پی ٹی آئی کے یوتھیوں نے قاسم علی شاہ کی دھلائی کیوں کی؟

تحریک انصاف کے یوتھیوں کی جانب سے معروف ’موٹیویشنل سپیکر‘ قاسم علی شاہ کیخلاف سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی مہم اب ان کے خاندان تک پہنچ گئی ہے، سوشل میڈیا وہ جگہ ہے جہاں کوئی بھی کسی بھی وقت ٹرولنگ کی زد میں آ سکتا ہے۔ چاہے پھر وہ نامور شخص ہو یا پھر کوئی عام آدمی۔ اکثر تو ایسا بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ کوئی بھی سوشل میڈیا صارف آپکی ویڈو یا آپ سے منسلک کوئی مواد اپنے اکائونٹ پر ڈالتا ہے جو وائرل ہو جاتا ہے جس کے بعد آپ کی ٹرولنگ شروع ہو جاتی ہے۔

یاد ریے کہنحال ہی میں ’موٹیویشنل سپیکر‘ قاسم علی شاہ کی چند ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں جن کے بعد ان کی ٹرولنگ شروع ہو گئی۔ یہ ٹرولنگ تب شروع ہوئی جب انھوں نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے لاہور میں ملاقات کے اگلے ہی روز وزیراعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کر ڈالی۔ عمران خان سے ملاقات کے بعد قاسم علی شاہ کی جو ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں ان میں وہ کپتان کی تعریف کرتے دکھائی دیتے تھے۔ لیکن پھر ان کے چند ایسے کلپس بھی سامنے آئے جن میں وہ بظاہر کسی محفل میں عمران خان پر تنقید کر رہے ہیں۔ اس کے فوری بعد پی ٹی آئی کے یوتھیوں کی جانب سے قاسم علی شاہ کے خلاف شدید ٹرولنگ کا سلسلہ شروع کردیا گیا۔ قاسم علی شاہ نے اس ٹرولنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی والے اتنے بدلحاظ ہوچکے ہیں کہ ان کے علاوہ ان کے بچوں کی بھی ٹرولنگ کر رہے ہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’میں نے کون سا جرم کر دیا ہے، مجھے بتایا جائے؟‘

اس حوالے سے ایک ویڈیو کلپ بھی سوشل میڈیا پر موجود ہے جس میں وہ بتا رہے ہیں کہ ان کے بیٹے نے انھیں کال کر کے کہا کہ پاپا میری پوری کلاس مجھے بُلی کر رہی ہے، کہ تیرے باپ نے کیا کیا ہے، اس کے بعد وہاں موجود لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے قاسم علی شاہ نے پوچھا کہ میں نے کون سے جرم کر دیا ہے، مجھے بتائیں؟ یار کسی کے درد کو محسوس کر کے دیکھیں۔ اس کلپ کے وائرل ہونے کے بعد کچھ صارفین ایسے بھی ہیں جن کا خیال ہے کہ کسی بھی بچے کو ٹرول کرنا غلط ہے، یہ اس نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے جس میں ٹرول کیے جانے والے شخص کے ساتھ ساتھ اس کے بچوں اور خاندان کو بھی ٹرولنگ کا نشانہ بنایا گیا ہو۔ ماضی میں زیادہ تر ایسے واقعات کی مثالیں دیکھیں تو ان کا سرا بھی سیاست سے ہی جا کر ملتا ہے۔ سیاست میں اختلاف رائے رکھنے یا عدم برداشت کا مظاہرہ کرنا ایک عام سی بات بنتی جا رہی ہے جس سے بچے بھی محفوظ نہیں ہیں۔

ماضی کی ان مثالوں میں اینکر پرسن اور صحافی عاصمہ شیرازی بھی شامل ہیں۔ اپنے کام کی نوعیت کی وجہ سے رپورٹنگ کرنا ان کا فرض ہے لیکن اگر وہ رپورٹ کسی مخصوص پارٹی کے حق میں نہ ہو تو انھیں ٹرول کیا جاتا ہے۔ عاصمہ شیرازی کا کہنا ہے کہ ٹرولنگ کا یہ سلسلہ کئی سالوں سے چل رہا ہے اور اس میں خواتین بھی شامل ہوتی ہیں، میرے اور حامد میر کے گھروں کا پتہ تک ان لوگوں نے سوشل میڈیا پر وائرل کر دیا تھا جس کے بعد میرے گھر میں دو مرتبہ نامعلوم افراد گھسے۔ ہمیں اور ہمارے خاندان کے لوگوں کو ہراساں کیا جاتا ہے لیکن ہم نے کبھی پلٹ کر کسی کو جواب نہیں دیا۔ عاصمہ شیرازی کے علاوہ دیگر صحافی بھی اکثر ٹرولنگ کی زد میں رہتے ہیں۔ لیکن ماضی میں عمران خان پر تنقید کرنے والے لوگوں اور انکے بچوں کو تنقید کا نشانہ بنانے کے ساتھ ان پر مختلف قسم کے الزامات بھی لگائے گئے، سوشل میڈیا پر بچوں اور فیملی کی ٹرولنگ کے بڑھتے ہوئے منفی رجحان کے بارے میں زیادہ تر سوشل میڈیا ماہرین کا یہ خیال ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں ایسی مثالیں بڑھتی جا رہی ہیں جو معاشرے کے لیے نقصان دے ہیں اور ایسے رویوں کے اثرات نفسیاتی طور پر ٹرولنگ کا نشانہ بننے والے پر پڑتے ہیں۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ عمران خان خود اپنے فالورز کو اپنے مخالفین کے خلاف ایکشن لینے پر اکساتے ہیں۔ اس کا اندازہ یہاں سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اقتدار سے بے دخلی کے بعد اپنے محسن جنرل قمر جاوید باجوہ کی بھی ٹرولنگ کی اور کروائی۔

اس بارے میں ماہر نفسایات ریحا آفتاب کا کہنا ہے ہر شخص سوشل میڈیا پر اپنی ذہنیت، زبان اور مرضی کے مطابق بات کرتا ہے کیونکہ سوشل میڈیا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جسے ہر طرح کا شخص استعمال کرتا ہے۔ اس لیے وہاں اچھے لوگوں کے ساتھ ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو کمنٹ کرتے ہوئے تمیز اور تہذیب سب بھول جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ٹرولنگ خواتین اور بچوں تک پہنچ جاتی ہے تو آپ دیکھیں گے ان پر ہر قسم کے کمنٹ بھی کیے جاتے۔ ان کی زندگی کے ہر پہلو کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ٹرولنگ کرنے والا شخص یہ نہیں سوچتا ہے کہ اس سب سے ان کی زندگی مزید مشکل بن جاتی ہے جس کا ذاتی زندگی پر بھی بہت گہرا اثر پرتا ہے۔ آپ کی عزت خراب ہوتی ہے، آپ کی فیملی، جس میں بچے بھی شامل ہیں ان پر برا اثر پڑتا ہے۔ تو ہر جگہ پر وہ بندہ صدمے سے دوچار ہوتا ہے۔

وہ کہتی ہیں ایسے واقعات سے بچے خصوصی طور پر زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ ان کیلئے چیزوں کو سمجھنا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ اس سے نفسیاتی طور پر بچوں پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے، ان کے اندر ڈر اور خوف بیٹھ جاتا ہے، جیسا کہ سوتے ہوئے بُرے خواب آ سکتے ہیں، وہ واقعہ یا باتیں آپ کو ہر وقت تنگ کر سکتی ہیں، انسان ڈرا ڈرا رہتا ہے، لوگوں سے ملنا اور گھر سے نکلنا چھوڑ دیتا ہے، یہ وہ تمام اثرات ہیں جو اس شخص کی زندگی کو بدل کر رکھ دیتے ہیں۔

Back to top button