نیب نیازی گٹھ جوڑ مشرف کو کرپشن کیس میں کیسے بچا رہا ہے؟

معلوم ہوا ہے کہ نیب نیازی گٹھ جوڑ کے تحت غداری کے الزام میں سزائے موت سنائے جانے والے بھگوڑے پرویز مشرف کو تحفظ فراہم کیے جانے کا عمل ہر سطح پر جاری ہے خواہ وہ نیب کا ادارہ ہی کیوں نہ ہو۔
انڈونیشیا میں پاکستان کے سابق سفیر اورمسز صہبا مشرف کے قریبی رشتہ دار میجر جنرل (ر) سید مصطفیٰ انور کی جانب سے 2001-02 میں جکارتہ میں سفارت خانے کی عمارت کک بیک کی خاطر نہایت سستے داموں فروخت کرنے کے الزام پر نیب نے حال ہی میں ان کیخلاف ریفرنس دائر کیا ہے لیکن اس معاملے میں جنرل (ر) پرویز مشرف کو صاف بچا لیا گیا ہے جس کی حتمی منظوری سے یہ سودا طے پایا اور جس نے بعد میں سفارتخانہ سستے داموں بیچنے والے سفیر کو تحفظ بھی فراہم کیا۔ نیب نے اس بات کو بھی نظر انداز کیا ہے کہ دفتر خارجہ کے جس سینئر افسر ڈاکٹر رضوی نے عمارت اونے پونے داموں بیچے جانے کے فراڈ کی تحریری نشاندہی کی تھی، مشرف کے احکامات پر اسی افسر کو نشان عبرت بنا دیا گیا اور سابق سفیر کیخلاف کارروائی کی بجائے مشرف نے دفتر خارجہ کے شکایت کنندہ افسر کو نہ صرف جکارتہ سے پاکستان واپس ٹرانسفر کر دیا بلکہ اسے معطل بھی کر دیا۔
بعد ازاں مشرف نے نہ صرف اس افسر کو 2007 میں اس کی فارن سروس سے ریٹائرمنٹ تک او ایس ڈی بنائے رکھا بلکہ میجر جنرل (ر) سید مصطفیٰ انور کو بطور سفیر مدت ملازمت میں توسیع بھی دی۔ یہ ریٹائرڈ میجر جنرل مشرف کی اہلیہ صہبا کا قریبی رشتہ دار ہے اور سفارت خانہ کی جو عمارت محض 30؍ لاکھ ڈالرز میں فروخت کی گئی وہ جکارتہ کے مہنگے ترین علاقے میں واقع تھی اور کم از کم بھی 50 ہزار ڈالرز پر فروخت ہو سکتی تھی۔ اس عمارت میں سفارت خانہ بھی تھا اور سفیر کی رہائش گاہ بھی تھی، جسے جکارتہ کے ایک سستے علاقے میں زیادہ بڑی عمارت کی خرید کیلئے فروخت کر دیا گیا۔ مقصد دیہاڑی لگانے اور مال بنانے کے علاوہ اور کچھ نہ تھا۔
نیب کی جانب سے دائر کردہ ریفرنس کے مطابق جکارتہ سفارتخانہ کی عمارت فروخت کرتے وقت حکومت کے غیر ملکی اثاثہ جات کی فروخت کیلئے طے شدہ قواعد و ضوابط کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا۔ عمارت جکارتہ میں ایک مقامی فریق کو فروخت کی گئی۔ طے شدہ ضابطوں کے مطابق ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دی جانا تھی، مقامی میڈیا میں اشتہار شائع کرانا تھا تاکہ نیلامی کی صورت میں زیادہ سے رقم حاصل کی جا سکے لیکن نہ تو کوئی کمیٹی تشکیل دی گئی اور نہ ہی انڈونیشیائی اخبارات میں اشتہار شائع کیا گیا۔
مشرف کے رشتہ دار سابق فوجی سفیر کے پاس دفتر خارجہ کی طرف سے عمارت فروخت کرنے کی منظوری بھی نہیں تھی۔ اس کی بجائے، سفیر نے اپنے ماتحت سفارت خانے کی ایک کمیٹی تشکیل دی جس میں دو افسر شامل تھے اور ایک نجی فریق سے فروخت کا معاہدہ کیا۔ جیسے ہی معاہدے پر دستخط ہوئے، سفارت خانے کی کمیٹی کے دو افسروں میں سے ایک افسر ڈاکٹر رضوی نے اس معاملے میں دفتر خارجہ کو شکایت کی کہ متنازع معاہدے میں کک بیکس شامل ہیں۔ افسر سے کہا گیا کہ وہ تحریری طور پر شکایت درج کرائیں تاکہ معاہدے کو منسوخ کر ایا جا سکے۔ ڈاکٹر رضوی نے ایسا ہی کیا لیکن ڈیل کینسل نہیں ہوئی۔ اس کی بجائے مشرف کے احکامات پر ڈاکٹر ایس ایم ایچ رضوی کو واپس بلا لیا گیا اور او ایس ڈی بنا دیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈاکٹر رضوی کو اپنے اصل محکمے میں رکھنے کی بجائے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں او ایس ڈی لگایا گیا۔ وہ اپنی ریٹائرمنٹ تک او ایس ڈی رہے۔ بعد ازاں چند برس پہلے ان کا انتقال ہوگیا۔
جکارتہ سفارتخانہ کک بیک کی خاطر اونے پونے داموں بیچے جانے کے سکینڈل کی تحقیقات کیلئے ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے تصدیق کی کہ جکارتہ میں سرکاری اثاثہ جات کی فروخت کے معاملے میں طے شدہ ضابطوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود سفیر کو چھوڑ دیا گیا۔ تاہم، کک بیکس کے الزامات پر بھی کوئی باضابطہ انکوائری شروع نہیں ہوئی۔ اس کی بجائے دفتر خارجہ کے افسر، جس نے اس مشکوک ڈیل کے متعلق سرکار کو آگاہ کیا تھا، کو ’’مثال‘‘ بنا کر رکھ دیا گیا۔ 2004ء میں پرویز مشرف نے میجر جنرل (ر) مصطفیٰ انور کے کنٹریکٹ میں چوتھے سال بھی توسیع کی اور انہیں انڈونیشیا میں سفیر بنائے رکھا جبکہ اس عہدے کیلئے نامزد بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ جو اس وقت ملک کے وزیر داخلہ ہیں اور پنجاب کے اُس وقت کے سیکرٹری داخلہ تھے کو عہدہ نہیں دیا گیا۔
اعجاز شاہ کو جکارتہ کیلئے نامزد کیا گیا تھا لیکن بعد میں ان سے کہا گیا کہ وہ انتظار کریں جبکہ مصطفیٰ انور کو ایک سال کی مزید توسیع دی گئی۔ دفتر خارجہ اس وقت اعجاز شاہ کی تقرری کی انڈونیشیائی حکومت کی منظوری کا انتظار کر رہا تھا لیکن انڈونیشیا کی حکومت کو موجودہ سفیر کی توسیع کا پروانہ بھیج دیا گیا۔ بعد میں 2015ء میں مسلم لیگ نون کی حکومت کے دوران اس معاملے کی تحقیقات کرنے والی پارلیمانی کمیٹی نے بتایا کہ ڈاکٹر ایس ایم ایچ رضوی کے ساتھ تعصب اور غیر منصفانہ رویہ برتا گیا۔ یہ بات بھی سامنے آئی کہ درخواست دینے کے باوجود دفتر خارجہ کو تحقیقات کرنے کی اجازت نہیں ملی۔ حال ہی میں نیب کے دائر کردہ ریفرنس میں بتایا گیا ہے کہ مصطفیٰ انور نے غیر قانونی طور پر سرکاری عمارت فروخت کی اور قومی خزانے کو 13؍ لاکھ 20؍ ہزار (1.32؍ ملین) ڈالرز کا نقصان پہنچایا۔ ریفرنس میں لکھا ہے کہ سفیر نے وزارت خارجہ کی منظوری کے بغیر ہی اخبار میں اشتہار شائع کرایا، انہوں نے یہ اقدام کرکے نیب آرڈیننس کی شق نمبر 9؍ اے 6؍ کے تحت اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ جنرل مشرف کو نیب کے ضمنی ریفرنس میں نامزد کیا جاتا ہے یا نہیں؟
