پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 12 روپے فی لیٹر اضافے کا خدشہ

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں واضح کمی کے باوجود کپتان حکومت کی جانب سے ایک مرتبہ پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 12 روپے فی لیٹر تک اضافہ کیے جانے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس خدشے کا اظہار سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکرٹریٹ کے اجلاس کے دوران کیا گیا۔ کمیٹی نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک ہی چھلانگ میں 12 روپے فی لیٹر تک اضافے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا فیصلہ کرنے والی اتھارٹی پر سوال اٹھا دئیے۔ کمیٹی نے اپنے اجلاس میں سفارش کی کہ پارلیمنٹ کو عوام کے وسیع تر مفاد میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمت کا فیصلہ کرنے کا اختیار دیا جائے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل ترجمان وزارت خزانہ نے نوید سنائی تھی کہ دسمبر میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ہو سکتی ہے کیونکہ عالمی تیل مارکیٹ میں پٹرولیم کی قیمتیں اب کم ہو رہی ہیں۔ ترجمان وزارت خزانہ مزمل اسلم نے بھی اپنے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت کم ہو کر 72.91 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔ انکا۔کہنا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا اثر یقینی طور پر درآمدات اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بھی پڑے گا۔ مزمل اسلم نے کہا کہ اللہ پاکستان پر مہربان ہے، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے اثرات پندرہ دسمبر کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نظر آئیں گے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں 10 فیصد سے زائد کی نمایاں کمی آئی۔ گزشتہ ہفتے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی فی بیرل قیمت میں ڈیڑھ سال کے دوران سب سے بڑی یومیہ گراوٹ دیکھنے میں آئی تھی۔ تاہم دوسری جانب حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت کم ہونے کے باوجود حکومت پاکستان عوام کو ریلیف دینے کے موڈ میں نہیں ہے اور دوبارہ سے تیل کی قیمتیں بڑھانے پر غور کیا جارہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ حکومت پاکستان کا انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے ساتھ کیا جانے والا حالیہ معاہدہ ہے۔
یاد رہے کہ حکومت پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین بالآخر قرض کی فراہمی کا معاہدہ ہو جانے کے فورا بعد مشیر خزانہ شوکت ترین نے بتایا تھا کہ پٹرول کی قیمتوں میں ہر ماہ چار روپے کا اضافہ کرتے ہوئے مجموعی طور پر 30 روپے تک کا اضافہ کیا جائے گا۔ پٹرول کی قیمت میں یہ اضافہ ایک ٹیکس کی صورت میں نافذ کیا جائے گا جسے لیوی بھی کہتے ہیں۔ اس اعلان کے بعد کپتان حکومت شدید تنقید کی زد میں ہے اور عوام کی جانب سے یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا اقتدار میں آ کر غربت ختم کرنے کے اعلان کرنے والا عمران خان کیا غریبوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کر چکا ہے۔
