہیں۔ ایک برس پہلے پاکستان عالمی درجہ بندی میں 17ویں نمبر پر تھا جبکہ اب 11ویں نمبر پر پہنچ چکا ہے۔ فیڈریشن کے مطابق گزشتہ آٹھ ماہ میں ہاکی پر 50 سے 60 کروڑ روپے تک خرچ کیے گئے ہیں، جبکہ صرف عالمی کپ میں ٹیم کی شرکت پر تقریباً آٹھ کروڑ روپے خرچ ہوئے۔

فیڈریشن حکام کے مطابق کھلاڑیوں کو یورپ میں ہاکی لیگ اور بین الاقوامی مقابلوں میں کھیلنے کے مواقع دیے جارہے ہیں، جس سے انہیں عالمی معیار کی ہاکی کا تجربہ حاصل ہورہا ہے۔ کھلاڑیوں کو مالی طور پر بھی بہتر مراعات دینے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ وہ کھیل پر توجہ مرکوز کرسکیں۔ اس کے علاوہ ملک بھر کے تقریباً 1200 اسکولوں میں ہاکی کے فروغ کے لیے کھیلوں کا سامان فراہم کرنے کے منصوبے پر بھی کام ہورہا ہے۔

فیڈریشن کے ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس اینڈ ڈویلپمنٹ طاہر زمان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے درست سمت میں سفر شروع کردیا ہے اور کسی بھی کھیل میں نتائج حاصل کرنے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔ ان کے مطابق فوری طور پر عالمی کپ جیتنے کی توقع حقیقت پسندانہ نہیں، کیونکہ عالمی معیار کی ٹیم تیار کرنے کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی اور تسلسل ضروری ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ بیلجیئم اور بھارت جیسی ٹیموں نے کئی برس تک ایک ہی سمت میں کام کیا اور آج وہ عالمی ہاکی میں مضبوط مقام رکھتی ہیں۔

لیکن اصل امتحان یہی ہے کہ پاکستان ہاکی میں یہ تسلسل برقرار رہتا ہے یا نہیں۔ ماضی میں بھی مختلف ادوار میں قومی کھیل کو بحال کرنے کے دعوے کیے گئے، فنڈز خرچ ہوئے، تربیتی کیمپ لگے اور نئی حکمت عملی بنائی گئی، لیکن مستقل نظام نہ ہونے کے باعث نتائج برقرار نہ رہ سکے۔ اگر موجودہ سرمایہ کاری بھی صرف ایک عالمی کپ یا ایک ایشیائی کھیلوں تک محدود رہی تو پاکستان دوبارہ اسی دائرے میں واپس جاسکتا ہے۔

پاکستان کے لیے اگلا بڑا امتحان ایشیائی کھیل ہیں۔ یہی وہ مقابلہ ہے جہاں قومی ٹیم نہ صرف اپنی حقیقی پیش رفت ثابت کرسکتی ہے بلکہ 2028 کے اولمپکس کے لیے براہ راست جگہ بنانے کا موقع بھی حاصل کرسکتی ہے۔ اس لیے 11ویں پوزیشن کو منزل سمجھنے کے بجائے اسے ایک ابتدائی قدم کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔

پاکستانی ہاکی کی بحالی صرف قومی ٹیم کے چند کھلاڑیوں یا ایک کوچ کی ذمہ داری نہیں۔ اس کے لیے اسکول اور کالج کی سطح پر ہاکی کا مضبوط ڈھانچہ، مستقل تربیتی نظام، جدید کوچنگ، عالمی معیار کی فٹنس، کھلاڑیوں کے لیے معاشی تحفظ، بہتر میدان، باصلاحیت نوجوانوں کی تلاش اور سب سے بڑھ کر طویل المدتی قومی پالیسی درکار ہے۔

آج پاکستان ہاکی کے سامنے اصل سوال یہ نہیں کہ 11ویں پوزیشن ماضی کے مقابلے میں بہتر ہے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان دوبارہ وہ مقام حاصل کرنے کا عزم اور صلاحیت رکھتا ہے جہاں عالمی کپ کی ٹرافی اس کے لیے خواب نہیں بلکہ معمول ہوا کرتی تھی؟ اگر 11ویں پوزیشن کو کامیابی کی آخری منزل سمجھ لیا گیا تو پاکستان ہاکی کا زوال جاری رہ سکتا ہے، لیکن اگر اسے بحالی کے سفر کا پہلا قدم سمجھ کر بنیادی مسائل حل کیے جائیں تو شاید وہ دن دوبارہ آسکتا ہے جب دنیا پاکستان کو ہاکی کے ایک سابق چیمپئن کے طور پر نہیں بلکہ ایک بار پھر عالمی چیمپئن کے مضبوط امیدوار کے طور پر دیکھے۔

Back to top button