کیا ٹرمپ مواخذے کا شکار ہونے والے پہلے امریکی صدر بنیں گے؟

امریکی ایوان نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کانگریس کی عمارت کیپٹل ہل پر 6 جنوری 2021 کے حملے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ان کے مواخذے کی راہ ہموار کر دی ہے جس کے بعد یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا ٹرمپ وہ پہلے امریکی صدر ہوں گے جن کا کامیابی سے مواخذہ ہوجائے گا. یہ صدر ٹرمپ کے دور صدارت میں دوسری مرتبہ ہے کہ ان کے خلاف مواخذے کی تحریک منظور کی گئی ہے. پہلی مرتبہ وہ اپنی صدارت بچانے میں کامیاب رہے تھے.
امریکی ایوان نمائندگان کی جانب سے ٹرمپ کے خلاف مواخدے کی منظوری کے بعد ایوان بالا سینیٹ میں ان کا ٹرائل کیا جائے گا۔ صدر ٹرمپ پر 6 جنوری کو کیپیٹل ہل پر مظاہرے کے دوران مظاہرین کو ‘بغاوت پر اکسانے’ کا الزام لگایا گیا تھا۔ اس طرح امریکی صدر تاریخ میں وہ پہلے صدر بن گئے ہیں جنھیں دو مربتہ مواخذے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ڈیموکرٹیک پارٹی کی حامل ایوان نمائندگان نے امریکی ریپبلکن صدر ٹرمپ کیخلاف 232 حمایت کے اور 197 مخالفت کے ووٹوں سے تحریک مواخذہ منظور کی. اس موقع پر 4 ری پبلکن اراکین اور ایک ڈیمو کریٹ نے ووٹ نہیں ڈالا۔ ایوان میں 205 کے مقابلے میں 223 ووٹوں سے نائب صدر مائیک پنس سے مطالبے کی قرار داد بھی منظور کی گئی کہ وہ 25ویں ترمیم استعمال کرکے اپنے باس کو ہٹادیں. تاہم 25ویں ترمیم استعمال نہ کرنے کا فیصلہ ک کے مائیک پنس نے ٹرمپ کو نئی زندگی دی اور ایوان نمائندگان کی قرارداد پر عمل کرنے سے انکار کردیا۔
یاد رہے کہ کئی ری پبلکن ارکان نے بھی ایوان نمائندگان کی قرارداد کی حمایت کی اور 10؍ ری پبلیکن اراکین نے ایوان نمائندگان میںصدر ٹرمپ کے مواخذے کے حق میں ووٹ دیا۔ ان ری پبلکن ارکان میں واشنگٹن سے ڈین نیو ہاؤس ، نیویارک سے جان کیٹکو ، واشنگٹن سے جیمی ہریرا بٹلر ، مشی گن سے فریڈ اپٹن اور یومنگ سے لز چینی اور دیگرشامل ہیں. ایوان نمائندگان میں رپبلکن پارٹی کی تیسری سب سے سینیئر رہنما لز چینی نے کہا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کا مواخذہ کرنے کے حق میں اپنا ووٹ ڈالیں گی۔ دوسری طرف صدر ٹرمپ نے اپنے خلاف ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک ارکان کی مواخذے کی کارروائی کو مضحکہ خیز قرار دیدیا۔ اس دوران ہیومن رائٹس واچ نے نئے منتخب صدر جو بائیڈن پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے پیشرو ڈونلڈ ٹرمپ کے مبینہ جرائم پر ان کی پراسیکیوشن ہونے دیں کیونکہ ایسے ہی آگے بڑھ جانا ایک بہت ہی خطرناک غلطی ہوگی۔
ادھر مواخذے کے موقع پر دارالحکومت واشنگٹن چھاؤنی کا منظر پیش کرنے لگا ہے اور کیپٹل ہل سمیت اہم مقامات اور شاہراہوں پر فوجی تعینات ہیں اور سڑکیں بند کردی گئی ہیں۔ لیکن ابھی مواخذے کی تحریک کے اگلے آئینی مرحلہ کے بارے میں واضح نہیں ہوسکا کہ ایوان نمائندگان کی منظور کردہ تحریک اور صدرٹرمپ کے خلاف الزامات کی سماعت کا امریکی سینیٹ میں آغاز کب ہوگا۔ ابھی ایوان کی اسپیکر نینسی پلوسی نے بھی واضح نہیں کیا کہ وہ منظور شدہ تحریک مواخذہ بقیہ آئینی کارروائی کیلئے یہ تحریک کپ سینیٹ کو بھیجیں گی۔ سینیٹ میں ٹرمپ کے خلاف جرم ثابت ہونے کی صورت میں انھیں آئندہ کبھی بھی صدر کے عہدے فائز ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔ خیال رہے کہ مواخذے کی صورت میں لگائے گئے الزامات سیاسی ہوتے ہیں مجرمانہ نہیں۔
صدر.ٹرمپ کے خلاف مواخذہ کی منظوری اس الزام پر دی گئی ہے کہ انہوں نے مظاہرین کو کانگریس کی عمارت پر حملے کے لیے اکسایا.
انھوں نے اپنی تقریر کے دوران اپنے حامیوں سے مخاطب ہو کر کہاں کہ وہ ‘پرامن انداز میں حب الوطنی کا جذبہ لیے’ آواز بلند کریں۔ پھر انھوں نے اپنے حامیوں سے جھوٹ بولا کہ فراڈ زدہ الیکشن کے خلاف ‘شدید مذاہمت’ کریں۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے استعمال کیے گئے ان الفاظ کے بعد ان کے حامیوں نے کیپیٹل ہل پر ہنگامہ آرائی کی جس سے اراکین پارلیمان کو جو بائیڈن کی کامیابی کی توثیق کرنے کے لیے کی جانے والے ووٹ کو منسوخ کرنا پڑا۔ اس وقت اس عمارت کو لاک ڈاؤن کر دیا گیا اور اس سب کے دوران پانچ افراد ہلاک بھی ہوئے۔
مواخذے کے آرٹیکل میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ صدر ٹرمپ نے ‘متعدد مرتبہ جھوٹے بیانات کا سہارا لیا اور کہا کہ صدارتی انتخاب کے نتائج فراڈ زدہ ہیں اور انھیں نہیں ماننا چاہیے۔’ اس مزید کہا گیا ہے کہ انھوں نے پھر ان دعوؤں کو دہرایا اور ‘جان بوجھ کر ایسے بیانات دیے جن سے مجمعے کی حوصلہ افزائی ہوئی اور اس کے نتیجے میں ایک کیپٹل پر ایک غیرقانونی کارروائی عملی میں آئی’۔ یہ بھی کہ گیا ہے کہ ‘صدر ٹرمپ نے امریکہ اور حکومت کے مرکزی ادارے کی سکیورٹی کو خطرے میں ڈالا، جمہوری نظام کی ساکھ کو نقصان پہنچایا اور اقتدار کی پرامن منتقلی میں مداخلت کی۔’
یاد رہے کہ سینیٹ میں صدر ٹرمپ کے خلاف جرم ثابت کرنے کے لیے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ 18 رپبلکنز کو ڈیموکریٹس کے حق میں ووٹ کرنا ہو گا۔ امریکہ کے ایوانِ بالا میں 100 اراکین موجود ہیں جبکہ دس ریپبلکن پہلے ہی یہ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ مواخذے کے حق میں صدر ٹرمپ کے خلاف ووٹ دیں گے. اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا صدر ٹرمپ وہ پہلے امریکی صدر بن جائیں گے جن کا کامیابی سے مواخذہ ہو گیا.
منگل کے روز نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ کم از کم 20 رپبلکن سینیٹرز صدر ٹرمپ کو قصوروار ٹھہرانے کے حق میں ہیں۔
اگر صدر ٹرمپ کو سینیٹ قصور وار ٹھہرا دیتی ہے تو اراکینِ پارلیمان ایک اور ووٹ منعقد کر سکتے ہیں جس کے ذریعے صدر ٹرمپ کو آئندہ صدر منتخب ہونے سے روکا جا سکے گا۔ خیال رہے کہ صدر ٹرمپ یہ اشارہ دے چکے ہیں کہ وہ 2024 میں دوبارہ صدارتی دوڑ میں شریک ہو سکتے ہیں۔
تاہم یہ ٹرائل صدر ٹرمپ کی بقیہ دور کے دوران نہیں ہو گا۔
رپبلکنز کے سینیٹ لیڈر مچ میکونیل نے ایک بیان میں کہا کہ ‘قواعد وضوابط اور سینیٹ میں اس سے قبل ہونے والی مواخذے کے ٹرائلز سے یہ پتا چلتا ہے کہ ایک منصفانہ ٹرائل کو ٹرمپ کے دورِ اقتدار کے خاتمے سے پہلے مکمل کیا جا سکے۔
خیال رہے کہ صدر ٹرمپ کو سنہ 2019 میں بھی مواخذے کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم سینیٹ نے انھیں بری الذمہ قرار دیا تھا۔ اب تک کسی بھی امریکی صدر کو مواخذے کے ذریعے صدارت سے دستبردار نہیں کیا گیا۔
