خلیجی ممالک میں پاکستان کا سکہ کیوں چلنے لگا؟

خلیج کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال میں پاکستان کا کردار ایک مرتبہ پھر عالمی اور علاقائی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ پاکستان اور کویت کے درمیان نئے دفاعی اور فوجی تعاون کے معاہدے پر دستخط ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ معاہدے کو ابھی چند ہی ہفتے گزرے ہیں۔ بظاہر کویت اور پاکستان کا نیا معاہدہ فوجی تربیت، استعداد بڑھانے، تجربات کے تبادلے اور آپریشنل رابطہ کاری تک محدود ہے، لیکن اس کے وقت اور علاقائی حالات نے ایک بڑا سوال ضرور کھڑا کردیا ہے کہ کیا پاکستان بتدریج خلیج کے ابھرتے ہوئے سکیورٹی ڈھانچے میں ایک اہم اور بااثر شراکت دار کی حیثیت اختیار کررہا ہے؟

پاکستان اور کویت نے 27 اگست کو کویتی وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ سالم الصباح کے اسلام آباد کے دورے کے دوران دفاعی اور فوجی تعاون کے ایک نئے معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستانی ذرائع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 میں کویت میں طے پانے والے دفاعی تعاون کے فریم ورک کا تسلسل اور توسیع ہے، جس کی کویت نے 2026 میں توثیق کی۔ نئے معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان فوجی تربیت، تجربات کے تبادلے، استعداد بڑھانے، سرحدی انتظام، آپریشنل رابطہ کاری اور فوجی تیاری کے معیار کو بہتر بنانے کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی۔

دونوں ممالک کے درمیان پہلا فریم ورک معاہدہ جون 2023 میں طے پایا تھا جس کا مقصد باہمی تجربات، دفاعی صنعت اور فوجی تربیت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے لیے ایک قانونی اور انتظامی بنیاد فراہم کرنا تھا۔ حالیہ معاہدہ اسی فریم ورک کو عملی طور پر آگے بڑھانے کی کوشش ہے، تاہم اسے پاکستان اور کویت کے درمیان مشترکہ دفاع یا باہمی سکیورٹی ضمانت کا معاہدہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

یہ فرق اس لیے اہم ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ہونے والا مکہ معاہدہ اس سے کہیں زیادہ وسیع نوعیت کا ہے۔ اس معاہدے کے تحت تینوں ممالک کے درمیان اجتماعی سکیورٹی تعاون کا تصور موجود ہے اور کسی ایک ملک پر حملے کو تینوں کے خلاف حملے کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے، جبکہ کویت اور پاکستان کے حالیہ معاہدے میں ایسی کوئی باہمی دفاعی ضمانت شامل نہیں۔ اس کا بنیادی محور فوجی تربیت، تیاری، استعداد، رابطہ کاری اور تجربات کا تبادلہ ہے۔

اس کے باوجود کویت اور پاکستان کے درمیان معاہدے کے وقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ پیش رفت مکہ معاہدے کے چند ہی ہفتوں بعد سامنے آئی ہے، جبکہ پورا خلیجی خطہ ایک پیچیدہ سکیورٹی ماحول سے گزر رہا ہے۔ علاقائی جنگوں، سمندری کشیدگی، توانائی کی تنصیبات کو لاحق خطرات اور امریکہ اور ایران کے درمیان مسلسل کشیدگی نے خلیجی ممالک کو اپنے دفاعی اور سکیورٹی انتظامات پر نئے سرے سے غور کرنے پر مجبور کیا ہے۔ ایسے ماحول میں کسی ایک طاقت پر مکمل انحصار کے بجائے متعدد دفاعی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کا رجحان نمایاں ہورہا ہے۔

کویت کے لیے پاکستان ایک ایسا شراکت دار ہے جس کے پاس کئی دہائیوں پر محیط فوجی تجربہ، تربیتی صلاحیت اور خطے کے مختلف ممالک کے ساتھ دفاعی روابط موجود ہیں۔ پاکستان ماضی میں بھی خلیجی ممالک کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے تربیتی پروگراموں، فوجی مشیروں اور مختلف نوعیت کے دفاعی تعاون کے ذریعے کردار ادا کرتا رہا ہے۔ کویت کے لیے موجودہ معاہدہ اپنی مسلح افواج کی عملی تیاری اور پیشہ ورانہ صلاحیت کو مزید بہتر بنانے کا ایک ذریعہ ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے لیے بھی خلیجی ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون محض فوجی تربیت تک محدود نہیں بلکہ اس کے وسیع تر تزویراتی اثرات ہوسکتے ہیں۔ سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ مکہ معاہدے اور اب کویت کے ساتھ دفاعی تعاون کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ پاکستان خلیجی ممالک کے ساتھ اپنے دفاعی روابط کو ایک نئے مرحلے میں لے جانے کی کوشش کررہا ہے۔

تاہم اس صورتحال کو پاکستان کے خلیجی سکیورٹی نظام میں مکمل طور پر شامل ہونے سے تعبیر کرنا ابھی قبل از وقت ہوگا۔ ماہرین کے مطابق زیادہ درست سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان بتدریج خلیج اور اس کے گرد و نواح میں بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات کے ایک ایسے نیٹ ورک میں اہم رابطے یا مرکزی کڑی کا کردار ادا کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے؟ موجودہ حالات اس سوال کو ضرور تقویت دیتے ہیں، لیکن ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ پاکستان نے خلیجی سکیورٹی کے روایتی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی پیدا کردی ہے۔

یہاں ایک اور اہم پہلو امریکہ کے ساتھ خلیجی ممالک کے تعلقات کا ہے۔ پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کو امریکہ کے لیے متبادل کے طور پر دیکھنا درست نہیں ہوگا۔ امریکہ اب بھی کویت اور دیگر خلیجی ریاستوں کے دفاعی اور سکیورٹی ڈھانچے میں ایک بنیادی کردار رکھتا ہے۔ کویت کا پاکستان اور ترکی سمیت دیگر ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھانے کا مقصد لازماً واشنگٹن سے دوری اختیار کرنا نہیں بلکہ اپنے دفاعی شراکت داروں کا دائرہ وسیع کرنا اور کسی ایک ملک پر ضرورت سے زیادہ انحصار کم کرنا ہوسکتا ہے۔

خلیجی ممالک کے لیے دفاعی شراکت داریوں میں تنوع دراصل ایک طرح کی تزویراتی لچک پیدا کرتا ہے۔ اگر ایک شراکت دار کسی خاص بحران میں مطلوبہ مدد فراہم نہ کرسکے تو دوسرے شراکت داروں کے ساتھ موجود روابط متبادل راستے فراہم کرسکتے ہیں۔ اسی تناظر میں پاکستان اور ترکی جیسے ممالک کے ساتھ بڑھتا ہوا تعاون خلیجی ریاستوں کے لیے اضافی دفاعی صلاحیت، تربیت اور تجربات کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

پاکستان کے لیے صورتحال اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ وہ خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی دفاعی روابط رکھنے کے باوجود ایران کے ساتھ بھی اپنے تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کررہا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ماحول میں مختلف فریقوں کے ساتھ رابطے برقرار رکھنے کی پاکستان کی صلاحیت اسے ایک نسبتاً منفرد مقام فراہم کرسکتی ہے۔ یہی توازن مستقبل میں پاکستان کو صرف ایک دفاعی شراکت دار نہیں بلکہ علاقائی رابطہ کاری اور سفارتی کوششوں میں بھی اہم کردار ادا کرنے کا موقع دے سکتا ہے۔

کویت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھانے کا فیصلہ اس حقیقت کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ خلیجی ممالک اب اپنی سکیورٹی ضروریات کے لیے صرف روایتی شراکت داریوں پر انحصار کرنے کے بجائے متعدد ممالک کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینا چاہتے ہیں۔ اس عمل میں فوجی تربیت، دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی، سرحدی نگرانی اور مشترکہ مشقیں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔

یوں پاکستان اور کویت کا حالیہ دفاعی معاہدہ بظاہر ایک دوطرفہ فوجی تعاون کا معاملہ ہے، لیکن اس کے علاقائی اثرات اس سے کہیں وسیع ہوسکتے ہیں۔ مکہ معاہدے کے بعد کویت کے ساتھ دفاعی تعاون، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ بڑھتے روابط اور خلیجی ممالک کی دفاعی شراکت داریوں میں تنوع کی کوششیں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ پاکستان کی دفاعی سفارت کاری کو نئی اہمیت مل رہی ہے۔

تاہم پاکستان کے اثر و رسوخ میں حقیقی اضافہ اسی وقت ثابت ہوگا جب یہ دفاعی معاہدے مستقل عملی تعاون، مشترکہ تربیت، دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی اور علاقائی بحرانوں میں مؤثر رابطہ کاری میں تبدیل ہوں۔ فی الحال یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ پاکستان خلیجی سکیورٹی نظام کا متبادل مرکز نہیں بنا، لیکن وہ تیزی سے اس نظام کے اہم شراکت داروں میں اپنی جگہ مضبوط کرنے کی کوشش ضرور کررہا ہے۔ آنے والے برسوں میں یہ دیکھا جائے گا کہ یہ بڑھتے ہوئے دفاعی روابط محض دوطرفہ معاہدوں تک محدود رہتے ہیں یا پاکستان واقعی خلیج کے نئے سکیورٹی توازن میں ایک اہم اور بااثر کردار حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔

Back to top button