پوری دنیا جانتی ہے مجھ پر پابندی کس نے لگوا رکھی ہے؟

ریاست پاکستان کی جانب سے عائد پابندیوں کا شکارجیو نیوز کے “سابق” اینکر حامد میر نے کہا ہے کہ پوری دنیا جانتی ہے ان پر پابندی کس نے لگوا رکھی ہے لیکن پھر بھی حکومتی اور ریاستی ترجمان نہایت بے شرمی سے یہ ڈھنڈورا پیٹتے ہیں کہ پاکستان میں میڈیا مکمل طور پر آزاد ہے۔
وائس آف امریکہ کی ایک رپورٹ کے مطابق عمران خان کے دور میں یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ حامد میر ریاستی اور حکومتی پابندیوں کا نشانہ بنے ہیں۔ وہ ایک جان لیوا قاتلانہ حملے کا نشانہ بننے کے علاوہ مشرف دور میں بھی آف ائیر ہو چکے ہیں۔ نومبر 2012 میں حامد میر کی رہائش گاہ پر کھڑی اُن کی گاڑی میں نصب بم برآمد کیا گیا جس کی ذمہ داری تحریک طالبان کے ترجمان احسان اللّہ احسان نے قبول کی تھی۔ 19 اپریل 2014 کو کراچی میں ‘نامعلوم’ افراد نے حامد میر کو 6 گولیاں ماریں اور وہ شدید زخمی ہوئے لیکن معجزانہ طور پر ان کی جان بچ گئی۔
خود پر عائد پابندیوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے حامد میر نے کہا ہے کہ جنرل مشرّف دور میں بھی مجھے جیو ٹی وی سے آف ائر کردیا گیا تھا مگر اب نہ تو ٹی وی پر آ سکتا ہوں نہ ہی اخبار میں کالم لکھ سکتا ہوں۔ حامد میر نے بتایا کہ “مئی میں صحافی اسد طور پر تشدد کے خلاف مظاہرے میں شرکت، تقریر اور پھر ایک ٹوئیٹ کرنے پر دباؤ آنا شروع ہوا۔ جیو نیوز انتظامیہ نے مجھ سے رابطہ کیا کہ آپ اب کوئی ٹوئیٹ نہیں کریں گے۔ ہم پر دباؤ ہے۔ میں نے پوچھا کہ کس کا؟ تو انہوں نے ملک کے ایک اہم ادارے کا نام لیا۔ اگلے دن میں کسی ٹی وی چینل پر مدعو تھا تو جیو انتظامیہ نے دوبارہ کہا کہ آپ اس شو میں شرکت نہ کریں۔ میں نے کہا کہ آپ کے چینل پر تو نہیں بول رہا، کسی اور پلیٹ فارم پر بات کرنے جارہا ہوں، مگر مجھ پر دباؤ دالا جاتا رہا۔ دو دن بعد مجھے یہ بتا دیا گیا کہ آپ کو کچھ دن کے لئے “آف ائیر” کر رہے ہیں۔ پوری دنیا کو پتہ ہے کہ مجھ پر پابندی کس نے لگوائی۔ حامد میر نے بتایا کہ اس سے پہلے اپنے پروگرام “کیپیٹل ٹاک” تک میں بھی مجھے ساتھی صحافی مطیع اللّہ جان کے اغوا پر بات کرنے کی اجازت تک نہیں تھی، مجھے جیو انتظامیہ نے کہا کہ اس پر بات نہ کریں, ہم پر دباؤ ہے‘‘۔ پھر میں نے وائس آف امریکہ کو ہی ایک انٹرویو میں بتایا کہ مطیع اللّہ جان کو جن لوگوں نے اغوا کیا ہے ان کی شکلیں تو سی سی ٹی وی فوٹیج میں واضح ہیں۔ وہ وردی میں ہیں۔ اس پر مجھے فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے ادارے آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ خود پر دباؤ کے حوالے سے آپ ہمیں بتا دیا کریں۔ پھر اگر ہم کارروائی نہ کریں تو آپ جو چاہیں کیجیے گا۔ اس پر میں نے کہا کہ پھر آپ ‘اُس ادارے’ کو روکیں کہ وہ براہ راست چینل انتظامیہ کو فون نہ کرے۔ اس پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آپ اپنی انتظامیہ کو بتا دیں کہ آج کے بعد اُس ادارے کے کسی افسر کی بات نہ سنیں ، صرف آئی ایس پی آر کی بات سنا کریں۔ چنانچہ میں نے انتظامیہ کو بتا دیا۔ مگر جب اسد طور پر حملے کی ایف آئی آر میں ‘اُس ادارے’ کا نام آیا تو پھر دباؤ وہیں سے آنے لگا جہاں سے آیا کرتا ہے۔ ‘اُس ادارے’ کے سربراہ نے جیو نیوز کی انتظامیہ سے براہ راست بات چیت شروع کر دی۔
حامد میر نے کہا کہ جب میں عالمی سطح پر کہیں بول رہا ہوتا ہوں یا عالمی ذرائع ابلاغ پر مجھ سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا آپ پر پابندی عمران خان نے لگوائی ہے تو میں کہتا ہوں کہ نہیں ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے لگوائی ہے۔ اب کیا میں اس بارے جھوٹ بول دوں؟” "ٹھیک ہے عمران خان چیف ایگزیکٹو ہیں مگر مجھے تو سچ ہی بولنا پڑتا ہے۔ 9 دسمبر 2021 کو بھی یورپی یونین کے 7 سفیروں نے مجھے اور ایک ساتھی صحافی کو بلوایا اور پوچھا کہ آپ پر پابندی ‘اُنہوں’ نے لگوائی ہے تو مجھے بتانا پڑا کہ جی ہاں پابندی ‘انہوں’ نے ہی لگوائی ہے۔ حامد میر نے بتایا کہ مجھے اسی سلسلے میں قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں بلوایا گیا۔ وہاں وفاقی وزیر فوّاد چوہدری بھی موجود تھے۔ ان سے کمیٹی نے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ ملک میں میڈیا فری ہے تو حامد میر پر پابندی کس نے لگائی ہے۔ اس پر فوّاد چوہدری نے کہا کہ مجھے نہیں پتہ”۔
حامد میر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں مزید کہا کہ میرے خلاف “بغاوت” کا مقدمہ قائم کرنے کے لئے 5 شہروں میں کارروائی کی گئی، درخواستیں دی گئیں مگر ایک عدالت نے کہا کہ حامد میر تو اسد طور پر حملے کے کسی ملزم کا نام ہی نہیں لے رہے، وہ تو کہہ رہے ہیں کہ صحافی پرحملے کے ملزمان کو گرفتار کیا جانا چاہیے۔ لہذا مقدمہ درج نہیں ہو سکا۔ انہوں نے بتایا کہ قومی اسمبلی کی ایک اور سٹینڈرڈ کمیٹی کے اجلاس میں پیمرا کے سربراہ کو بلوا کر پوچھا گیا کہ حامد میر پر پابندی کس نے لگوائی تو چئیرمین پیمرا نے بھی کہا کہ ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ یعنی پابندی لگوانے والے وہ وہی نامعلوم ہیں جو سب کو معلوم ہیں۔ اس صورت حال کی منتخب حکومت بھی کسی حد تک ذمہ دار ہے مگر انصاف کی بات یہ ہے کہ عمران خان نے فواد چوہدری کی موجودگی میں جیو نیوز کی انتظامیہ کو یہ پیغام دیا کہ میرا اور حامد میر کا کوئی مسئلہ نہیں۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ جب جیو نیوز گروپ ہی کے اخبار “جنگ” میں بھی میرے کالم کی اشاعت پر پابندی لگا دی گئی تو مجھے کہیں نہ کہیں تو صحافت کرنا تھی چنانچہ میں نے معروف امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ سے معاہدہ کر لیا۔ اب 15 اکتوبر کے بعد سے میں امریکی اخبار سے منسلک ہوں اور جیو نیوز سے میرا کوئی معاہدہ نہیں۔ حامد میر نے کہا کہ میرے خلاف خلاف جاری مہم کے دوران مجھ پر توہینِ مذہب کا الزام لگانے کی کوشش بھی کی گئی۔ 2010 میں آئی ایس آئی کے سابق افسر خالد خواجہ کے قتل و اغوا کا الزام لگا دیا گیا۔ پھر مجھے اس وقت کے ایک وزیر نے پیغام دیا کہ اگر میں لاپتہ افراد پر بات کرنا بند کردوں تو “سب ٹھیک” ہو جائے گا۔ یہ سب میں نے سپریم کورٹ کے تین رکنی انکوائری کمیشن کے ججز کو بھی بتایا تھا جو مجھ پر ہونے والے قاتلانہ حملے کی تحقیقات کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ لیکن افسوس کے سات برس گزر جانے کے باوجود اس کی رپورٹ بھی سامنے نہیں آ سکی۔
