پنکی پیرنی کی دست راست فرح گوگی کی جلد گرفتاری کا امکان

چیئر مین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی مشکلات میں مزید اضافے کا امکان ہے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے سابق خاتون اول بشری بی بی کی دوست اور فرنٹ پرسن فرح گوگی کو گرفتار کرنے کیلئے انٹرپول سے رابطہ کر لیا ہے

ایف آئی اے نے فرحت شہزادی عرف فرح گوگی کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کے لیے انٹرپول سے رابطہ کر لیا ہے جس کے تحت فرح گوگی کو گرفتار کرکے پاکستان لایا جائے گا، ایف آئی اے نے فرح گوگی کے خلاف ریڈ وارنٹ جاری کرنے کے لیے انٹرپول سے درخواست کر دی ہے، انٹر پول سے فرح گوگی کے خلاف ریڈ وارنٹ جاری ہونے کے بعد بذریعہ انٹرپول ان کی گرفتاری عمل میں لائی جائے گی۔

واضح رہے کہ فرح گوگی کو منی لانڈرنگ کے الزامات کا سامنا ہے۔عدالت منی لانڈرنگ کیس میں پہلے ہی انھیں اشتہاری قرار دے چکی ہے، فرح گوگی اپنے خلاف جاری تحقیقات سے بچنے کے لیے ملک سے فرار ہیں ، کہا جا رہا ہے کہ فرح گوگی کے خلاف منی لانڈرنگ کے ناقابل تردید ثبوت ایف آئی اے نے حاصل کر لیے ہیں اب انہیں ملک واپس لا کر عدالتی کارروائی کا آغاز کرنا باقی ہے۔

اسلام آباد میں انٹرپول کے ڈائریکٹر کو لکھے گئے خط میں ایف آئی اے نے لاہور میں ایف آئی اے انسداد منی لانڈرنگ سرکل کی ایف آئی آر 04/23 میں مفرور فرحت شہزادی کا ریڈ وارنٹ طلب کیا ہے۔انٹرپول کے مطابق ریڈ وارنٹ بین الاقوامی گرفتاری کا وارنٹ نہیں ہے بلکہ دنیا بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ایک درخواست ہے کہ ’کسی شخص کو حوالگی، ہتھیار ڈالنے یا اسی طرح کی قانونی کارروائی کے لیے تلاش اور عارضی طور پر گرفتار کیا جائے‘۔

خط میں لکھا گیا ہے کہ ایف آئی اے کروڑوں روپے منی لانڈرنگ کے الزامات میں ان کے خلاف تحقیقات کررہا ہے۔زید بتایا گیا کہ فرحت شہزادی عرف فرح گوگی 3 اپریل 2022 کو متحدہ عرب امارت فرار ہو گئی تھیں کیونکہ انہیں خطرہ تھا کہ ان کا گھناؤنا جرم بے نقاب ہوسکتا ہے۔وفاقی تحقیقاتی ادارے نے انٹرپول سے درخواست کی منظوری کی درخواست کی اور ریڈ وارنٹ کے جلد اجرا کے لیے کارروائی کو فرانسیسی شہر لیون میں واقع اس کے ہیڈ کوارٹر بھیجے۔ایف آئی اے نے کہا کہ ایک بار جب فرحت شہزادی کا ریڈ وارنٹ جاری ہو گیا تو وہ بیرون ملک ان کی گرفتاری پر زور دے گی۔

واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے متعدد رہنما بشمول وفاقی کابینہ کے اراکین حکومت پر زور دے رہے ہیں کہ وہ وہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کو اجازت دے کہ وہ سابق وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف  عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرحت شہزادی کو ملک میں واپس لائے تاکہ وہ اپنے خلاف کیسز کا سامنا کرسکیں۔

خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر مریم نواز شریف نے عثمان بزدار کے دور حکومت میں فرحت شہزادی کو پنجاب کی ’اصل وزیراعلیٰ‘ قرار دیا تھا جبکہ دوسری طرف فرحت شہزادی نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی عطااللہ تارڑ کو ’توہین آمیز‘ بیان اور دبئی کی کاروباری شخصیت، ایک بڑے نیوز چینل اور اس کے اینکر کے خلاف ان پر توشہ خانہ تحائف کی فروخت میں ملوث ہونے کا الزام لگانے پر قانونی نوٹس بھیجا تھا۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس عمران خان کی تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے بے دخلی کے بعد فرح خان ملک چھوڑ کر باہر چلی گئیں۔

واضح رہے کہ ایف آئی اے منی لانڈرنگ کیس میں فرحت شہزادی کے شوہر احسن جمیل گجر سے بھی تفتیش کر رہی ہے، وہ امریکا میں موجود ہیں، فرحت شہزادی کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ بھی یو اے ای چھوڑ چکی ہیں اور اپنے شوہر کے ساتھ امریکا یا کسی دوسرے ملک میں رہائش پذیر ہیں۔

خیال رہے کہ تحقیقاتی اداروں کی ابتدائی رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ بشری بی بی کے پہلے شوہر خاور فرید مانیکا کے ذاتی دوست احسن جمیل گجر اور اسکی بیوی گوگی نے کرپشن کرتے وقت کمال مہارت دکھائی اور اپنے پیچھے کوئی دستاویزی ثبوت نہیں چھوڑا۔ذرائع نے انکشاف کیا تھا کہ فرح گوگی اور ان کے شوہر نے پیشہ وارانہ مہارت دکھائی اور اتنی زیادہ احتیاط برتی کہ پونے چار برس کے دوران وزیراعظم ہاؤس قرار دیئے گئے بنی گالا کے ملاقاتیوں کے ریکارڈ میں دونوں میاں بیوی کی ایک بھی انٹری موجود نہیں حالانکہ فرح گوگی اکثر وہیں قیام پذیر ہوتی تھی۔
خیال رہے کہ سابق وزیراعظم عمران کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی فرنٹ پرسن فرح گوگی اور پراپر ٹی ٹائیکون ملک ریاض کی بیٹی امبر ریاض کی ایک آڈیو کال بھی منظر عام پر آئی تھی جس میں فرح کی طرف سے بشری کیلئے 5 قیراط کے ہیرے کی انگوٹھی کے تقاضے بارے گفتگو کی گئی تھی۔ اس گفتگو کے سامنے آنے پر عمران خان اور پنکی پیرنی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

Back to top button