پولیس کو قتل بارے میں نے خود آگاہ کیا تھا

سینئر اینکر پرسن ایاز امیر نے اسلام آبا د پولیس کی جانب سے اپنی بہو سارہ کے قتل کے بعد اعانت جرم میں گرفتاری پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کو بیٹے کی جانب سے بہو کے قتل بارے میں نے خود آگاہ کیا تھا ، جس کے بعد ان کی اپنی گرفتاری سمجھ سے باہر ہے۔
بیٹے کی جانب سے بہوکے قتل میں کیس اعانت جرم کی دفعہ کے تحت گرفتار ہونے والے اینکر پرسن ایاز امیر کو اسلام آباد کی مقامی عدالت کے ڈیوٹی جج زاہد ترمذی کے روبرو پیش کیا گیا۔
ایاز امیر نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ میں نے خود پولیس کو اطلاع دی، ایس ایچ او کو فارم ہاؤس کا پتا تک میں نے دیا، قتل کے وقت میں اسلام آباد میں نہیں چکوال میں تھا۔ انہوں سارہ اور ن کے اہل خانہ سے ہمدردی ہے۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے ایک بار سارہ سے پوچھا تھا کہ انہیں شاہ نواز کی سابقہ شادیوں اور نشے کی عادات کا معلوم ہے یا نہیں؟ اس پر سارہ نے کہا کہ شاہ نواز دل کے بہت اچھے ہیں۔
اینکر پرسن نے کہاانہوں نے خود پولیس کو اطلاع دی اور متعلقہ ایس ایچ او کو فارم ہاؤس کا پتہ تک انہوں نے دیا۔
ایاز امیر کے وکیل زعفران اعوان ایڈوکیٹ نے آج عدالت میں بتایا کہ ایاز امیر کا نام ایف آئی آر میں نامزد نہیں، ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں، محض ہائی پروفائل کیس ہونے پر انہیں گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔
پولیس حکام نے آج عدالت کو بتایا کہ یہ ہائی پروفائل کیس ہے جس میں ملزم کے والد کو شامل تفتیش کرنا ہے۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ واقعے کی اطلاع ایاز امیر نے دی تھی اور یہ کہ مقتولہ کے ورثا نے ایاز امیر کےخلاف درخواست دائر کی ہے۔
واضح رہے کہ جمعے کو اسلام آباد کے علاقے چک شہزاد میں ملزم شاہ نواز نے اپنی اہلیہ سارہ کو قتل کر دیا تھا۔پولیس نے شاہ نواز کو ہفتے کو عدالت میں پیش کر کے دو روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا تھا۔ملزم کو اب پیر کو دوبارہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
