پی آئی اے کا قتل کرنے کے بعد غلام سرور خان کا ایک اور فتویٰ

جعلی ڈگری کے حامل وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان اپنے بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ بیانات سے قومی ائیر لائن پی آئی اے کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے کے بعد بھی اپنی لمبی زبان کا بے دریغ استعمال کرنے سے باز نہیں آرہے۔
24 اگست کے روز وفاقی وزیر برائے ہوابازی غلام سرور خان نے بد زبانی کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے ایک جاہل اور گنوار جیسی گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی قیادت کو ہلاکو خان اور چنگیز خان سے زیادہ ظالم اور واجب القتل قرار دے دیا۔ اپنے اس نفرت انگیز بیان کے بعد سے غلام سرور خان سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی زد میں ہیں اور صارفین ان کے انتہاپسندیدہ بیانیے کی مذمت کر رہے ہیں۔
غلام سرور خان نے اپوزیشن جماعتوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ‘ان چور، کرپٹ اور بدکردار ڈکیتوں نے پچھلے 35 برسوں کے دوران پاکستان کو جمہوریت کے نام پر لوٹا ہے اور یہ سب واجب القتل ہیں۔ تاہم غلام سرور خان کے اس انتہا پسند بیان پر ردعمل دیتے ہوئے پیپلزپارٹی کے رہنما سعید غنی نے کہا ہے کہ اگر غلام سرور خان کے بیان پر عمل کیا جائے تو پھر سب سے پہلے انہی کا قتل واجب ہے کیوںکہ وہ پچھلے 35برس کے دوران سیاسی جماعتیں بدل بدل کر ہر فوجی اور جمہوری حکومت کا حصہ رہے ہیں۔
جعلی ڈگری کے حامل ہونے کے باوجود دنیا بھر میں پاکستانی پائلٹس پر جعلی ڈگریاں لینے کا الزام لگانے والے وفاقی وزیر ہوابازی اپنے نفرت انگیز بیان کی وجہ سے نہ صرف سیاسی رہنماؤں بلکہ عوامی حلقوں کی طرف سے شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ حکمران جماعت تحریک انصاف میڈیا کی جانب سے ملک کی موجودہ صورتحال پر کیے جانے والے زیادہ تر سوالات کا رخ گذشتہ 35 سالوں سے ملک میں حکومت کرنے والی اپوزیشن جماعتوں کی طرف موڑتی رہتی ہے اور پچھلے دو برسوں سے پاکستان تحریکِ انصاف کے مختلف رہنما کئی چھبتے ہوئے سوالات ماضی کی حکومتوں پر الزامات لگاتے لگاتے گول کر جاتے ہیں۔
خیال رہے کہ پاکستان میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف نفرت انگیز بیانات دینے کی روایت نئی نہیں ہے، چاہے وہ شہباز شریف کے آصف زرداری کو ‘سڑکوں پر گھسیٹنے’ کا بیان ہو یا موجودہ وزیرِ اعظم عمران خان کے سنہ 2014 کے دھرنے کے دوران کے دیے گئے بیانات۔ اسی طرح پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران خان ‘کرپٹ سیاستدانوں’ کا احتساب چین کی طرز پر کرنے کی بات بھی کر چکے ہیں۔ انھوں نے گذشتہ برس دورہ چین کے دوران اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ ‘کاش میرے پاس چینی صدر شی جنپنگ کی طرح 500 کرپٹ سیاستدانوں کو جیل بھیجنے کا اختیار ہوتا۔ اس کے علاوہ وزیرِ پانی فیصل واوڈا نے گذشتہ برس ایک ٹاک شو پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ہمارے بس میں ہو تو پانچ ہزار کرپٹ افراد کو لٹکا دیا جائے تو ملک کے 22 کروڑ لوگوں کی قسمت بدل جائے گی۔ تاہم جب میڈیا پر ان کے اس بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا تو انھوں نے قومی اسمبلی میں اس کی وضاحت دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان پانچ ہزار لوگوں کو لٹکانے سے پہلے کاش گاڑی کے پیچھے باندھ کر چلایا جائے اور پھر گھاٹ پر چڑھایا جائے۔ حکومتی ذمہ داران کی طرف سے متنازع بیانات آنے پر شدید عوامی رد عمل سامنے آتا رہتا ہے۔
تاہم اب ایک بار پھر اپوزیشن جماعتوں کو واجب القتل قرار دینے کے وزیر ہوابازی کے انتشار انگیز بیان پر سوشل میڈیا صارفین انھیں شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور باہمی رابطے کی سوشل میڈیا سائٹس پر پاکستانی سیاست میں بڑھتی انتہاپسندی اور اس سے جڑے بیانیے پر بحث جاری ہے.
وفاقی وزیرِ ہوابازی کے اس بیان کے بعد جہاں سوشل میڈیا پر سخت ردِ عمل سامنے آیا وہیں وفاقی وزرا کی جانب سے بھی انھیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی امین الحق کا کہنا ہے کہ قتل کرنا یا کسی کو مار دینا سیاسی شیوہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہمارے پاس عدالتیں موجود ہیں اگر کسی کو کسی کے خلاف کوئی شکایت ہے تو اسے عدالت جانا چاہیے۔سیاست میں انتہا پسندی، خواہ وہ کسی بھی سیاسی جماعت کی اس کی سخت مذمت کرنی چاہیے۔’
اس کے علاوہ وزیرِ سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کی جانب سے بھی اس حوالے سے مذمتی ٹویٹ سامنے آئی۔ انھوں نے کہا کہ:غلام سرور خان کا بیان بہت ہی نامناسب ہے، وزیر صورتحال کی سنگینی کا اندازہ لگانے میں ناکام رہے ہیں۔۔۔ سیاست نظریات کی جنگ ہے اور اب مخالفین کو مارنے کا دور نہیں رہا۔۔۔ آپ کو شدید اختلافات ہو سکتے ہیں لیکن ایسے بیان انتہائی نامناسب ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی نہیں کرنی چاہیے۔‘
سینئیر صحافی حامد میر کہتے ہیں کہ وفاقی وزیر غلام سرور خان نے دو مخالف سیاسی جماعتوں کی قیادت کو واجب القتل قرار دے دیا ہے کیا ایک وزیر کی طرف سے ایسا بیان جاری کرنا تشدد پر اکسانے کی کوشش نہیں؟ کیا وزیر صاحب کو اپنے بیان پر معافی نہیں مانگنی چاہیے؟ گمن نامی صارف کا کہنا تھا کہ ’کیا یہ کسی حکومتی نمائندے کی زبان ہو سکتی ہے؟ کیا یہ ہمارے نمائندے ہیں؟ جب تک کسی پر جرم ثابت نہ ہو وہ مجرم نہیں ہوتا لیکن ان لوگوں نے اپنی عدالتیں لگائی ہوئی ہیں۔‘
ماہرِ قانون ریما عمر کہتی ہیں کہ آج غلام سرور نے ملک لوٹنے والوں کو واجب القتل قرار دیا۔ اور پچھلے سال فیصل وواڈا نے بھی ایسی ہی خواہش کا اظہار یہ کہتے ہوئے کیا تھا کہ کرپٹ لوگوں کو پھانسی دینے سے پہلے انھیں گاڑیوں سے باندھ کر گھسیٹا جانا چاہیے۔ اس طرح کے پرتشدد خیالات کو تحریک انصاف کے احتسابی نظریات کا حصہ بنتے دیکھنا پریشان کن ہے۔
غلام سرور کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے مسلم لیگ نون کی رکنِ پارلیمنٹ حنا پرویز بٹ کہتی ہیں کہ ’پاکستانی پائلٹس کو پوری دنیا میں بدنام اور متنازع بنانے والے شخص غلام سرور خان خود استعفی دینے کی بجائے اپوزیشن رہنماؤں کو ’واجب القتل‘ قرار دے رہے ہیں۔ یہ بیانات دہشت گردوں کے بیانات سے کم نہیں۔‘
صحافی امداد علی سومرو نے لکھا کہ وفاقی وزیر نے پی آئی کو قتل کرنے کے بعد ایک اور فتویٰ جاری کر دیا ہے۔ دانش زیدی نامی صارف نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ قتل کا سلسلہ غلام سرور صاحب سے شروع کریں کیونکہ وہ خود 35 سال سے اقتدار میں ہیں۔‘
کئی صارفین یہ دعویٰ کرتے نظر آئے کہ وہ غلام سرور کے اس بیان کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ وہ اپنے بیان میں کرپٹ جماعتوں کی بات کر رہے ہیں، حزبِ مخالف کی جماعتیں اگر کرپٹ نہیں ہیں تو انھیں ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
