پی ٹی آئی کو چار سیٹوں پر اوپر تلے شکست کی وجہ کیا؟

حالیہ مہینوں میں حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف کو تقریبا ہر صوبے کے ضمنی الیکشنز میں پے در ہے شکستوں کے بعد یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا عوام نے کپتان کی جماعت کو فارغ کر دیا ہے؟
کراچی کے حلقہ NA-249 میں پیپلز پارٹی نے بڑا اپ سیٹ کرتے ہوئے تحریک انصاف کی خالی کی ہوئی سیٹ بھی جیت لی۔ پی ٹی آئی اپنی چھوڑی ہوئی نشست پر ضمنی انتخاب میں ایسے چِت ہوئی کہ وکٹری اسٹینڈ پر بھی جگہ نہ ملی اور پانچویں نمبر پر آئی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان حکومت کی ناقص کارکردگی، مہنگائی اور پارٹی عہدیداروں کو عوام سے رابطہ نہ رکھنا اس کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان کی سیاست میں ہمیشہ سے یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ضمنی انتخاب میں حکمران جماعت ہی کامیاب ہوتی ہے لیکن تحریک انصاف عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی جیتی ہوئی چار نشستیں ہار چکی ہے۔
ان حلقوں میں دو حلقے این اے 35 بنوں اور 131 لاہور بھی شامل ہیں جہاں وزیر اعظم عمران خان خود الیکشن لڑ کر کامیاب ہوئے تھے۔ اس کی وجوہات جو بھی ہوں لیکن حکومتی جماعت کےلیے ضمنی انتخاب میں ناکامی منفی رجحان اور شہرت میں کمی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق عام طور پر تاثر یہی ہوتا ہے کہ ضمنی الیکشن حکومتی جماعت ہی جیتتی ہے کیوں کہ حکومت عوامی مسائل حل کرنے اور ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے اپنے ووٹرز، سپورٹرز کو مطمئن کرنے کا زیادہ چانس رکھتی ہے۔ ان کے خیال میں قومی سمبلی کے جیتے گئے چار حلقوں میں ناکامی حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان اور عوام میں اس کی مقبولیت میں کمی کا سبب بن رہی ہے۔ ان حالات میں عام انتخابات کی شفافیت سے متعلق اپوزیشن کے بیانیے کو بھی تقویت مل رہی ہے۔
کراچی کے این اے 249 میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں غیر سرکاری نتائج کے مطابق حکمران جماعت کے امیدوار امجد آفریدی پانچویں نمبر پر رہے جب کہ یہاں پیپلز پارٹی کے امیدوار قادر خان مندوخیل کامیاب قرار پائے ہیں۔ مسلم لیگ ن دوسرے، کالعدم تحریک لبیک پاکستان تیسرے، پی ایس پی چوتھے نمبر رہیں۔
یہ نشست 2018 کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کے امیدوار فیصل واؤڈا نے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کو شکست دے کر جیتی تھی۔
این اے 35 بنوں کےعام انتخابات میں وزیر اعظم عمران خان نے اکرم درانی کو شکست دی تھی۔ ان کے چھوڑنے پر یہ سیٹ خالی ہوئی تو اکرم درانی کے بیٹے جے یو آئی ف کے امیدوار زاہد اکرم درانی نے ضمنی الیکشن میں اس نشست پر پی ٹی آئی امیدوار نسیم علی شاہ کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی۔ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 56 اٹک سے پی ٹی آئی امیدوار طاہر صادق نے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ ان کی دو نشستوں پر کامیابی کے بعد دوسری نشست کا حلف اٹھانے پر یہ نشست خالی ہوئی تو ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ ن کے ملک سہیل خان نے پی ٹی آئی کے ملک خرم علی خان کو شکست دے کر یہ نشست جیتی۔ اسی طرح قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 131 لاہور سے عام انتخابات کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے مسلم لیگ ن کے خواجہ سعد رفیق کو معمولی فرق سے شکست دی تھی لیکن انہوں نے جب یہ نشست خالی کی تو ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ ن کے امیدوار خواجہ سعد رفیق نے پی ٹی آئی کے امیدوار ہمایوں اختر پر واضح برتری سے نشست جیت لی تھی۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس کا کہنا ہے کہ این اے 249 میں تحریک انصاف کی شکست غیر متوقع نہیں ہے، پی ٹی آئی کے امیدوار کو پارٹی کی سپورٹ حاصل نہیں ہوسکی، این اے 249 کے پی ٹی آئی کے ایم پی ایز نے امیدوار کے خلاف بغاوت کردی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کے مرکزی عہدیداروں نے انتخابی حلقہ کا دورہ نہیں کیا نہ ہی انہیں وسائل دیئے گئے، امجد اقبال آفریدی پی ٹی آئی کے پرانے کارکن ہیں، کارکن انتخاب لڑے تو اس کے پاس وسائل نہیں ہوتے۔
ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کی اپنی نشستیں ہارنے کی روایت پر تبصرہ کرتے ہوئے مظہر عباس نے کہا کہ 2018 میں تحریک انصاف نئی تھی، انہیں آزمایا نہیں گیا تھا اور لوگوں کو تبدیلی کی امید تھی یہی وجہ ہے کہ خاصی تعداد میں نیا ووٹر پولنگ کےلیے نکلا تھا۔ تاہم ڈھائی سال بعد اب صورت حال خاصی مختلف ہے، پی ٹی آئی کی کارکردگی بھی کھل کر سامنے آ گئی ہے، یہی وجہ ہے کہ جو نیا ووٹر تھا وہ تو گھر بیٹھا رہا اور ووٹ ڈالنے آیا ہی نہیں۔ جو دوسری پارٹیوں کے ووٹرز نے پی ٹی آئی کو ووٹ ڈالا تھا، وہ اب اپنی اپنی پارٹیوں کو واپس لوٹ چکے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کے اس فیصلے پر بھی حیرانی کا اظہار کیا کہ اگر رمضان اور ورکنگ ڈے کے بجائے عید کی بعد کسی چھٹی والے دن الیکشن رکھا جاتا تو یقیناً ٹرن آؤٹ اس سے کہیں زیادہ ہوتا۔
تجزیہ کار اور سابق نگران وزیر اعلیٰ پنجاب حسن عسکری رضوی کہتے ہیں کہ حکومتی جماعت نے اپنے جیتے ہوئے چار قومی اسمبلی کے حلقوں میں ناکامی سے اپنی ساکھ خراب کی ہے جس کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے بڑی وجہ بڑے بڑے دعوؤں کے باوجود معیشت کی بگڑتی ہوئی صورت حال، دوسری وجہ سابق حکمرانوں پر کرپشن کے الزامات لگا کر ان کا ثابت نہ ہونا اور تیسری وجہ مس مینجمنٹ اور ناقص کارکردگی ہے۔
اس معاملے پر سینئر صحافی سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی پانامہ کیس میں نااہلی کے فیصلے سے سیاسی رہنماؤں کی کرپشن کے الزامات پر گرفتاریوں کے باوجود عوام میں یہ تاثر قائم نہیں ہوسکا کہ موجودہ حکمرانوں کے دعوے سچے تھے۔ اس کی نسبت حکومتی بیانیہ کے مخالف عوام میں اپوزیشن رہنماؤں کی ہمدردیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ حکومتوں پر الزامات تو ضرور لگے لیکن معاشی صورت حال پہلے سے بھی خراب ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کابینہ، اداروں کے سربراہان اور محکموں کے اندر عہدیداروں کی مسلسل تبدیلیاں بھی عدم اطمینان کا باعث بن رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی موجودہ حکمرانوں سے سابقہ کے مقابلہ میں توقعات تھیں وہ بھی پوری نہ ہوسکیں۔ بڑے منصوبے بھی دکھائی نہیں دیے جب کہ ملکی قرض پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گئے جب کہ موجودہ حکمران سابق حکومتوں پر بیرونی قرضے لینے سے متعلق تنقید کرتے آئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ ایسے اسباب ہیں جو عوام میں حکمران جماعت پی ٹی آئی کی مقبولیت کم کر رہے ہیں۔
سہیل وڑائچ کے مطابق پی ٹی آئی جب اپوزیشن میں تھی تو 2013 کے الیکشن ہوتے ہی اس نے دھاندلی کا الزام لگا دیا اور ن لیگ کی حکومت سے چار حلقے کھولنے کا مطالبہ کیا تھا جو منظور نہ ہونے پر طویل دھرنا بھی دیا گیا تھا۔ ان کے مطابق جب 2018 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کامیاب ہوئی تو موجودہ اپوزیشن نے بھی دھاندلی کا الزام لگایا، عوامی رابطہ مہم بھی جاری ہے مگر ان حالات میں یوں پی ٹی آئی کا چار حلقوں میں کامیابی کے بعد شکست کھا جانا موجودہ اپوزیشن کے الزام کو تقویت دینے کے مترادف ہے۔
