پاکستان میں روزانہ 9 بچوں سے جنسی زیادتی کا انکشاف

پاکستان میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے۔رواں برس کے پہلے 6 ماہ کے دوران 1489بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنا دیا گیا۔بچوں پر جنسی تشدد کے خلاف کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ساحل نے رپورٹ جاری کردی۔
بچوں پر جنسی تشدد پر کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم "ساحل” کے صوبائی کوآرڈنیٹر عنصر سجاد بھٹی اور لیگل کوآرڈینیٹر عاطف خان نے لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران تہلکہ خیز انکشافات کیے۔ رپورٹ کے مطابق رواں برس پاکستان میں روزانہ 9 بچوں سے زیادتی کی گئی ،جنوری سے جون تک ملک بھر میں 785 لڑکیاں اور 704 لڑکے جنسی تشدد کا نشانہ بنے جبکہ 18بچے اور بچیاں مدرسوں میں جنسی ہوس کا شکار ہوئے۔
اس ہوشربا رپورٹ کے مطابق زیادتی کے سب سے زیادہ 853 واقعات پنجاب میں ہوئے ،سندھ میں477بچے، بلوچستان میں 22 جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 35، خیبر پختون خواہ میں91بچے،آزاد کشمیر میں 10 اور گلگت بلستان کا 1بچہ جنسی تشدد کا نشانہ بنے۔رپورٹ کے مطابق جنسی زیادتی کے 1340واقعات پولیس سٹیشن میں رپورٹ ہوئے۔
یہ واقعات زیادہ ہسپتال ،ہوٹل، کار، کلینک، کالج، فیکٹری، جیل، پولیس سٹیشن، شادی ہال، قبرستان میں یہ واقعات رونما ہوئے۔ملک بھر میں کم عمری کی شادی کے 51واقعات ہوئے جبکہ 4 بچیوں کو ونی کر دیا گیا۔زینب زیادتی کیس کے قاتل کی پھانسی کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ اب ایسے واقعات کی روک تھام میں مدد ملے گی لیکن یہ سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔
تنظیم نے بچوں پر ہونے والے تشدد کی روک تھام اور مفت قانونی معاونت کیلئے پنجاب کے ہر ضلع میں چائلڈ سیفٹی سیل بنانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ حکومت تشدد سے بچاﺅ کیلئے آگاہی مہم موثر انداز سے چلائے۔
