پی ٹی آئی کے رہنما سیف اللہ ابڑو نے الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ چیلنج کر دیا

پی ٹی آئی رہنما سیف اللہ ابڑو نے الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ چیلنج کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق سیف اللہ ابڑو کا مؤقف ہے کہ الیکشن ٹربیونل نے حقائق کو نظر انداز کیا اور میں ٹیکنوکریٹ کی تشریح پر پورا اترتا ہوں۔ انہوں نے استدعا کی ہے کہ الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔ پاکستان تحریک انصاف نے سندھ سے جنرل نشست پر فیصل واؤڈا اور ٹیکنو کریٹ سیٹ پر سیف اللہ ابڑو کو امیدوار نامزد کیا تھا۔
یاد رہے کہ الیکشن ٹربیونل نے فیصل واوڈا کو سینیٹ الیکشن کےلیے اہل جب کہ سیف اللہ ابڑو کو نا اہل قرار دیا تھا۔
خیال رہے کہ دو روز قبل الیکشن ٹریبونل میں پاکستان تحریک انصاف رہنما سیف اللہ ابڑو کے سینیٹ الیکشن میں ٹیکنو کریٹ کی نشست پر حصہ لینے سے متعلق کاغذات نامزدگی منظور ہونے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران ان کے وکیل نے کہا کہ سیف اللہ ابڑو کے خلاف الیکشن ٹریبونل میں اپیل ناقابل سماعت ہے، الیکشن قوانین کے مطابق اپیل کنندہ کی اپیل کو سنا بھی نہیں جاسکتا جب کہ سیف اللہ ابڑو کے خلاف اپیل کرنے والے مصطفٰی میمن خود اُمیدوار بھی نہیں۔ اس موقع پر وکیل اپیل کنندہ رشید اے رضوی نے کہا کہ اگر ٹھیکیدار کو ٹیکنوکریٹ کا اُمیدوار تسلیم کریں گے تو کل سینیٹ ٹھیکیداروں سے بھری ہوئی ہوگی۔ وکیل اپیل کنندہ رشید رضوی کے دلائل پر کمرہ عدالت میں قہقہے گونج اٹھے۔ بعد ازاں الیکشن ٹریبونل نے سیف اللہ ابڑو کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف اپیل منظور کرلی اور انہیں سینیٹ انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا۔ الیکشن ٹریبونل نے ریٹرننگ افسر کا فیصلہ کالعدم قراردیتے ہوئے کہا کہ سیف اللہ ابڑو کے خلاف اپیل میں لگائے گئے اعتراضات ثابت ہوچکے ہیں اور وہ ٹیکنوکریٹ کے معیار پر پورا نہیں اترتے۔ جس کے بعد الیکشن ٹربیونل نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے سیف اللہ ابڑو کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دئے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button