پی ٹی آئی نے فارن فنڈنگ لینے کا الزام بالواسطہ تسلیم کر لیا

ماضی میں غیر قانونی طریقے سے غیر ملکی فنڈنگ لینے کے الزامات کو سختی سے رد کرنے والی تحریک انصاف نے اب ایک بڑا یوٹرن لیتے ہوئے یہ بھونڈ اموقف اپنایا ہے کہ اگر اس کے اکاونٹ میں دو امریکی کمپنیوں کی جانب سے کوئی فنڈز غیر قانونی طور پر آئے ہیں تو اس کی ذمہ داری فنڈز لانے والے ایجنٹوں پر عائد ہوتی ہے نہ کہ تحریک انصاف کی قیادت پر۔ اس موقف کا اظہار تحریک انصاف کے وکیل نے 13 جنوری کو الیکشن کمیشن کے روبرو فارن فنڈنگ کیس کی سماعت کے دوران کیا.
یاد ریے کہ گذشتہ سات برس سے فارن فنڈنگ کیس کی سماعتوں کے دوران تحریک انصاف کسی بھی ممنوعہ ذریعے سے بیرون ملک سے فنڈنگ لینے کے الزام کو رد کرتی آئی ہے تاہم اب امریکہ سے ممنوعہ فنڈنگ لینے کا اقرار کرتے ہوئے اس کے وکیل نے سارا مدعا اپنے ایجنٹس پر ڈال کر گلو خلاصی کروانے کی ناکام کوشش کی ہے۔ پی ٹی آئی کے وکیل نے 13 جنوری کو الیکشن کمیشن کو جمع کروائے گئے تحریری جواب میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ ایجنٹ کی اکٹھی کی گئی کوئی بھی کنٹری بیوشن جو قابل پوچھ گچھ ہوسکتی ہے وہ بنیادی فریق یعنی تحریک انصاف کی دی گئی ہدایات یا ذمہ داری کے دائرہ کار سے ماورا ہے۔ پارٹی نے یہ تازہ مؤقف الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی کی جانب سے دیے گئے سوال نامے کے تحریری جواب میں اپنایا۔
یاد رہے کہ تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس اس جماعت کے ایک بانی رکن اکبر ایس بابر نے نومبر 2014 میں دائر کیا تھا۔ اس کیس میں دعویٰ کیا گیا کہ تحریک انصاف نے سیاسی جماعتوں کے لیے موجود قانون پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 کی خلاف ورزی کی ہے اور اس لیے پارٹی چیئرمین عمران خان اور خلاف ورزیوں کے مرتکب دیگر قائدین کے خلاف کارروائی کی جائے۔ درخواست میں کہا گیا کہ تحریک انصاف سال نے2007 سے 2012 تک جو فنڈ غیر ممالک سے اکھٹا کیا ہے اس کی تفصیلات الیکشن کمیشن سے چھپائی گئی ہیں۔ درخواست کے مطابق قانون کے تحت ہر سیاسی پارٹی کے لیے ہر سال حاصل کردہ فنڈ، اثاتے اور ان کی آڈٹ رپورٹ پیش کرنا لازمی ہوتا ہے۔ قانون کے مطابق کوئی بھی سیاسی پارٹی کسی بھی غیر ملکی سے کوئی بھی فنڈنگ حاصل نہیں کرسکتی۔ اسی طرح پاکستانی کمپنیوں، این جی او وغیرہ سے بھی فنڈنگ حاصل نہیں کی جاسکتی ہے۔
13 جنوری کو پی ٹی آئی غیر ملکی فنڈنگ کیس سے متعلق الیکشن کمیشن آف پاکستان کی سکروٹنی کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ درخواست گزار اکبر ایس بابر اور پی ٹی آئی کے وکیل شاہ خاور پیش ہوئے۔اکبر ایس بابر کی جانب سے دیے گئے دستاویزات اور شواہد پر پی ٹی آئی کے وکیل سے سوالات کا آغاز ہوا۔ پی ٹی آئی سے سکروٹنی کمیٹی نے سوال کیا کہ امریکہ کی دو کمپنیوں سے فنڈنگ کو تسلیم کرتے ہیں یا انکار ؟اس پر پی ٹی آئی وکیل نے پارٹی سربراہ عمران خان کی طرح بڑا یوٹرن لیتے ہوئے حیران کن موقف اختیار کیا کہ امریکہ میں ہمارا ایجنٹ تھا، اگر اس نے غیر قانونی فنڈنگ کی تو اس کے ہم ذمہ دار نہیں۔ اس بھونڈے جواب پر اکبر ایس بابر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے بلواسطہ تسلیم کیا کہ غیر قانونی فنڈنگ ہوئی ہے؟ ابھی تو سعودی عرب ، آسٹریلیا کی فنڈنگ کے سوالات پر بات نہیں ہوئی جس کے ویڈیو ثبوت بھی موجود ہیں۔ اکبر ایس بابر نے احتجاج کیا کہ پی ٹی آئی کی فراہم کردہ دستاویزات ہمیں کیوں نہیں دی جا رہیں. اس پر سکروٹنی کمیٹی نے کہا کہ ہم یہ ریکارڈ اس لیے نہیں دے رہے کہ پھر پی ٹی آئی اعتراض کرتی ہے۔ اکبر ایس بابر نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ تحقیقات پی ٹی آئی کے دباو میں ہو رہی ہیں جس پر کہ الزام ہے کہ وہ تحقیقات کے عمل پر اثر انداز ہو رہی ہے. اکبر ایس بابر نے کہا کہ ان حالات میں اس کیس میں شفاف تحقیقات کیسے ہوں گی؟ بحث کے باوجود سکروٹنی کمیٹی نے پی ٹی آئی کی دستاویزات ، اور بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات اکبر ایس بابر کو فراہم کرنے سے معزرت کر لی۔
واضح رہے کہ ان دستاویز میں پی ٹی آئی کی 23 بینک اسٹیٹمنٹس بھی شامل ہیں جو اسٹیٹ بینک کی ہدایات پر موصول ہوئی تھیں اور الیکشن کمیشن کے پاس پوشیدہ ہیں۔ اکبر ایس بابر کے وکیل احمد حسین شاہ کا کہنا تھا کہ دستاویز دینے سے انکار کر کے کمیٹی نے الیکشن کمیشن کے 30 مئی 2018 کے حکم کی خلاف ورزی ہے جس میں پی ٹی آئی کی جانب سے دستاویزات اور سکروٹنی کے عمل کو خفیہ رکھنے کی درخواست کو مسترد کردیا گیا تھا۔کمیٹی کے چیئرمین نے آگاہ کیا کہ پی ٹی آئی کے بینک سٹیٹمنٹس اور دیگر دستاویزات پی ٹی آئی کے تحفظات پر درخواست گزار کو نہیں فراہم کیے جارہے۔ جس پر درخواست گزار اکبر ایس بابر نے شکایت کی کہ اگر جن کے خلاف تفتیش کی جارہی ہو وہ ہی اس سارے عمل کا انتظام سنبھالیں تو سکروٹنی اور تحقیقات کس طرح شفاف اور آزادانہ ہوسکتی ہے۔ اجلاس کے بعد میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے درخواست گزار نے 80 اجلاسوں کے باوجود اس عمل میں تاخیر کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ جب زیر تفتیش لوگ تفتیشی عمل پر اثر انداز ہونے لگیں تو پیش رفت کس طرح ہوسکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ‘کمیٹی نے انہیں پی ٹی آئی کی بینک دستاویز فراہم کرنے سے اس لیے انکار کیا کہ کہ دوسرے فریق یعنی پی ٹی آئی نے اس کی مخالفت کی تھی اور حتیٰ کہ آڈیٹر کو بھی پی ٹی آئی کے دباؤ پر تبدیل کردیا گیا۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے وکیل شاہ خاور نے کہا کہ تحریک انصاف نے پارٹی فنڈز کی مکمل تفصیلات سکروٹنی کمیٹی کو جمع کرادی ہیں.اور تحریک انصاف جلد ممنوعہ فنڈنگ کے کیس میں باعزت سرخرو ہوگی. دوسری طرف اکبر ایس بابر کا کہنا ہے کہ اگر اس کیس کی تحقیقات شفاف انداز میں ہو جائیں اور میرٹ پر مبنی فیصلہ آئے تو نہ صرف عمران خان وزیراعظم کے عہدے سے نا اہل ہوجائیں گے بلکہ ان کی حکومت کا بھی خاتمہ ہوجائے گا.
